تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     27-03-2021

کون سا داغدار اُجالا؟

جب اپنی شہرہ آفاق نظم میں فیض صاحب نے داغدار اُجالے کی بات کی تب تو نسبتاً ہر چیز ٹھیک تھی۔ پاکستان کو بنے کچھ سال ہی ہوئے تھے اور قومی زندگی میں چھوٹی موٹی وارداتیں تو شروع ہو چکی تھیں لیکن جن بڑے کارناموں نے تاریخِ پاکستان کی زینت بننا تھا‘ وہ ابھی باقی تھے۔ جسے پاکستان میں جمہوریت سمجھا جاتا ہے اس پہ ایک دو وار ہو چکے تھے، امریکہ کی گود میں بھی ہم جا کے بیٹھ گئے تھے اور آئین بنانے کے بجائے قراردادِ مقاصد پہ ہم نے اپنا فکری زور صرف کر دیا تھا‘ لیکن جنرل ایوب خان کی شاہسواری نے ابھی ہونا تھا۔ مشرقی پاکستان میں ناخوشی کے بیج بوئے جا چکے تھے لیکن جو بعد میں سانحہ ہوا وہ ابھی کئی سال آگے تھا۔ ہندوستان سے تعلقات اتنے اچھے نہ تھے لیکن آج کی طرح اتنے برے بھی نہ تھے۔ آج فیض صاحب زندہ ہوتے تو داغدار اُجالے کا کوئی اور مفہوم ہی اُن کے ذہن میں ابھرتا۔
اُس وقت داغدار اُجالا تھا بھی تو اُس کے نقوش مدہم کرنے کیلئے کافی سامان تھا۔ شامیں گزریں صوفی تبسم اور خواجہ خورشید انور کے ساتھ۔ نور جہاں سے بھی ملاقات ہو اور گانے کی آپ کی کوئی فرمائش وہ رد نہ کر سکیں اور ظاہر ہے جام و سبو کا بھی خاطر خواہ بندوبست ہو تو اُجالا جیسا بھی ہو اتنا داغدار تو نہیں رہتا۔ داغدار اُجالوں کا تو آج کے باسیوں سے کوئی پوچھے۔ ہم نے کوئی چیز رہنے بھی دی ہے؟ شہر وسیع سے وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اُن میں نہ کوئی جان ہے نہ سوز نہ روح نام کی کوئی چیز۔ بدمزہ بستیاں بنانی ہوں تو کوئی ہم سے پوچھے۔ ہمارے دوست خالد مسعود اور رؤف کلاسرا‘ ملتان میں آم کے درختوں کے قتل عام پہ رونا روتے ہیں لیکن یہ مسئلہ صرف آم کے درختوں تک محدود نہیں۔ ملتان میں جو حشر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پہ برپا ہوا ہے وہ ہماری قومی حالت کے بارے میں ایک metaphor ہے۔ ملتان کی تباہی اپنی جگہ لیکن اپنی بے رحمی میں ہم کوئی تمیز نہیں برتتے۔ جو ملتان میں ہوا‘ وہی لاہور اور اسلام آباد میں ہو چکا ہے‘ اور اب تو مزید بربادیوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جو شہر لاہور ہے وہ سنبھالا نہیں جا رہا لیکن اِن سیانوں کی حکومت دریائے راوی کے ساتھ ترقی کے نام پہ ایک اور شہر بنانا چاہتی ہے۔ یہ محض ارادہ بھی نہیں رہا چونکہ زور و شور سے اس پراجیکٹ پہ کام شروع ہوچکا ہے۔ والٹن ایئرپورٹ کی زمین بھی اِن کے ہتھے چڑھ گئی ہے اور ترقی کے نام پہ وہاں بھی بربادی کے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں۔
دولت بنانے کے ہزار طریقے ہیں اور دولت بنانا برا کام بھی نہیں‘ لیکن ہمارے ہاں تو لگتا ہے کہ جلدی دولت بنانے کا ایک ہی ذریعہ رہ گیا ہے کہ آپ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں پڑ جائیں۔ صرف افراد نے اس کاروبار میں کیا ہاتھ لگانے ہیں، جو ادارہ بھی اپنے آپ کو فعال سمجھتا ہے وہ اِس کاروبار میں پڑچکا ہے۔ کھل کے بات کرنا شاید مناسب نہ ہو۔ کس کس کا نام لیا جائے لیکن اگر ہم حقیقت کی نظروں سے اِس صورتحال پہ نگاہ ڈال سکیں تو اِس ملک کے ساتھ تماشا ہو رہا ہے۔ ڈھنگ کے دیگر سارے کام بند ہو چکے ہیں۔ لگتا ہے مملکت خداداد میں دو ہی کام رہ گئے ہیں، ریئل اسٹیٹ اور دوسرے نمبر پہ شادی ہال۔ ریلوے کا نظام تباہ، پی آئی اے غرق، سٹیل مل ناکارہ، زراعت عدم توجہی کا شکار، نظامِ تعلیم انگریزی اور اردو میں تقسیم، بے معنی نعروں کی بہتات۔ خوب چل رہے ہیں تو فقط وہی دو سیکٹر۔
کئی طبقات تھے جنہوں نے وزیراعظم صاحب کے بارے میں غلط فہمیاں پال رکھی تھیں کہ وہ آئیں گے اور سب کچھ ٹھیک کردیں گے۔ وِژن اُن کے پاس ہوگا اور اُن کے ساتھ ایک جوشیلی ٹیم ہوگی جن کے ہاتھوں جلوے اور معجزے برپا ہوں گے۔ اور تو کچھ نہیں ہوا بس ایک معجزہ ہی رونما ہوا ہے کہ ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن کے سیٹھوں کو مراعات کا ایک تسلسل مہیا ہوتا رہے۔ اِن مراعات کا دسواں حصہ زراعت کے شعبے کو دیا جاتا تو ہم نصف سے زیادہ کھانے پینے کی چیزیں باہر سے نہ منگوا رہے ہوتے۔ ہم ایک عجیب زراعتی ملک ہیں، اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔
فیض صاحب کے وقت کا لاہور ایسا تھا کہ فیض صاحب جیسے لوگ وہاں رہ سکتے تھے۔ آج حیات ہوتے تو لاہور میں کرتے کیا۔ اور لاہور میں کرنے کو ہوتا بھی کیا۔ موجودہ لاہور کو ماپنا شروع کریں تو آنکھیں اور ہاتھ تھک جائیں‘ لیکن اِس لاہور میں رکھا کیا ہے؟ نہ شاعری نہ موسیقی کی کوئی بیٹھک۔ اور جوسیاسی بیٹھکیں ہیں اُن کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ یہ جو شریفوں کے خانوادے ہیں لاہور کے سیاسی لیڈر یہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں تو فیض صاحب کی شاعری ختم ہوجاتی۔ یہ بھی یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ حبیب جالب حیات ہوتے تو انہیں کچھ کہنے کو نہ ملتا۔ کیا نیب یا مریم نواز پہ شعر کہے جاسکتے ہیں؟ ایوب خان کی آمریت کے بارے میں تو جالب صاحب نے لازوال نظمیں لکھیں‘ ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور شادی ہالوں پہ وہ کیا لکھتے؟ مزید یہ کہ فیض صاحب اور حبیب جالب کی شامیں کیسے گزرتیں اور اِس حوالے سے وہ کس کس کی راہ تکتے، اِس کا تو مت ہی پوچھئے۔
شاعری اور لٹریچر کیلئے ایک ماحول درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کے وجود سے ہم نے شاعری کو ختم کردیا ہے۔ رومانوی تصورات‘ جسے آپ انگریزی میں romanticism کہتے ہیں‘ وہ اس معاشرے سے ختم ہوچکا ہے۔ نسبتاً تب کا اُجالا تو سنہری اُجالا تھا۔ داغدار کا لقب تو اِس وقت کے اُجالے پہ فٹ بیٹھتا ہے۔ میںکیا مبالغہ کررہا ہوں؟ جہاں کہیں کوئی محفل اکٹھی ہو اُ س میں گفتگو کے موضوعات کیا ہوتے ہیں؟ پیسے بنانے کی باتیں اور پراپرٹی کی فائلوں کے بارے میں گرما گرم بحث۔ شاعری اور موسیقی پہ تو میں نے کبھی ایسی محفلوں میں گفتگو نہیں سنی۔ قوموں کے بارے میں ایک اصول بڑی آسانی سے وضع کیا جاسکتا ہے۔ جس ملک میں دس ہزار ایکڑ آم کے باغات کسی ہاؤسنگ پراجیکٹ کی نذر ہو سکتے ہیں وہ ملک نہ ترقی کرسکتا ہے نہ ترقی کے لائق رہتا ہے۔ ایسی تباہی جب ہوتو صرف درخت نہیں کٹتے آپ چاقو اور کلہاڑیاں اپنے تخلیاتی وجود پہ استعمال کررہے ہوتے ہیں۔
سرخوں کا روس نظریاتی ملک تھا۔ ماؤ کا چین نظریاتی تھا۔ فیڈل کاسترو کا کیوبا‘ نظریاتی مملکت تھی۔ ریئل اسٹیٹ کا اندھا دھند کاروبارکس نظریے کا نام ہے؟ ہم نے تو نظریے کے تصور کو سر کے بل کھڑا کر دیا ہے۔ نظریے کے نام پہ آزاد سوچ کو دفن کر دیا ہے‘ اور ہم نے ایک عجیب جمہوریت بنائی ہے جس میں کتابی طور پہ تمام آزادیاں درج ہیں‘ لیکن آزاد سوچ پہ پابندی ہے۔ یہ پابندی آئین یا قانون کی طرف سے نہیں معاشرے کی طرف سے ہے۔ معاشرہ ایسا تشکیل پایا ہے کہ سیدھی لکیر سے ہٹ کے کوئی قدم رکھنا محال ہے۔
فیض صاحب کی جوانی کے ایام میں ہمارا معاشرہ ارتقا کے مرحلوں سے گزر رہا تھا۔ اس ارتقاء کے عمل میں بہت سی ممکنات تھیں۔ ہم پیچھے جا سکتے تھے اور سوچوں پہ تالے بھی توڑے جا سکتے تھے‘ لیکن جیسے سیمنٹ پکا ہوجاتا ہے اب توہمارا معاشرہ اپنے صحیح خدوخال میں بیٹھ چکا ہے۔ ممکنات اگر ہیں بھی تو محدود ہوچکی ہیں۔ آگے جانے کے کئی راستے ہم نے یکسر بند کردیئے ہیں۔ فیض صاحب کی جوانی کا زمانہ تو کئی لحاظ سے معصومیت کا زمانہ تھا۔ دلوں میں اگر مایوسی آنا شروع ہوگئی تھی تو بہت سی امیدیں بھی زندہ تھیں۔ صحیح معنوں میں داغدار تو یہ بدذائقہ زمانہ ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved