تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     29-03-2021

سُرخیاں، متن، انحطاط اور شہباز راجا کی شاعری

احتجاجی تحریک کے لیے اخلاقی
قوت ضروری ہوتی ہے: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ''احتجاجی تحریک کیلئے اخلاقی قوت ضروری ہوتی ہے‘‘ اور اخلاقی قوت کیسے آ سکتی ہے جب اندرون و بیرون ملک اثاثے بھی بنائے ہوں اور عدالت سے کیا گیا وعدہ بھی پورا نہ کیا ہو کیونکہ خدا لگتی بات یہی ہے چاہے اس پر کوئی ناراض ہو اور مجھے سرزنش کی جائے کیونکہ میں سچ بول رہی ہوں اور میں سچ ضرور بولتی ہوں، اگر پھر کبھی سچ مقصود ہو تو دوبارہ زحمت دی جا سکتی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہی تھیں۔
مریم نواز ٹھنڈا پانی پئیں اور لمبے لمبے سانس لیں: بلاول
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''مریم نواز ٹھنڈا پانی پئیں اور لمبے لمبے سانس لیں‘‘ کیونکہ انتہائی پریشانی کی حالت میں جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں یہ اُن میں سے کارآمد اور اہم ترین ہے جبکہ پانی پینا اور سانس لینا زندگی کیلئے ویسے بھی بے حد ضروری ہے اور سانس تو آدمی کے پاس ویسے بھی گنے چُنے ہوتے ہیں جن میں لمبے سانس لینا بھی شامل ہے ا ور کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ جب تک سانس تب تک آس؛ تاہم میں اُن کی مکمل صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں کیونکہ خوشی اور غمی دونوں ہی منجانب اللہ ہوتے ہیں جس کا صبرو شکر کے ساتھ کھلے بازوؤں سے استقبال کرنا چاہیے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
حکومت گرانے والے ایک دوسرے
کو گرا رہے ہیں: فردوس عاشق اعوان
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ''حکومت کوگرانے والے ایک دوسرے کو گرا رہے ہیں‘‘ اور یہ بھی مستقل مزاجی ہی کی ایک نشانی ہے کہ گرانے کا کام جاری رکھا جائے چاہے وہ ایک دوسرے کو گرانے ہی کا کیوں نہ ہو اور یہ مستقل مزاجی ہی ہے جو سیاسی جماعتوں کو زندہ رکھتی اور انہیں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے، اس لئے پی ڈی ایم کا مستقبل خاصا روشن نظر آ رہا ہے اور یہ حکومت کیلئے بڑی تشویش کی بات ہے کیونکہ اگر یہ سب کی سب جماعتیں ایک دوسرے کو گرانے میں کامیاب ہو گئیں تو حکومت کی اپوزیشن کون کرے گا جو اپوزیشن کے بغیر ایک قدم بھی چل نہیں سکتی۔ آپ اگلے روز لاہور میں دارالامان کے دورہ کے موقع پر گفتگو کر رہی تھیں۔
غیر فطری اتحاد انجام کو پہنچا، پی ڈی ایم
انتشار کی سیاست چھوڑ دے: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''غیر فطری اتحاد انجام کو پہنچا، پی ڈی ایم انتشار کی سیاست چھوڑ دے‘‘ کیونکہ اس کیلئے دوسرے ہی کافی ہیں جبکہ بعض حکمرانوں کا کام بھی یہی ہے اور اسی وجہ سے حکومتوں کا اختتام اور آنے والی حکومت کیلئے راستہ ہموار ہو جاتا ہے اور ہماری حکومت بھی یہی کچھ کر رہی ہے اور نئی حکومت کا بے چینی سے انتظار بھی کر رہی ہے جس کیلئے اُس کے حق میں دُعا کرنی چاہیے کیونکہ انتظار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ موت سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے اور شاید اسی لئے ہر طرح کی شدت کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے اور میانہ روی کی تلقین کی گئی ہے۔ آپ اگلے روز دورئہ ملتان میں ویکسی نیشن سنٹر میں سہولتوں کا جائزہ لے رہے تھے۔
سب سلیکٹڈ اور سب کا ماضی داغدار ہے: خاقان عباسی
سابق وزیراعظم اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ''سب سلیکٹڈ ہیں اور سب کا ماضی داغدار ہے‘‘ اگرچہ کچھ کا ماضی اس قدر میلا ہے کہ دامن غائب ہو گیا ہے اور صرف داغ باقی رہ گئے ہیں اس لئے داغوں کو دھونے کی کوشش میں وقت ضائع کرنے کے بجائے نئے دامنوں کا بندوبست کرنا چاہیے اور جو حضرات اس وقت ملک سے باہر ہیں، ان کیلئے دامن تیار کروا کر وہاں بھجوانے چاہئیں کیونکہ وہ خود تو وہاں بیٹھ کر ملک کی خدمت کرنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ دامنوں کی طرف دھیان دے ہی نہیں سکتے اس لئے زحمت دینے کے بجائے انہیں ان کے کام میں مصروف رہنے دینا چاہئے۔ آپ اگلے روز لاہور میں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کر رہے تھے۔
انحطاط ؟
پہلی عالمی جنگ کے بعد لیگ آف نیشنز کی ایک کانفرنس کے موقع پر پولینڈ کے جین پادرواسکی اور فرانس کے جارج کلیمینسیو کے درمیان پہلی بار مڈبھیڑ ہوئی۔ جارج کلیمینسیونے پادرواسکی سے پوچھا، کیا عظیم پیانو نواز آپ ہی ہیں؟‘‘ جواب میں پادر واسکی نے اثبات میں سر جھکایا۔ ''اب آپ ہی پولینڈ کے وزیراعظم ہیں؟‘‘ جارج کے سوال پر پادر واسکی نے دوبارہ سر جھکایا۔
''اُف خدایا‘‘ جارج نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔
''کیا انحطاط ہے!!‘‘
اور‘ اب آخر میں شہباز راجا کی شاعری:
تمہارے بعد کہاں کچھ نظر میں رکھتے ہیں
بجھے چراغ فقط اپنے گھر میں رکھتے ہیں
سکوتِ کنجِ قفس سے ہیں مضمحل، ورنہ
غضب کے حوصلے ہم بال و پر میں رکھتے ہیں
رواں دواں ہیں سہولت سے منزلوں کی طرف
تمہاری یاد جو رختِ سفر میں رکھتے ہیں
یہ صرف اشک نہیں ہجر میں سرِمژگاں
تمہارے خواب بھی ہم چشمِ تر میں رکھتے ہیں
گوارا کیسے کریں اُس کی تمکنت شہبازؔ
کہ کچھ تو ہم بھی ہوا اپنے سر میں رکھتے ہیں
٭......٭......٭
اک سکوتِ جاوداں پھیلا ہُوا اس گھر میں ہے
اس پہ تیری یاد کا ہنگامہ میرے سر میں ہے
ذہن کے سارے دریچے بند ہیں اُس کے لیے
عکس لیکن بے وفا کا میری چشمِ تر میں ہے
دستکیں دیتا رہا وہ اجنبی جب میں نہ تھا
اُس کی ہر دستک کا آوازہ ابھی تک سر میں ہے
٭......٭......٭
گریۂ چشمِ انا مست سے اندازہ ہوا
ہم کو اس عشق میں ہر موڑ پہ خمیازہ ہوا
ہم وہاں ساکن و حیراں ہیں مرے دوست جہاں
ایک مدت سے کوئی چاپ نہ آوازہ ہوا
ہم سے تو کم بھی نہ ہو پایا کبھی حبسِ وجود
تیری خوشبو سے مگر صحنِ چمن تازہ ہوا
تادمِ مرگ نہیں مجھ سے سمیٹا جاتا
منقسم ایسا مری زیست کا شیرازہ ہوا
آج کا مطلع
چار سو پھیلتی ہوئی خوشبو کی حفاظت کرنا
اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved