تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     05-04-2021

Money Pakistan

ایک زمانے سے کراچی کے نام کا رونا رویا جارہا ہے۔ مصیبت ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پریشانی ہے کہ جان نہیں چھوڑتی۔ وعدے بھی بہت کیے گئے ہیں اور دعوے بھی کم نہیں کیے گئے۔ بہت سوں نے طرح طرح کی بڑھکیں مار کر اہلِ کراچی کو بہلانے پُھسلانے کی کوشش کی ہے۔ اہلِ کراچی کا معاملہ یہ ہے کہ اِدھر اُدھر کی باتوں سے بہل جاتے ہیں۔ جن سے کچھ کرنے کی توقع وابستہ کی جائے وہ سوچتے ہیں ؎
کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جبکہ مِٹّی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
کراچی ملک کا سب سے بڑا ہی نہیں ساحلی شہر بھی ہے۔ مالیات‘ صنعت اور تجارت ... تینوں حوالوں سے کراچی کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ اِس کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔ حکومتی مشینری کو کچھ پروا نہیں کہ کراچی کے مسائل کا کیا بنتا ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے حوالے سے شہر اتنے وسائل تو پیدا کرہی لیتا ہے کہ اپنے مسائل خود حل کرلے۔ پینے کا صاف پانی کیوں فراہم کیا جائے جبکہ لوگ خریدکر پی ہی لیتے ہیں۔ صفائی کا نظام کیوں درست کیا جائے جبکہ لوگ اپنے خرچ پر گلیوں کو صاف ستھری رکھنے کا اہتمام کرہی لیتے ہیں۔ کم و بیش تین کروڑ کی آبادی کے لیے جامع اور مؤثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ہونا چاہیے مگر حکومت کو کچھ نہیں پڑی۔ ریاستی مشینری دیکھتی ہے کہ لوگ روزانہ کام پر جانے اور واپس آنے کے لیے اپنے طور پر کوئی انتظام کرہی لیتے ہیں۔ تو پھر یہ دردِ سر مول لینے کی ضرورت کیا ہے؟ کچھ ایسا ہی حال تعلیم و صحتِ عامہ کا بھی ہے۔ ان دونوں شعبوں کی کارکردگی صفر ہے کیونکہ لوگ مجبوراً نجی ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ بچوں کو پڑھانا ہو تو نجی سکول حاضر ہیں اور علاج کی ضرورت پیش آئے تو نجی ہسپتال کم نہیں۔ ایسے میں ریاستی مشینری کو سُکون کا سانس لینے اور خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنے کا اچھا موقع ملا ہوا ہے۔
کراچی کے اصلی یعنی ڈومیسائل ہولڈر باشندوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر نہیں۔ سرکاری شعبہ انہیں گھاس ڈالنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں لوگوں کے پاس نجی اداروں میں ملازمت یا اپنا کوئی کام کرنے کے سوا آپشن نہیں۔ جس طور کسی طیارے کو آٹو پائلٹ پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ سفر کرتا رہتا ہے بالکل اُسی طور ریاستی مشینری نے کراچی کو بھی آٹو پائلٹ پر چھوڑ دیا ہے۔ پرواز کی حد تک تو معاملہ ٹھیک ہے مگر جب لینڈنگ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تب متعلقہ سرکاری شعبوں کو لگ پتا جاتا ہے۔ گزشتہ جولائی اور اگست کے دوران طوفانی بارشوں کے ہاتھوں ہونے والی شدید نوعیت کی تباہی نے وفاق کو بھی مجبور کردیا تھا کہ بیدار ہوکر معاملات درست کرنے پر متوجہ ہو۔ تب بڑی بڑی باتیں کی گئیں‘ دلاسے دیئے گئے‘ وعدے کیے گئے‘ یقین دہانیاں کرائی گئیں مگر نتیجہ؟ وہی ڈھاک کے تین پات۔ کوئی کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں۔ وزیر اعظم نے کراچی کو نئی زندگی دینے اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں جان ڈالنے کے لیے 1100 ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کے مطابق اب تک کچھ خاص نہیں ہوا۔ سرکلر ریلوے کی بحالی کے نام پر بھی اب تک لوگوں کو صرف بے وقوف بنایا گیا ہے۔
کراچی کو اس کے حقوق دلانے کے حوالے سے اب تک کی جانے والی کوششوں میں جماعتِ اسلامی نمایاں رہی ہے۔ ایم کیو ایم شہرِ قائد کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر رہی ہے مگر اس نے شہر کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کچھ کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی۔ جماعتِ اسلامی نے شہر کی بھلائی کے لیے سنجیدہ لوگوں سے رابطے بڑھاکر جو تحریک شروع کی تھی وہ اب نمایاں طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ 28 مارچ کو جماعتِ اسلامی کے تحت کراچی کو حقوق دو کے زیر عنوان ریلی نکالی گئی۔ یہ پورے شہر کے مفاد کا معاملہ ہے اس لیے جماعتِ اسلامی نے عوامی رابطہ مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس ریلی میں شرکت کی تحریک دی۔ ریلی کامیاب رہی اور عیدالفطر کے بعد (یا رمضان المبارک کے دوران بھی) کراچی کے حقوق کے حوالے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جماعتِ اسلامی نے مختلف ادوار میں کراچی کا نظم و نسق سنبھالا ہے۔ عبدالستار افغانی دو بار کراچی کے میئر منتخب ہوئے اور پوری دیانت کے ساتھ کام کیا۔ جماعتِ اسلامی کراچی کے سابق امیر نعمت اللہ خان مرحوم کو سٹی ناظم کی حیثیت سے شہرِ قائد کی خدمت کا موقع ملا اور انہوں نے حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کے عہدِ نظامت میں کراچی کے طول و عرض میں بلند پایہ ترقیاتی کام ہوئے۔ نعمت اللہ خان نے شہر کی ترقی کے لیے جو کچھ پایا اور جو کچھ خرچ کیا اس کا پورا حساب متعلقہ مشینری کو سونپ کر رخصت ہوئے۔
اس وقت کراچی کو ایک ایسی بھرپور تحریک کی ضرورت ہے جو شہریوں کے لیے حقوق کے حصول تک جاری رکھی جائے۔ یہ تحریک پُرامن مگر زوردار ہونی چاہیے۔ روایتی سٹیک ہولڈرز کے بجائے ہر طبقے اور نسل کے نوجوانوں کو اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے‘ بالخصوص دیگر صوبوں سے آکر بسے ہوئے لوگوں کو۔ جماعتِ اسلامی جو کچھ کر رہی ہے وہ بھی خوب ہے اور جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کردار خاصا قابلِ ستائش ہے مگر جماعتِ اسلامی کو کراچی کے لیے جامع تحریک کی قیادت کرتے ہوئے جدوجہد کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہیے تاکہ غیر معمولی وسعت کے حامل شہر کے بیشتر معاملات قابلِ رشک حد تک درست کرنے کی راہ ہموار ہو۔ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایسا ہر شعبہ مافیا کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے جس کے تحت شہریوں کو سہولت فراہم کرنا حکومتی یا ریاستی مشینری کی ذمہ داری ہے۔ پینے کے صاف پانی کا حصول تک انتہائی دشوار بنادیا گیا ہے کیونکہ پانی کا دھندا عروج پر ہے۔ بجلی کے بحران نے جنریٹر مافیا کو جنم دیا اور اب یہ مافیا بجلی کے بحران کو ختم نہیں ہونے دے رہا۔ باضابطہ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرانے پر زور نہیں دیا جارہا۔ اہلِ کراچی اپنی اولاد کی تعلیم‘ صحت اور دیگر مدات میں بہت کچھ خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ ملازمت کے سرکاری مواقع فروخت ہو رہے ہیں۔ کسی کے پاس پانچ لاکھ یا اس سے زائد رقم ہے تو ملازمت حاصل کرسکتا ہے ورنہ جوتے چٹخاتا پھرے گا۔
کراچی چونکہ پورے ملک کے لیے معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے مرکزِ امید ہے اس لیے ملک کے گوشے گوشے سے آکر یہاں آباد ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ شہر پر آبادی کا دباؤ بڑھے سے بنیادی ڈھانچے کی حالت مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ بعض علاقے افریقہ کے پس ماندہ ممالک کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی مشینری کو سوچنا چاہیے کہ شہر کو زندہ رکھنے کے لیے محض باتوں‘ وعدوں اور دعووں سے کام نہیں چلے گا بلکہ کچھ کرنا پڑے گا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ کچھ نہیں‘ بہت کچھ کرنا ہے۔ کراچی کے لیے وقت کے معاملے میں گنجائش بہت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ شہر کا بنیادی ڈھانچا انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ عوام کو بنیادی سہولتوں سے محرومی کی حالت میں جیتے ہوئے عشرے ہوچکے ہیں۔ لاوا پکتا رہا ہے۔ جب حد ہو جائے گی تو یہ لاوا پھٹ پڑے گا۔ جماعتِ اسلامی جیسی جماعتیں شہریوں میں پائے جانے والے اشتعال کا ناجائز فائدہ اٹھاکر حالات خراب کرنے کے بجائے پُرامن رہتے ہوئے عوامی حقوق کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ اُن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اگر کراچی کے مسائل حل کرنے پر تھوڑی توجہ دیں تو اُن کے کریڈٹ پر کوئی ایک ڈھنگ کا کام تو آہی جائے گا۔ کراچی کے معاملات کی درستی پورے ملک میں محسوس کی جائے گی کیونکہ اس وقت کراچی کی آبادی میں کم و بیش 40 فیصد وہ ہیں جو دیگر صوبوں سے آئے ہوئے ہیں۔ انہیں سہولت دینے کی صورت میں معاشی معاملات بہتر ہوں گے اور اس کے خوش گوار اثرات پورے ملک میں پھیلیں گے۔ اگر بنیادی ڈھانچا درست کرلیا جائے گا تو اندرونی سرمایہ کاری کی سطح بھی بلند ہوگی۔ مزید ہنر مندوں کی آمد سے معیشت بحال ہوگی اور Mini Pakistan حقیقی معنوں میں Money Pakistan بن سکے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved