تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     14-03-2021

رمضان‘ مہنگائی‘ ٹڈی دَل اور لاک ڈاؤن

سب سے پہلے تو شکر ادا کریں کہ سینیٹ الیکشن مکمل ہوئے ۔ صادق سنجرانی صاحب کو مبارکباد اور پی ڈی ایم سے اظہارِ افسوس۔ خریدو فروخت کا بازار ٹھنڈا ہوا۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ عوامی مسائل پر بھی توجہ دی جائے گی۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مہنگائی تو کبھی واپس گئی ہی نہیں تھی‘ لیکن میں آپ کو ایک نوید سنانے جا رہا ہوں۔ رمضان المبارک سے چند دن پہلے اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کر دی جائیں گی‘ لیکن ایک بُری خبر یہ ہے کہ اس سے پہلے قیمتیں بڑھائی جائیں گی۔ مثال کے طور پر پچاس روپے فی کلو قیمت بڑھا کر رمضان سے دو دن پہلے بیس روپے فی کلو کم کر دی جائیں گی ۔ عوام خوش ہو جائیں گے لیکن انہیں کون سمجھائے کہ یہ دھوکہ ہے ۔ خالص تیس روپے فی کلو کا نقصان۔ جنوری کے مقابلے میں فروری میں مہنگائی تین فیصد بڑھی ‘ اب مارچ میں فروری کے مقابلے میں کتنا اضافہ ہو گا یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے ۔ دوسری طرف قرضوں میں اضافے کی دوڑ جاری ہے ۔ ویسے تو موجودہ حکومت یہ ریس (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سے پہلے ہی جیت چکی ہے لیکن نیا ریکارڈ قائم کرنے کی خواہش شاید ابھی دل میں ہی ہے اس لیے ٹڈی دَل سے بچاؤ کے لیے ورلڈ بینک سے دو سو ملین ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مگر اعدادوشمار کے مطابق آدھی سے زیادہ رقم کیڑوں کو مارنے والی ادویات خریدنے کی بجائے دیگر کاموں میں خرچ کی جائے گی‘ اس کا فیصلہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ صاحب نے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ای سی این ای سی)کے اجلاس میں کیا ہے ۔
پلاننگ منسٹری کے ایک ذریعے نے اندر کی خبر دی ہے کہ لوکسٹ ایمرجنسی اینڈ فوڈ سکیورٹی پراجیکٹ کو منظوری سے پہلے ایک تفصیلی وقت درکار ہوتا ہے جس کو نظر انداز کر دیا گیا اور ایک منٹ میں منظوری دے دی گئی۔ یعنی دو سو ملین ڈالرز کا مزید قرض لینے سے پہلے ایک منٹ بھی نہیں سوچا گیا۔ شاید اربوں ڈالر قرض لینے کے بعد چند کروڑ ڈالرز معمولی رقم محسوس ہوتی ہو گی۔ اس لیے زیادہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ آفیشل کاغذات کے مطابق فائل ورک مکمل کیے بغیر ہی ای سی این ای سی کے اجلاس میں اسے پیش کر دیا گیا۔ اس بجٹ میں کسانوں کی مدد کرنے کی بجائے زیادہ توجہ تین سو دس ڈبل کیبن گاڑیاں‘ دو سو لپیٹ ٹاپ خریدنے اور تین سو بائیس نئی نوکریوں پر قبضہ جمانے کی طرف ہے ۔ پچھلے سال ٹڈی دَل سے پہنچنے والے نقصان کے بعد ستمبر 2020ء میں ای سی این ای سی نے وزرات خوراک کو فوراً لائحہ عمل طے کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جس پر جنوری 2021ء تک کوئی کام نہیں ہوا تھا۔ پچھلے ماہ پرانی رپورٹوں میں تھوڑی بہت تبدیلی کے بعد نامکمل فائل اجلاس میں پیش کر دی گئی ۔گاڑیوں کی قیمت زیادہ ہونے پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سنگل کیبن گاڑیاں خریدی جائیں گی لیکن اجلاس میں اس پر کوئی بات ہی نہیں کی گئی لہٰذا بتیس ارب روپوں کے ٹوٹل بجٹ میں سے چار ارب ستر کروڑ روپے کی گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ غیر سنجیدگی کی یہ صورتحال ہے کہ لوکسٹ ایمرجنسی پراجیکٹ ای سی این ای سی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ اٹھائیس برسوں بعد‘ پچھلے سال ٹڈی دَل نے سندھ‘ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں ہزاروں ایکڑ پر پھیلی فصلیں تباہ کر دی تھیں۔ یکم فروری 2020ء کو قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ ٹڈی دل سے نمٹا جا سکے ۔ فوج کی مدد بھی حاصل کی گئی ۔ اس سال کیا حکمت عملی اپنائی جاتی ہے‘ کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ کسانوں کا بھلا ہو یا نہ ہو بابوؤں کے وارے نیارے ضرور ہو جائیں گے ۔
عام عوام کی قسمت میں شاید پریشانی لکھی جا چکی ہے ۔ اب مقدر کا لکھا بھلا کون ٹالے ۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے بعد حکومت نے عوام کے لیے ایک اور مصیبت کھڑی کر دی ہے ۔ اعلان ہوا ہے کہ پنجاب کے کچھ اضلاع میں پندرہ روز کے لیے لاک ڈاؤن لگایا جائے گا۔ شادی ہال‘ سکولز‘ تعلیمی ادارے ‘ پارکس‘ مزارات اور تفریحی مقامات بند کیے جائیں گے ۔ شاپنگ مالز اور دکانوں کو شام چھ بجے بند کیا جائے گا۔ پچھلے سال بائیس مارچ کو جو لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا اس نے کاروباری طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ ایک برانڈ کی فرنچائز چلانے والے صاحب بتا رہے تھے کہ ان کی دکان کا ماہانہ کرایہ چھ لاکھ روپے ہے ۔ تین ماہ بند رہنے سے اٹھارہ لاکھ روپے کا نقصان ہو گیا۔ اگر ملازموں کی تنخواہیں بھی ڈال دی جائیں تو بائیس لاکھ روپے تک نقصان پہنچ گیا ۔ پچھلے مہینوں میں جو منافع ہو رہا تھا وہ بائیس لاکھ کا نقصان پورا کرنے میں ادا ہو رہا ہے ۔ اب بتائیے کہ کروڑوں کی سرمایہ کاری میں پورا ایک سال کچھ نہیں کمایا۔ جب مالک سے دکان کا کرایہ کم کرنے کی بات کی تو اس نے عدالت جانے کی دھمکی دے دی۔ اسے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دکان بند رہی ہے تو کرایہ کہاں سے ادا کروں لیکن وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ اس کے علاوہ شادی ہال والوں کے حالات بھی بہت پتلے ہیں۔ نہ پچھلے سال سیزن لگا اور اس سال جب شادیوں کی بکنگ لی جا چکی ہیں تو حکومت نے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پوری دنیا کھل گئی ہے ۔ ویکسین آ چکی ہے اور لوگوں میں آگاہی بھی پیدا ہو چکی ہے تو لاک ڈاؤن کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر کچھ کرنا ہے تو ایس او پیز کو سخت کر دیں۔ اگر مارکیٹ شام چھ بجے بند ہو تو کیا کورونا مارکیٹس میں داخل نہیں ہو گا۔شام چھ بجے مارکیٹ بند کرنے یا رات گیارہ بجے بند کرنے سے کورونا کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر تکلیف ہو گی تو کاروباری حضرات کو ہو گی کیونکہ گاہک شام چھ بجے کے بعد ہی مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں ۔ سارا دن نوکری سے فارغ ہو کر شام کا وقت ہی ہوتا ہے خریداری کا۔ چھ بجے دکانیں بند کرنے کا مطلب ہے کہ پرائم ٹائم کا استعمال نہیں ہو گا لیکن اس کے برعکس دکانوں کے کرائے ‘ ملازمین کی تنخواہ‘ بجلی کے بل‘ حکومت کے ٹیکس ویسے ہی ادا کرنا پڑیں گے ۔ سرکار کو عوامی مشکلات کا اندازہ نہیں ہے ‘ سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر قلم ہلانے والے کیا جانیں کہ کاروبار سے ایک ایک روپیہ کیسے کمایا جاتا ہے ۔بلکہ کئی مقامات پر جلدی دکانیں بند کرنے سے کورونا کیسز بڑھنے کا خدشہ زیادہ ہو جاتا ہے کیونکہ وقت کم ہوتا ہے اور لوگ اسی وقت میں سامان خریدنے کے لیے دکانوں میں ایسے گھستے ہیں جیسے حملہ آوار ہوں۔ اس جلدی میں دکانوں پر ضرورت سے زیادہ رش ہو سکتا ہے اور کورونا پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ اگر کوئی قابل عمل اور مثبت تجویز ہے تو وہ دکانوں اور مارکیٹوں میں ایس او پیز کے نظام کی سخت نگرانی کرنا ہے ۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں۔ یہی بہترین حل ہے ۔
شادی ہالز کے حوالے سے یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ بند ہالز میں کوئی تقریب نہیں ہو گی۔ اگر مارکی مالکان مارکی کی چھت کھول دیں تو تقریب ہو سکتی ہے ۔ کیا یہ اصول مضحکہ خیز نہیں ؟ کورونا سانس کے ذریعے پھیلتا ہے چاہے آپ کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہوں یا بند ہال میں موجود ہوں‘ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر یہ خیال ہے کہ کھلی چھت سے دھوپ حال میں داخل ہو گی اور کورونا کے جراثیم مر جائیں گے تو یہ غلط فہمی ہے کیونکہ کورونا کے جراثیم تقریباً سو ڈگری یعنی نقطہ ٔابال پر مرتے ہیں۔ صرف دھوپ کے ہال میں داخل ہونے سے کورونا کے جراثیموں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ ہوا کے کراس کرنے سے بھی کورونا کے جراثیموں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سرکار اگر کوئی قانون بناتی ہے تو اس کی لاجک کو مدنظر رکھ لیا کرے ۔ مکھی پر مکھی مارنا مسائل کو حل نہیں کرتا۔ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے عوام سے ہی رجوع کیا جانا چاہیے ۔ وہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ اصل حل کیا ہے اور وہ کس طرح قابل عمل ہو سکتا ہے ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved