تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     01-04-2021

قائد اعظم کا اسلام …(3)

قائداعظم کے تصورِ اسلام کوان کے تصورِ پاکستان سے بے نیاز ہوکر نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ یہ تصور دو نکات پر مشتمل ہے۔
ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے اصولوں پر قائم ایک مملکت ہے۔ یہ بات انہوں نے اتنے اصرارکے ساتھ، اس کثرت سے اور اتنے اسالیب میں کہی کہ اس کا انکار عقلاً محال ہے۔ کبھی انہوں نے شریعت کو پاکستان کے دستورکی بنیاد کہا (25جنوری 1948ء) اور کبھی اسے 'اسلامی ریاست‘ قرار دیا (فروری 1948)۔ دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ان کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو ان کی دیگر تقاریر کے سیاق و سباق میں پڑھا جائے یادیگر تقاریر کومجلسِ دستور سازکے اِس خطاب کے تناظر میں سمجھا جائے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان اصلاً مسلمانوں کیلئے بنا ہے۔ یہ بات بھی قائداعظم نے اتنی تکرارکے ساتھ کہی کہ اس کا انکار تاریخ کاانکار ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اگراپنے تہذیبی وجود کا اظہارکرنا چاہیں توکوئی دوسرا عقیدہ یا نظریہ ان کی اس خواہش کے راستے میں مزاحم نہ ہو؛ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی دوسرا مذہبی یا تہذیبی گروہ مذہبی آزادی کے فطری حق کو استعمال کرنا چاہے تواس کو روک دیا جائے۔ اس سے البتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست کا غالب رنگ اسلامی ہوگا۔
قائداعظم کا تصورِ اسلام، ان کے تصورِ پاکستان اور سیاسی کردارکے زیرِاثر متشکل ہوا۔ بطوروکیل، تفہیمِ اسلام ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی ضرورت بھی تھی لیکن جیسے جیسے ان کا سیاسی کردار بڑھتاگیا، اسلام ان کیلئے ایک عقیدے یا فقہی قضیے سے زیادہ ایک سیاسی نظام اور تہذیبی قوت کے طورپر اہم ہوتا گیا۔ انہوں نے اسلام کومعاصر سیاسی افکار اورتبدیلیوں کے تناظر میں سمجھناچاہا۔ یہ اسلام کی تفہیم کاعقلی منہج ہے۔
قائد نے جہاں جہاں اور جب جب اسلام کو موضوع بنایا، ان کی گفتگو کا کم وبیش پچانوے فیصد حصہ اسلام کے بارے میں ایک اصولی یا عمومی موقف کا بیان ہے۔ ان کی طرف سے اس کی کوئی توضیح و تشریح نہیں کی گئی۔ جیسے ''قرآن کریم مسلمانوں کا عمومی ضابطہ حیات ہے‘‘۔ اس طرح کے بیانات سے کوئی تصورِ اسلام اخذ کرنا ممکن نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قائد اسلام کے سکالرنہیں تھے، اس لیے اُن سے یہ توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ عذر قابلِ قبول ہے اوراس سے ان کی عظمت میں بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ مسلم تاریخ میں ان کا مقام ایک سیاسی رہنما کے طورپر ہے نہ کہ ایک سکالر کے طور پر۔ اس سے لیکن یہ بنیادی مقدمہ قائم رہتا ہے کہ ان کے بیانات سے کوئی مستقل بالذات تصورِ اسلام کشید کرنا ممکن نہیں۔
قائداعظم کے خطبات و ارشادات میں موجود اس خلا نے مختلف گروہوں کویہ موقع فراہم کردیا کہ وہ قائداعظم کے بیانات کی تشریح اپنے اپنے تصورِ اسلام کی روشنی میں کریں۔ اب اگرکوئی ان کے کسی انٹرویو میں موجود ''اسلامی ریاست‘‘ کی اصطلاح کو مولانا مودودی کے تصورِاسلامی ریاست کی روشنی میں پیش کرنا چاہے توآپ اس کا قلم یا زبان نہیں روک سکتے۔ اسی طرح اگرکوئی سردار شوکت حیات اور سبطِ حسن کی طرح قائداعظم کو غیر مذہبی (سیکولر) ثابت کرنا چاہے توآپ اس پربھی کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔ کوئی ان کی تقریر سے 'اسلامی سوشلزم‘ (چٹاگانگ، 26مارچ 1948ء) کی اصطلاح لے کر انہیں 'سوشلسٹ‘ قراردینا چاہے تو قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔
میں نے قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور اقدامات سے بلاواسطہ ان کے فہمِ اسلام تک رسائی کی کوشش کی ہے۔ اس سے بڑی حد تک اُس ریاست کے خدوخال نمایاں ہوتے ہیں جوان کے نزدیک ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس کوشش میں کسی دوسرے کی تشریح یا توضیح شامل نہیں۔ میں اس فہم کو چند نکات کی صورت میں بیان کررہا ہوں:
1۔ پاکستان کی ریاست اپنے سیاسی ومعاشی نظام کی تشکیل میں اسلام کی تعلیمات کو بنیاد بنائے گی۔ (25جنوری 1948ء)
2۔ قرآن مجید کے مطابق انسان زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے دوسروں انسانوں کے ساتھ اُسی طرح معاملہ کرنا ہے جس طرح خدا اپنے بندوں کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ محبت اور تحمل و برداشت سے عبارت ہے۔ ہمیں خداکی مخلوق سے یہی رویہ رکھنا ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے قرآن مجید کی ایک عقلی تفسیروتشریح کی ضرورت ہے۔ اسلامی عبادات دراصل اسی رویے کی تشکیل کیلئے ہیں۔ (نومبر1939ء‘ عید کا پیغام)
3۔ اسلام انسانوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتا۔ بطور نظام، تہذیب اور تمدن، اسلام انسانی برابری، بھائی چارے‘ آزادی اور مساوات کا قائل ہے اور پاکستان کا نظام اسی تصورِ اسلام کی اساس پر بنے گا۔ (25 جنوری 1948ء، 26مارچ 1948ء)
4۔ ہندوئوں سے مختلف ہونے کا بنیادی سبب نظام ہائے معاشرت کا اختلاف ہے۔ اسلام وحدتِ آدم پریقین رکھتا ہے اور ہندومت معاشرتی سطح پر انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرتا ہے۔ (22مارچ، 1940)
5۔ پاکستان کی ریاست میں، مذہب کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کی جائے گی۔ وہ اپنے مذہبی وجود کے اظہار میں آزاد ہوں گے اورریاست کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ (11اگست 1947ء)
6۔ پاکستان کی ریاست ان معنوں میں کوئی مذہبی ریاست (Theocracy) نہیں بن رہی جس میں مذہبی پیشواؤں (priests) کا ایک طبقہ کسی خدائی مشن کے ساتھ حکومت کرے گا۔ ) فروری 1948ء)
7۔ پاکستان میں بسنے والے ہندوئوں، مسیحیوں اور پارسیوں کو وہی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی جو کسی دوسرے شہری کو میسر ہیں۔ (فروری 1948ء)
8۔ پاکستان کی ریاست میں کلیدی عہدوں کیلئے مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہو گی۔ پاکستان کا کوئی شہری کسی اہم ترین منصب پر فائز ہو سکتا ہے۔
9۔ خواتین کو معاشرت اور سیاست میں متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم اس کا مطلب مغرب کی نقالی نہیں۔
یہ نکات قائداعظم کی تقاریر سے ماخوذ ہیں۔ اس میں کسی دوسرے کی تفہیم و تشریح شامل نہیں۔ یہ اسلام کو سیاسی و سماجی سطح پر سمجھنے کا ایک عقلی منہج ہے۔ اس لیے میں اس کا شمار تعبیرِ اسلام کے دوسرے طبقے میں کرتا ہوں۔ (ان طبقات کا ذکر میں نے اس سلسلے کے پہلے کالم میں کیا ہے)۔ کوئی فرد جب کسی مذہب کوعقلی سطح پر سمجھتا ہے توایک ناگزیر نتیجے کے طورپر ان مسلکی اور فرقہ وارانہ تعبیرات سے بلند ہوجاتا ہے جواسے خاندان یا معاشرے سے وراثتاً منتقل ہوتی ہیں۔ فقہ پھر اس کے نزدیک نکاح و طلاق یا تجہیزوتدفین جیسے معاملات تک محدود ہو جاتی ہے۔ قائد اعظم کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ وقت کے ساتھ مسلکی تقسیم سے بلند ہوگئے۔
میں جب قائد کے ارشادات سے ابھرنے والی اس تعبیر کو سامنے رکھتا ہوں تو مجھے ان اخبارِ آحاد پر زیادہ اعتماد نہیں رہتا جو اسلام کے ساتھ ان کے وابستگی کی ایک جذباتی تصویر پیش کرتے ہیں، جیسے حسرت موہانی سے منسوب ایک روایت۔ اسی طرح خوابوں کا معاملہ بھی، اگر سچ مان لیا جائے تولاشعوری سطح پرخوش گمانیوں کے اظہار سے زیادہ کچھ نہیں۔
کیا قائداعظم اور علامہ اقبال ایک ہی تعبیرِ اسلام کے قائل تھے؟ مولانا شبیر احمد عثمانی کے ساتھ قائد کے تعلق کی نوعیت کیا تھی؟ اس بحث میں یہ سوالات اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو الگ سے موضوع بنایا جائے۔ اگلے کالم میں، ان شااللہ اس پر بات ہوگی جو اس سلسلے کا، امید ہے کہ آخری کالم ہوگا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved