تحریر : افضل رحمٰن تاریخ اشاعت     02-07-2013

خسارہ

ہمارے ہاں کافی لوگ ایسے ہیں جو اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ جس بُرج میں کسی فرد کی پیدائش ہوتی ہے اس فرد کی شخصیت میں اس بُرج سے منسلک خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ اگر آپ Astrology میں یقین نہ بھی رکھتے ہوں تب بھی دنیاوی سطح پر یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ صدیوں سے سال کو بارہ حصوں میں تقسیم کر کے‘ جس بُرج میں جن شخصیات کی پیدائش ہوئی اور بعدازاں ان کی جو خصوصیات نمایاں ہوئیں ان کا حساب رکھ کر اس فن کے ماہرین نے اندازے مقرر کیے ہیں۔ یہ اندازے تحریری شکل میں دنیا کی ہر زبان میں موجود ہیں۔ کئی گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ گفتگو میں جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاتون امید سے ہیں اور ڈاکٹروں نے بچے کی پیدائش کی جو متوقع تاریخ بتائی ہے اس کو سُن کر کہا جاتا ہے ’’اچھا تو Aries baby آ رہا ہے‘‘ یا ’’اچھا Leo بیٹا آنے والا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد مختلف بُرجوں کی خصوصیات پر بات ہونے لگتی ہے۔ مائیں شکایت کرتی ہیں کہ میری بیٹی Gemini ہے لہٰذا بہت تنگ کرتی ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس ۔ بعض لوگ ذاتی طور پر بُرجوں کی ان خصوصیات میں اس قدر پکا یقین رکھتے ہیں کہ زندگی کے بڑے بڑے فیصلے بُرجوں کے مبینہ اثرات کو پیش نظر رکھ کر کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے تردد کر کے Raphael\'s Almanac کی مدد سے اپنی زندگی کے زائچے بنوائے ہوتے ہیں۔ پھر اُن زائچوں سے زندگی بھر مدد لیتے رہتے ہیں۔ اخبار اور رسالوں میں‘ بُرجوں کے زیر اثر آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا اس کی تفصیل ایک مستقل کالم کی شکل میں شائع ہوتی ہے۔ آخر لوگ پڑھتے ہوں گے تب ہی تو ایسی باقاعدگی سے اس کی اشاعت ہوتی ہے۔ Astrology اور بُرجوں کے اثرات کے علاوہ علم الاعداد میں یقین رکھنے والے لوگ بھی بہت مل جائیں گے۔ ایسے لوگ سعد اور نحس کا کا حساب ہندسوں کی مدد سے رکھتے ہیں۔ ان لوگوں سے بات کریں تو تاریخ میں سے ایسے واقعات پیش کریں گے کہ آپ کا اپنا ایمان ڈانوا ڈول ہو جائے گا۔ مثلاً علم الاعداد میں یقین رکھنے والے ایک شخص نے سابق صدر جنرل ضیاء الحق کی موت کی تاریخ 17 اگست 1988ء کا تجزیہ اس طرح کیا کہ 17 ایک اور سات کا مجموعہ ہے لہٰذا آٹھ ہے۔ اگست آٹھواں مہینہ ہے لہٰذا آٹھ ہے اور 1988ء کے اعداد کو جمع کریں تو 26 بنے گا اس کو جمع کریں تو جواب آٹھ ہے۔ موصوف کا کہنا تھا کہ 888 نے جمع ہو کر جنرل ضیاء کے طیارے کو تباہ کیا۔ اسی طرح آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو گھر کرائے پر لیتے ہوئے یا گھر خریدتے ہوئے اس کا نمبر پیش نظر رکھتے ہیں اور اگر وہ نمبر ان کے حساب سے نحس ہو تو کم قیمت پر ملنے والا گھر بھی نہیں خریدتے۔ ہاتھ کی لکیروں پر چلنے والے اور Taro Card سمیت دیگر ایسے Black Arts کو ماننے والے بھی آپ کو بہت مل جائیں گے۔ ان سب چیزوں کو ہم توہمات کہہ سکتے ہیں مگر لوگوں کے ذہنوں میں ان کے جڑ پکڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ان طریقوں سے عمومی طور پر جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ اگر درست ہوں تو ان کا یقین اور پکا ہو جاتا ہے اور اگر درست نہ ہوں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے خود ہم سے ہی کوئی غلطی ہو گئی ہو۔ اس پیچیدہ صورتحال کی اور بھی تفصیل بیان ہو سکتی ہے جس کا ذکر برسوں پہلے میں نے اسلامیات کے ایک پروفیسر سے کیا جو ریڈیو پاکستان میں میری ملازمت کے دوران کسی مذہبی موضوع پر ریڈیو کے پروگرام ’’صراط مستقیم‘‘ میں تقریر نشر کرنے آئے تھے۔ کہنے لگے میاں آپ نے قرآن پاک میں سورہ عصر پڑھی ہے۔ میں نے عرض کیا‘ زبانی یاد ہے۔ بولے ہاں‘ بہت لوگوں کو زبانی یاد ہے‘ مختصر سورت ہے۔ نماز میں پڑھنے میں سہولت رہتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس میں زمانے کی قسم کھا کر کہا ہے کہ انسان خسارے میں ہے۔ یہ جتنے لوگوں کا آپ نے ذکر کیا ہے کہ یہ خسارے میں رہ جائیں گے اگر انہوں نے فرمانِ الٰہی کے مطابق ایمان نہ لایا‘ صالح اعمال نہ کیے اور حق اور صبر کی تلقین نہ کی۔ اس کے بعد انتہائی یقین کے ساتھ الفاظ پر زور دے کر بولے۔ یہ جتنے لوگ ان میں یقین رکھتے ہیں اگر دل سے ایمان کے دائرے میں آ جائیں نیک عمل کریں تو بُرجوں وغیرہ کی‘ علم والا اعداد کی جتنی پیش گوئیاں ہیں ان پر لاگو ہی نہ رہیں گے۔ ان پر رب کی رحمت کا قانون نافذ ہو جائے گا اور پھر کوئی بُرج‘ کوئی ستارہ‘ کوئی سیارہ‘ کوئی عدد‘ ہاتھ کی کوئی لکیر ان کی زندگی کو متاثر نہ کر سکے گی۔ کوئی ساعت کوئی شے ان کے لیے نحس نہ رہے گی۔ خوف سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا اور حزن و ملال سے اللہ محفوظ رکھے گا۔ لیکن اگر یہ اسی طرح رہے جس طرح برائے نام مسلمان ہوتے ہیں اور جن کے بارے میں پروردگار نے فرمایا ہے کہ ’’ابھی ان کے دلوں میں اسلام پوری طرح رچا بسا نہیں ہے‘‘ تو ان لوگوں کا ایسی لغویات میں یقین اور بھی پختہ ہوتا رہے گا۔ قرآن کی رُو سے یہ خسارے کا راستہ ہے۔ پتہ نہیں اسلامیات کے اُس پروفیسر کی باتوں میں کیا تاثیر تھی اُس روز سے میں نے ان باتوں کی طرف توجہ دینا بالکل ختم کردیا۔ آہستہ آہستہ جب میں اس سحر سے باہر آیا تو مجھے معلوم ہوا یہ جتنے نیم علوم ہیں ان سب کی بنیادیں کھوکھلی ہیں۔ سحر میں نے اس لیے کہا ہے کہ اوائل عمری ہی میں کچھ ایسے لوگوں کی صحبت رہی کہ دست شناسی‘ علم الاعداد اور بُرجوں کی خصوصیات وغیرہ میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتی رہی۔ کئی محفلوں میں لوگ مجھے مجبور کرتے تھے کہ اُن کا ہاتھ دیکھ کر اُن کے مستقبل کی نشاندہی کروں۔ کیرو کی کتاب میں نے پڑھ رکھی تھی لہٰذا ٹیوے لگا دیتا تھا۔ تاہم اس سب کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں ان تمام باتوں کے متوازی ایک سوال چلتا رہتا تھا کہ آخر ا ن باتوں کی واقعی کوئی حقیقت ہے بھی یا نہیں۔ برسوں یہ سوال میرے ذہن میں رہا اور پھر اسلامیات کے اس پروفیسر نے منٹوں میں مسئلہ حل کردیا۔ میرا یہ زندگی بھر کا تجربہ ہے کہ آپ دل کی سچائی سے کوئی سوال اپنے ذہن میں رکھ لیں۔ بھلے بہت عرصہ گزر جائے مگر پروردگار ایک روز ضرور ایسی سبیل پیدا کردیتا ہے کہ آپ کو اپنے سوال کا تسلی بخش جواب مل جاتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved