تحریر : اسلم اعوان تاریخ اشاعت     09-03-2021

دنیا کا مستقبل جنگوں سے وابستہ ہے؟

صدر جوبائیڈن نے یمن میں جاری فوجی مہم کیلئے امریکی حمایت روک کے اور خطے کے ممالک کے مابین چھ سال سے جاری پراکسی وار کے خاتمے کیلئے ماہر سفارتکارٹموتھی لینڈرنگ کو یمن کیلئے خصوصی مندوب نامزد کر کے جنگ کے خاتمے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے دورے کے موقع پر صدر بائیدن نے کہا: اس جنگ کو ختم ہونا ہے، اِسی مقصد کے پیش نظر یمن جنگ میں اسلحے کی فروخت سمیت تمام جارحانہ کارروائیوں کیلئے امریکی امداد روک دی گئی ہے؛ تاہم صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ چونکہ سعودی عرب سمیت یو اے ای کو میزائل حملوں کے خطرات درپیش ہیں، اس لئے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے مدد جاری رکھیں گے۔ سعودی عرب نے ملکی سلامتی کیلئے امریکی صدرکے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن کی تقریر اتحادیوں کے ساتھ مل کے کام کرنے کے امریکی عزم کا اعادہ تھی۔
فوجی اتحاد نے 2015ء میں یمن میں فوجی مہم شروع کی تھی جس کے ذریعے حوثی مزاحمت کاروں کے خلاف لڑنے والی سرکاری فوج کی پشت پناہی کی گئی لیکن اس جنگ کے مہلک اثرات نے یمنی عوام کے علاوہ سعودی عرب اور خطے میں پھیلے ایرانی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اقوام متحدہ نے اس جنگ کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے یمن کی 80 فی صد سے زائد آبادی کے قحط کا شکار بن جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آج جب معاشی بحران، افراطِ زر اور وبائی مرض کی وجہ سے یمن کا بحران بدترین مرحلے میں داخل ہوا تو امریکی حکام مذاکرات کی بحالی کے ذریعے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کچھ دن قبل تک مغربی تجزیہ کار امریکی مقتدرہ کے اصل عزائم کی پردہ پوشی کیلئے یہی کہتے رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس توقع پہ دبائو بڑھانے کی خاطر یمن پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کی مہم چلا رہی ہے کہ تہران کو جوہری پروگرام روکنے کیلئے بات چیت پر مجبور کیا جاسکے اورچند ایک یہ بھی کہتے رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنرکے پیشِ نظر مڈل ایسٹ پالیسی کے بجائے اولین ترجیح سعودی شاہی خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات نبھانا تھی، جس سے یمن میں شہری ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے سے انسانی بحران گہرا ہوتاگیا، اس لئے اب ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں نے امریکی فوجی امداد بند کرنے کے مطالبات اٹھائے ہیں۔ بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے گزشتہ دنوں کہا کہ یمن میں سعودی فوجی کارروائیوں کیلئے امریکی حمایت کے خاتمے کا اطلاق القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف جاری جنگ پہ نہیں ہو گا۔ اُسی روز امریکی ترجمان سٹیفن ڈوجرک کا بیان بھی سامنے آیا کہ فوجی سرگرمیوں کیلئے ہتھیاروں کی فراہمی میں کمی کے اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا، اس سے نہ صرف مذاکرات کو زیادہ جگہ ملے گی بلکہ یمنی عوام کو امید بھی دی جائے گی۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے حکمرانوں کے سامنے یہ سوال اہم ہو گا کہ امریکا پہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟پچھلے دس سالوں میں جس تیزی کے ساتھ امریکی مقتدرہ نے اپنی چالیں بدلی ہیں اُس نے مڈل ایسٹ سمیت پوری دنیا میں تشدد کے رجحان کو بڑھاوا دیا ہے۔ بلاشبہ اس عہد جدید کے تنازعات نہایت پیچیدہ اورجنگوں کے نتائج زیادہ ہولناک ثابت ہوئے کیونکہ ان میں بنیادی طور پر انسانی جانوں کی قیمت پہ معاشی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی خاطر کئی نسلوں کے مستقبل کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ اس لئے تیسری دنیا کی اقوام کو داخلی سیاسی تنازعات کو بڑھانے سے قبل اتنا ضرور سوچ لینا چاہیے کہ بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع نہ مل جائے۔ اِسی رجحان کی کلاسیکی مثال مڈل ایسٹ کی وہ ریاستیں ہیں جو کسی طلسماتی سوچ کے زیر اثر نہایت بے باکی کے ساتھ ایک غیرمختتم جنگ میں اتر گئیں اور اپنے تحفظ کیلئے بیرونی طاقتوں کو بلا کے اس خطے کو ایسی مہیب تباہی سے دوچار کر دیا جس کا مدوا ممکن نہیں رہا۔
اگر ہم غور سے دیکھیں تو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ بھی سعودی عرب اور ایران کو براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلنے کی ایک کوشش تھی لیکن خوش قسمتی سے دونوں مملکتیں ایک بے مقصد جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹ گئیں۔ مڈل ایسٹ کے امور پہ نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطوں بارے کچھ خبریں موصول ہو رہی تھیں، اسی لئے جنرل قاسم سلیمانی کا قتل کر کے عرب، ایران عداوتوں کی خلیج بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے وقت وائٹ ہائوس میں داخل ہوئی جب اس خطے میں تبدیلیوں کا طوفان اُمڈ رہا تھا، خاص طور پر سعودی عرب میں نئی قیادت اپنی اصابت کا جواز ڈھونڈ رہی تھی، اب بھی وہ اپنی سمت کا تعین کرنے میں مشغول ہے۔ ایران‘ امریکا جوہری معاہدے کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، سوال یہ تھا کہ ان تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ دوسری طرف وائٹ ہائوس میں یہ احساس پروان چڑھنے لگا تھا کہ سب کچھ گرفت میں آ گیا ہے۔ بظاہر لگتا تھا کہ اوباما انتظامیہ آہستہ آہستہ خطے میں طاقت کاتوازن قائم کر کے مڈل ایسٹ سے فوج نکال لے گی لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ نے ایک مختلف نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے بری و بحری افواج کی تعداد میں اضافہ اور جوہری معاہدہ سے نکل کے ایران پر پابندیوں بڑھا دیں، یعنی ایک جنبش قلم سے تمام تر ارادوں اور مقاصد کے تحت سفارت کاری کا حصول ترک کرکے جنگ کو وسیلہ بنا لیا۔ امریکی دانشور کہتے ہیں کہ واشنگٹن کی مخصوص عادات ہیں‘ جسے وہ ترک نہیں کر پائے گا اور نازاں قوم کی سوچ کا محور یہ خیال ہے کہ ہر مسئلے کا ایک 'میڈ اِن امریکا‘ حل ہے، دنیا جس کے نفاذ کی ہمہ وقت منتظر رہتی ہے، اس کے بعد وہ اپنی پالیسیوں میں ہر پہلو سے قومی اور نجی مفادات کو ایڈجسٹ کرتے ہیں لیکن اب ان میں متوازن عوامل کے ذریعہ توازن پیدا نہیں کیا جا رہا۔
مڈل ایسٹ سے تعلق رکھنے والے مختلف اتحادی ممالک مالی وسائل کے ذریعے امریکی پالیسی کی تشکیل پہ اثرانداز ہوتے ہیں‘ خاص طور پر خلیجی ریاستیں جو خریداری کی حکمت عملی اپناتی ہیں۔ امریکی پالیسی کو کسی خاص رخ میں فکس کرنے کیلئے وہ اسلحے کی کافی بڑی مقدار کی خریداری کرکے اپنے مفادات کا دفاع کرتی ہیں، یہاں بھی سٹریٹ لابنگ کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے جو خلیجی ریاستوں کیلئے مخصوص نہیں، عملی طور پر ہر ایک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن کچھ کے پاس دوسروں کے مقابلے میں اس کام کیلئے وسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مڈل ایسٹ میں امریکی فوج کی تعیناتی اب مستقل حقیقت بنتی جا رہی ہے، یہ ایسی سچائی ہے جو اتنی آسانی سے جھٹلائی نہیں جا سکے گی۔ یہاں تک کہ کئی سابق امریکی صدور نے کئی بار کہا کہ وہ مغربی ایشیا سے اپنی فوجیں نکالیں گے لیکن آج بھی مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں 60سے 70ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، تقریباً اتنے ہی خلیج میں بھی 5 ویں بحری بیڑے کے ساتھ موجود ہیں۔ اسی طرح اب چین کے ساتھ محاذ آرائی بھی امریکا کیلئے واضح مقصد بنتی جا رہی ہے۔ امریکا کو اب مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی کی ضرورت نہیں رہی‘ اگر چین یہاں سے توانائی فراہمی کا بڑاصارف بن گیا تو چین ان سپلائیوں کو محفوظ بنانے کا اہتمام بھی کرسکتا ہے۔ جب ایشیا عالمی مقابلے کا تھیٹر بنا تو کیا امریکا مشرقِ وسطیٰ کی طرح جنوبی ایشیا میں بھی فوجوں کی مستقل تعیناتی کرے گا؟ امریکا نے ''فری اینڈ اوپن انڈو پیسفک‘‘ کی اصلاح استعمال کی، یہ محض اتفاق نہیں تھابلکہ یہ چین کے مقابلہ میں امریکی عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔ بہرحال امریکا کیلئے اسرائیل کو سیاسی طور پر چھوڑنا آسان نہیں تو خلیجی ریاستیں اپنی بقا کے حوالے سے امریکی مقتدرہ پہ یقین کیسے کرسکتی ہیں؟ کیا عصری حالات میں جنگی حکمت عملی کے بجائے چین کا علاقائی توازن کا آپشن زیادہ سود مند ثابت نہیں ہورہا؟ایسا لگتا ہے کہ امریکا اپنی بے مثال جنگی صلاحیت کے اختتامی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved