تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     28-03-2021

تماشا

پی ڈی ایم میں پھوٹ، پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ ہاتھ کر دیا، بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرز کی مدد سے پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مل گیا، مسلم لیگ اور جے یو آئی (ف) سیاست کے میدان میں ہاتھ ملتی رہ گئیں۔ یہ وہ خبریں ہیں جنہیں میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور حکومت کے ترجمان خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے لیڈر پیپلز پارٹی کو کوسنے میں مصروف ہیں اور مولانا فضل الرحمن اتحاد بچانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور بڑی خبر پچھلے سال کے پٹرول بحران کی کمیٹی کی سفارشات ہیں، جن پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر سے استعفیٰ مانگا گیا اور سیکرٹری پٹرولیم کو ہٹا دیا گیا۔ اس منظرنامے میں حکمرانوں کے لیے سکھ چین نظر آتا ہے اور ساتھ ہی یوں لگتا ہے کہ عوام کو بھی کوئی پریشانی نہیں اور سب سکھ شانتی ہے۔
دراصل یہ سب فریب نظر ہے۔ میڈیا وہ کچھ دکھا رہا ہے جس کا عوامی مسائل کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔ اقتدار کی کشمکش میں کون کس کے ساتھ ہاتھ کر گیا اور کون بازی ہار گیا؟ اس سے نہ تو عام آدمی کا گھر چلتا ہے نہ ہی اس کے روزمرہ کے مسائل میں کوئی کمی آتی ہے۔ اس دھوکے اور فراڈ میں خود عوام بھی شریک ہیں جو ڈگڈگی پر دکھائے جانے والے اس تماشے کو مسترد کرنے کے بجائے ٹی وی شوز کی ریٹنگز بڑھانے میں مددگار ہیں۔
پٹرولیم بحران پر تقریباً 9 ماہ بعد کمیٹی کی رپورٹ آئی۔ کیا رپورٹ بننے میں 9 ماہ لگے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔اس کمیٹی نے جو رپورٹ دی وہ انتہائی سرسری اور سطحی ہے جس میں اس بحران کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جا سکا‘ الٹا ایف آئی اے سے کہا گیا ہے کہ 90 دن میں فرانزک آڈٹ کر کے معاملے کی تہہ تک جائے، مطلب مزید 3 ماہ دے دیئے گئے۔ اب گیند ایف آئی اے کی کورٹ میں ہے کہ وہ 3 ماہ بعد اسے واپس بھیجتی ہے یا مزید لٹکائے رکھتی ہے۔ ایک معاون خصوصی کو ہٹایا گیا‘ ایک بیوروکریٹ کا تبادلہ ہوا اور اب حکومت اور اس کے ترجمان عوام کو بتائیں گے، دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ مجھے یہ سب سن کر بہت ہنسی آئی کیونکہ اس سے پہلے چینی پر بھی ایک کمیشن بنا تھا اور جس پر انگلی اٹھی تھی وہ بیرون ملک سیر سپاٹے کے بعد اب واپس آ کر کاروبار چلانے میں مصروف ہے اور ایک بار پھر ایف آئی اے سٹہ بازوں پر چھاپے مار کر چینی گوداموں سے نکلوانے میں لگی ہے۔
یہ دراصل ایک بندر تماشا ہے۔ ہم سب نے زندگی میں کبھی نہ کبھی بندر تماشا دیکھ رکھا ہے۔ اس پر معروف فکشن رائٹر اسد واحدی نے افسانے 'بندر کا تماشا‘ میں کیا خوب منظر کشی کی ہے۔ مداری بندر کو بادشاہ بنا کر پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: بادشاہ آپ کو کرتب دکھائے گا جو کچھ دے سکتے ہو، دے دو، ہم دونوں آپ کو دعائیں دیں گے، اللہ آپ کو اپنی پناہ میں رکھے گا۔ مہربانو، آپ کو معلوم نہیں کہ پیٹ کی آگ کیا ہوتی ہے، ہم دونوں اچھی طرح جانتے ہیں۔ کبھی جب ہم سارا دن پھر کر کچھ کما نہ سکے‘ کھانے کو بھی کچھ نہ تھا۔ ہم دونوں نے صرف پانی پی کر پیٹ کی آگ کو بجھانے کی کوشش کی، لیکن میں اللہ کی قسم کھا کر آپ سے کہہ رہا ہوں بھائیو، یہ آگ پانی سے نہیں بجھی، یہ ایک ایسی آگ ہے مہربانو جو پانی سے نہیں بجھتی ہے۔ بھائیو مدد کرنا۔ جاؤ بندر بادشاہ لوگوں کو سلام کرو اور صاحب لوگوں سے پیسے جمع کر لاؤ۔ اتنا لانا کہ کچھ شادی کے لئے بھی بچا سکو‘ ہم دونوں مل کے کوئی بندریا خرید لیں گے اور تمہارا گھر بس جائے گا، اسی طرح جیسے سب کا بستا ہے اور تم کو کرتب دکھانے کو ایک ساتھی مل جائے گا۔ لوگ پیسے بھی زیادہ دیا کریں گے۔ جاؤ بادشاہ جاؤ! سب لوگ قہقہہ مار کے ہنسنے لگے۔
اسد واحدی نے بہت ہی تلخ حقیقت لکھی اور شاید ان کے ذہن میں کوئی سیاسی منظر نہ تھا لیکن میں اس منظر کو سیاسی سمجھتا ہوں، اب بادشاہ نے پیسے اکٹھے کرنے ہیں اور پٹرول بحران پر کمیٹی کا تماشا لگا دیا گیا ہے۔ تماشبین واہ واہ کریں گے اور انہیں پتا بھی نہیں چلے گا‘ جب اسی تماشے اور مداری کی آڑ میں کوئی ان کی جیبیں کتر کر بھاگ نکلے گا اور جب خبر ہو گی تو بہت دیر ہو چکی ہو گی۔
اب میں جیب کاٹنے کی بھی وضاحت کئے دیتا ہوں۔ نیپرا ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت کو اضافی سرچارج اور بجلی مزید مہنگی کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ حکومت کو ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارج لگانے کا اختیار مل گیا ہے۔ حکومت کے پاس آئندہ 2 سال میں بجلی ساڑھے 5 روپے تک مہنگا کرنے کا اختیار ہو گا، حکومت بجلی کی قیمت کے 10 فیصد تک سرچارج لگا سکے گی۔ عوام پر سرچارج کی مد میں 150 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بجلی سسٹم کو سالانہ 1400 ارب روپے کا ریونیو درکار ہے، حکومت نے سرکلر ڈیٹ کے حل کے لئے سرچارج لگانا ضروری قرار دیا ہے۔ نیپرا کو بجلی کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے خود مختاری ملے گی اور سہ ماہی بنیادوں پر ٹیرف کے رد و بدل کا نوٹیفکیشن وزارت بجلی کی جانب سے 15 دن کے اندر نہ کئے جانے کی صورت میں نیپرا کو اس نوٹیفکیشن کے اجرا کا اختیار مل جائے گا۔ اسی طرح سالانہ ٹیرف کی صورت میں اگر وزارت ایک ماہ کے اندر نوٹیفکیشن جاری نہ کرے تو یہ اختیار بھی نیپرا کو مل جائے گا۔ صارفین اسے منی بجٹ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری واردات انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کا اجرا ہے۔ اس سے مختلف شعبوں کا 140 ارب روپے کا انکم ٹیکس استثنا ختم کر دیا گیا ہے۔ ٹیکس قوانین میں 75 سے زائد ترامیم کی گئی ہیں۔ کئی طرح کے جرمانے رکھے گئے ہیں لیکن سب سے اہم بات نصابی کتابوں پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے اور فریش گریجویٹس کو ملازمت ملنے پر جو ٹیکس میں کچھ ریلیف تھا وہ بھی واپس لے لیا گیا گیا ہے۔ نصابی کتب پر ٹیکس چھوٹ کے خاتمے سے 'تعلیم کے فروغ‘ کا جو عظیم الشان وژن سامنے آیا ہے اس کے بعد والدین بچوں کو سکولوں سے اٹھانے پر ہی مجبور ہوں گے کیونکہ ٹیوشن فیسز اور دیگر اخراجات پہلے ہی ان کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں‘ اب کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ ان کی کمر توڑ دے گا۔ فریش گریجویٹس، جنہیں والدین نے محنت مشقت کرکے، اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھایا ہوگا، ان کی ٹیکس چھوٹ ختم کرکے، انہیں عملی زندگی میں آتے ہی والدین کی خدمت کے بجائے حکومت کی خدمت کا پابند بنا دیا گیا ہے، ہزاروں بوڑھے‘ حکمرانوں کے اس اقدام پر جھولیاں اٹھا کر 'دعائیں‘ دیں گے؟
بھائیو! بندر کا تماشا لگا ہے، تماشے میں غرق رہو لیکن جیب کتروں پر بھی نظر رکھو، تماشے کے چکر میں ساری جمع پونجی لٹا کر مداریوں کے پیچھے پھرنے کی عادت بدل ڈالو، حکومت ہو یا اپوزیشن، سب بازی گر اور مداری ہیں، روز تماشا لگتا ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ بندر تماشے میں مداری اور بندر صرف اتنا ہی کما پاتے ہیں کہ پیٹ کی آگ بجھا پائیں لیکن تماشا لگانے والے تماش بینوں کا سب کچھ لوٹنے کو تیار ہیں لیکن تماش بین تماشے کی لت میں کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved