تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     17-03-2021

کاک ٹیل

میں گرفتار ہوئی تو نواز شریف باہر سے قیادت کریں گے: مریم
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''مجھے گرفتار کیا گیا تو نواز شریف باہر سے قیادت کریں گے‘‘ کیونکہ ویسے بھی باقی عمر انہوں نے باہر سے ہی قیادت کرنی ہے، اگر انہوں نے واپس آنا ہوتا تو جس کمر توڑ کوشش کے بعد وہ لندن گئے ہیں‘ ایسا نہ کرتے، جبکہ باہر سے قیادت مجھے بھی بہت مرغوب ہے جس کے لیے دن رات تدبیریں کی جا رہی ہیں کیونکہ اب ہم قیادت ہی کر سکتے ہیں اور وہ بھی باہر سے، کیونکہ اب ملک میں اندر سے قیادت کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
ن لیگ کی تاریں لندن سے ہلائی جاتی ہیں: فردوس عاشق
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ''ن لیگ کی تاریں لندن سے ہلائی جاتی ہیں‘‘ جبکہ کچھ عرصے پہلے تک تو ہم خود حیران تھے کہ آخر اس کی تاریں کون ہلا رہا ہے جس کے لیے ایک کمیٹی میری سربراہی میں قائم کی گئی تھی جس نے کافی تفتیش اور غور و خوض کے بعد بالآخر یہ مسئلہ حل کر لیا ہے اور کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ن لیگ کی تاریں لندن سے ہلائی جاتی ہیں جبکہ اس انکشاف پر مجھے مبارکبادیں موصول ہو رہی ہیں لیکن کبھی اس ذہانت پر غرور نہیں کیا اور اسے صرف خدا کی دین سمجھتی ہوں کہ جس پر وہ خصوصی طور پر مہربان ہوتا ہے اسے ایسی نعمت سے فیضیاب کر دیتا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
سینیٹ الیکشن کے بعد ہمارا اتحاد زیادہ مضبوط ہوا ہے: کائرہ
پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر اور مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ''سینیٹ چیئر مین کے الیکشن کے بعد ہمارا اتحاد زیادہ مضبوط ہوا ہے‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ جس معرکے میں ہمیں شکست ہوتی ہے اس کے بعد ہمارا اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے اس لیے ہماری خواہش ہے کہ ہمارا لانگ مارچ اور دھرنا بھی ناکام ہو جائے تاکہ ہمارا اتحاد مزید مضبوط ہو سکے کیونکہ ہمارا سارا زور اپنے اتحاد پر ہے کہ یہ روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے کہ اتحاد اپنی مضبوطی ہی سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ شکست و فتح بالکل عارضی چیز ہوتی ہے کیونکہ اگر ہم جیت جائیں لیکن ہمارا اتحاد ہی کمزور ہو جائے یا باقی نہ رہے تو اس کا کیا فائدہ کہ پارٹیاں اور اتحاد تبھی زندہ رہتے ہیں اگر ان کی مضبوطی برقرار رہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
نوازشریف، زرداری اور مولانا صاحب سیاست
چھوڑ کر اللہ اللہ کریں: جلیل احمد شرقپوری
نواز لیگ کے ناراض رکن جلیل احمد شرقپوری نے کہا ہے کہ ''نواز، زرداری اور مولانا سیاست چھوڑ کر اللہ اللہ کریں‘‘ اگرچہ وہ پہلے ہی اس قدر برگزیدہ اور پہنچے ہوئے لوگ ہیں کہ ممکن ہے انہیں اس کی ضرورت نہ ہو؛ تاہم اگر ان کے فضائل میں مزید اضافہ ہو جائے تو کیا برا ہے کیونکہ یہ سب پیری مریدی کا کام بھی نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سر انجام دے سکتے ہیں جبکہ قوم کو ڈبہ پیروں سے بھی نجات مل جائے گی اور اگر قوم کو اصلی پیر میسر آ جائیں تو اس کی ڈوبتی نیّا پار ہو سکتی ہے بلکہ وقت پڑنے پر یہ حضرات جھاڑ پھونک وغیرہ بھی کر سکیں گے۔ آپ اگلے روز شرقپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
استعفے مولانا کے حوالے کرنے کو تیار ہیں: نواز شریف
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''تمام لیگی ارکانِ اسمبلی کے استعفے مولانا کے حوالے کرنے کو تیار ہیں‘‘ کیونکہ میں نے تو پارٹی کے مستقبل کے ساتھ سب کچھ دائو پر لگا دیا ہے، اگرچہ ان استعفوں کے منظور ہونے کی نوبت نہیں آئے گی، اور پیپلز پارٹی کبھی استعفے نہیں دے گی کیونکہ استعفوں کے ساتھ اسے سندھ کی حکومت بھی چھوڑنا پڑے گی جبکہ ہمارے پاس چھوڑنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے سوائے استعفوں کی دھمکیوں کے، پھر وہ کچے کھلاڑی نہیں ہیں اور اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ حکومت کے گرنے کا اگر کوئی فائدہ ہوا تو وہ انہیں نہیں بلکہ ہمیں ہو گا، نیز اگر کل کو عام انتخابات کے موقع پر ہم نے پھر دست و گریباں ہونا ہے تو اب بغل گیر کیسے ہو سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز لندن سے فون پر مولانا سے بات کر رہے تھے۔
وائرس ویکسین اور بینائی کی کمزوری
عزیز از جان سرور سکھیرا نے اگلے روز فون پر پوچھا کہ کیا آپ نے ویکسین لگوا لی ہے؟ میرے انکار پر انہوں نے کہا کہ میں ابھی لگوا کر آیا ہوں، آپ لاہور ایکسپو سنٹر کے گیٹ نمبر ایک میں داخل ہو کر فوراً ویکسین لگوا لیں، چنانچہ میں کل ہی جا کر اس ضروری کام سے عہدہ برآ ہوا۔ واپسی پر جنید اقبال کے ہاں بھی گیا جس پر اس عزیز نے ویکسین ہی کے حوالے سے ایک لطیفہ سنایا کہ ایک صاحب ویکسین کا ٹیکا لگوا کر گھر پہنچے تو ڈاکٹر کو فون کر کے کہا: ڈاکٹر صاحب ! فوراً ایمبولینس بھجوائیے! ڈاکٹر کے وجہ پوچھنے پر موصوف بولے: ڈاکٹر صاحب انجکشن لگوانے کے بعد میری بینائی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ بہت دھندلا نظر آتا ہے۔ ''اصل بات یہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر بولا ''آپ ہماری نرس کی عینک لگا کر چلے گئے ہیں، براہِ کرم وہ بھجوا دیں اور اپنی منگوا لیں‘‘۔
اور‘ اب آخر میں ضمیر طالب کی تازہ غزل:
اک نیا روگ مداوے سے نکل آیا ہے
اک بھنور جیسے کنارے سے نکل آیا ہے
ڈھونڈتا پھرتا تھا میں اور کسی چہرے میں
وہ کسی اور ہی چہرے سے نکل آیا ہے
کھو گیا تھا جو کسی اور زمانے میں کہیں
وہ کسی اور زمانے سے نکل آیا ہے
وہ جو مفہوم ادا ہوتا نہیں تھا مجھ سے
وہ کسی دوسرے جملے سے نکل آیا ہے
تیری تدبیر تو کچھ خاص نہیں تھی‘ ورنہ
پھنسنا خود میرے ارادے سے نکل آیا ہے
میری تصویر کا جو رنگ کہیں کھو گیا تھا
تیری تصویر کے پردے سے نکل آیا ہے
اب صفائی نہ دے کچھ بھی نہیں حاصل ہوگا
یہ میرا دل ترے بستے سے نکل آیا ہے
ورنہ ویران تھا رستا، کہیں کوئی نہیں تھا
بس مرے غور سے دیکھنے سے نکل آیا ہے
مار دینا تھا مجھے ناروے کی سردی نے
ایک چہرہ کسی کونے سے نکل آیا ہے
روک رکھا ہے پہاڑوں نے فقط اس کا بدن
علی سدپارہ ہمالے سے نکل آیا ہے
مرگ سے ڈرتے ہیں جو بھی ہو نوید ان کو ضمیرؔ
جینے کا راستہ مرنے سے نکل آیا ہے
آج کا مقطع
میں روز اپنے کناروں سے دیکھتا ہوں‘ ظفرؔ
کہاں سے دور ہے دنیا‘ کہاں سے دور نہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved