تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     03-04-2021

میانمار: فوجی بغاوت کے پسِ پردہ حقائق

یکم فروری کو پوری دنیا کے لیے یہ خبر چونکا دینے والی تھی کہ میانمار (برما) کی فوج نے برسر اقتدار جماعت نیشنل لیگ آف ڈیمو کریسی (این ایل ڈی) کی رہنما آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھالنے کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ بغاوت انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کے نتیجے میں ہوئی۔ میانمار کے حالات یہ ہیں کہ فوجی مداخلت کے خلاف جو عوامی تحریک چل رہی ہے اس میں اب تک سینکڑوں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور دس کروڑ ڈالر سے زائد کی املاک جلائی جا چکی ہیں جس کے نتیجے میں میانمار ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کی بھرپور توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 27 مارچ میانمار میں احتجاج کے حوالے سے سب سے خونریز دن رہا جب 114 مظاہرین مارے گئے۔یہ سیاسی بحران میانمار جیسے ملک کیلئے کسی کڑے امتحان سے کم نہیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو تیسری دنیا کے ممالک کی طرح میانمار کے سیاسی قائدین نے بھی اپنے ملک کو پیچھے دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ 2006-07ء میں جب آنگ سان سوچی مغرب اور انسانی حقوق کے چیمپئنز کی آنکھوں کا تارا تھی‘ اس وقت امریکا اور برطانیہ نے میانمار پر اسلحہ کی فروخت اور تجارتی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جس کا اس وقت کی قیادت نے کوئی خاص نوٹس نہ لیا کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی ملک یا ریاست میں اگر اپنے عوام کی بہتری کی جانب توجہ نہ دی جائے‘ حکومت کو اپنے عوام کی خوشحالی اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی فکر نہ ہو اس پر پابندیاں کوئی اثر نہیں کرتیں لیکن طویل مدت کیلئے ان پابندیوں کے اثرات بہت نقصان دہ ہوتے ہیں۔ عالمی رہنمائوں کی جانب سے ایسی صورتحال میں کیا جانے والا کریک ڈائون مقتدر طبقے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ چند لمحوں کیلئے اپنے خلاف ابھرتی ہوئی عوامی سوچ کا جائزہ لے سکیں۔ امریکا نے اپنے حریف چین کو میانمار میں محدود کرنے کیلئے بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان کو سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت کیلئے آگے بڑھایا ہوا ہے۔ میانمار کی جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے امریکا اسے کسی بھی صورت میں چین کے قریب نہیں ہونے دے گا اور اگر ایسا ہوا تو امریکا ضرور اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرے گا۔ میانمار میں کرپشن کے بے تحاشا الزمات اور حالیہ انتخابات میں دھاندلی کی چارج شیٹ کے ساتھ فوجی کارروائی کرنے والے جنرل من آنگ ہلینگ جولائی میں ریٹائر ہونے والے تھے‘ ان کا اس کارروائی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ 2008ء میں منظور کئے جانے والے آئین میں '' تتما داو‘‘ قانون فوج کو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ملک کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں ایک چوتھائی نشستیں فوج کی ہوں گی اور دفاع، خارجہ امور اور داخلہ کی وزارتیں فوج کو دی جائیں گی جبکہ آئین کے مطابق صوبائی انتظامیہ کے معاملات بھی فوج دیکھے گی۔ آئین میں یہ بھی صریحاً درج ہے کہ اگر کوئی بھی ملکی پروجیکٹ کسی ایسی سمت میں جا رہا ہو جس سے ملکی مفاد کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہو تو فوج کو حق ہو گا کہ وہ اسے جبری روک سکے۔ واضح رہے کہ یہ سارے قوانین منظور کروانے میں سوچی کا سب سے زیادہ کردار تھا۔ جنرل ہلینگ جو کچھ میانمار میں کر رہے ہیں‘ وہ ایک طرف لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عالمی میڈیا میں آنگ سان سوچی کی کرپشن کی بے شمار داستانیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ انہیں سنتے ہوئے ایک لمحے کیلئے انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے طویل جدوجہد کرنے والی اور نوبیل پیس پرائز سمیت نمایاں عالمی اعزاز حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی کیونکر ایشیا کے کرپٹ حکمرانوں کی ڈگر پر چل نکلی۔ فوجی انتظامیہ کی جانب سے جو ریکارڈ سامنے لایا جا رہا ہے‘ اس کے مطابق سوچی کے دامن پہ لاکھوں ڈالرز کی کرپشن کے چھینٹے صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ آج کل فرانزک رپورٹس سمیت سب کچا چٹھا کھول کر رکھ دینے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ ایک ہتھیار کی طرح سامنے آ چکے ہیں۔ میانمار کی موجودہ انتظامیہ کے مطابق‘ سوچی نے مختلف افراد سے خصوصی اجازت ناموں کے عوض 6 لاکھ ڈالر اور گیارہ کلو سونا غیر قانونی طور پر وصول کیا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر مواصلاتی آلات درآمد کرنے، الیکشن مہم کے دوران کورونا پابندیاں کو توڑنے اور لوگوں کو ہنگاموں پر اکسانے کے الزامات بھی سوچی پر عائد کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے میانمار میں سیاسی اور تجارتی اثرو رسوخ نے فوجی بغاوت کے بعد اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیے ہیں۔ وہ تمام پولیس افسران جنہیں بھارت میں تربیتی سہولتیں مہیا کی گئی تھیں وہ سب بھاگ پر بھارتی سرحد پار کر چکے ہیں اور عالمی میڈیا میں یہ خبریں اب زیر گردش ہیں کہ بھارت اب ان افسران کے ذریعے فوجی جنتا کے خلاف بغاوت کی آگ کو تیز کرے گا اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔ اتنی بڑی تعداد میں پولیس افسران کے سرحد پار کرنے پر بھارت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ افسران اس لئے آئے ہیں کہ انہیں خدشہ تھا کہ فوجی قیادت ان سے عوام پر ظلم کرائے گی مگر اندرونِ خانہ جو کھچڑی پک رہی ہے‘ وہ عالمی مبصروں سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
آج میڈیا اور سفارتی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں وہی لمحات اور واقعات خود کو دہراتے محسوس ہو رہے ہیں جو 1988ء میں دیکھنے اور سننے کو ملتے تھے۔ گوکہ اس وقت نہ تو سوشل میڈیا کا دھڑکا ہوتا تھا اور نہ ہی ہر ہاتھ میں پکڑے کیمرے کا خوف ہوتا تھا مگر بتیس برس قبل جس طرح مظاہرین سے نمٹا گیا‘ وہی طریقہ آج بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ موجودہ فوجی قیادت نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، وہ تو حالات کی سنگینی پر پریشان بھی نظر نہیں آتی مگر اس ساری صورتحال پر نظر رکھنے والے برملا کہہ رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی اتنے خوفناک حالات نہیں تھے۔ مغربی میڈیا کی اب تک رپورٹس کے مطابق‘ فوجی مداخلت کے خلاف تحریک کے میں پانچ سو سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ موجودہ صورتحال سے سب سے زیادہ روہنگیا متاثر ہو رہے ہیں۔ کل تک وہ فوج اور آنگ سان سوچی کے جبر و قہر کا نشانہ تھے‘ اب انہیں فوج مخالف مظاہرین کی طرف سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یعنی چکی کے دونوں پاٹوں میں بے چارے روہنگیا ہی پس رہے ہیں اور اسی خوف سے وہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے جنگلوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں چند روز قبل بھارتی بارڈر فورس کے مطا بق 153 روہنگیا گرفتار کیے گئے ہیں۔ بھارت کی میانمار میں دلچسپی، چین کی اس پر گہری نظر اور اقوام عالم کی تشویش کی مثلث کے درمیان میانمار کے مستقبل کی صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ طاقتیں جو عوام کو مشتعل کر کے فوج کے سامنے لائی ہیں اور اس تحریک کو خون فراہم کر رہی ہیں‘ کہاں تک اس بغاوت کو کندھا دیں گی۔ چین اور بھارت چونکہ دونوں میانمار کے ہمسایے اور تجارتی حلیف ہیں‘ اس لئے ابھرنے والی صورت حال کو وہ اپنے اپنے حق میں استعمال کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ میانمار کے گیس کے ذرائع بھارت اور چین سمیت خطے کے سبھی ممالک کیلئے کشش رکھتے ہیں‘ اس لئے ممکن ہے کہ وہ صورتحال کو جلد نارمل کرنے کی کوشش کریں جبکہ آئے روز کی ہلاکتوں سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی قوتوں نے کوئی بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تو معاملہ کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں رہے گا۔میانمار کے لوگوں کو یہ بخوبی پتا چل رہا ہے کہ عالمی طاقتیں ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہیں اور ماضی میں ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ اب میانمار کی روز بروز بگڑتی صورتحال اور برمی فوج کے ہاتھوں انسانی جانوں کے بے دریغ ضیاع کی وڈیوز پل بھر میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچ جائیں گی۔ باہر کی دنیا کیلئے یہ اس لحاظ سے فائدہ مند ہو سکیں گی کہ وہ فوجی جنتا کو کسی ایسے سمجھوتے کی جانب بڑھنے پر مجبور کر سکے گی تاکہ اس خطے میں انہیں اپنے ڈھب کی کامیابی مل سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved