تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-04-2021

سرخیاں، متن اور انجم قریشی

کسی پارٹی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''کسی پارٹی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘‘ حتیٰ کہ اگر ساری جماعتیں پی ڈی ایم سے نکل جائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ ایک تو میں اکیلا ہی سوا لاکھ کے برابر ہوں اور دوسرا، اگر ساری جماعتوں نے مل کر بھی کچھ نہیں کرنا تو کسی جماعت کے آنے جانے سے کیا فرق پڑے گا، تاہم اگر کسی کا روزگار ہی بند ہو جائے تو اس کے لیے اس سے بڑا مشکل مقام اور کیا ہو گا؟ آپ اگلے روز اسلام آباد میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
ٹی ایل پی معاملے پر اپوزیشن سیاست کرنا چاہتی ہے: شہباز گل
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا ہے کہ ''ٹی ایل پی کے معاملے پر اپوزیشن سیاست کرنا چاہتی ہے‘‘ حالانکہ یہ کام حکومت زیادہ خوش اسلوبی سے کر سکتی ہے، جبکہ اپوزیشن کا کام سیاست کرنا ہے ہی نہیں بلکہ اسے چاہیے کہ اپنے خلاف قائم مقدمات پر پوری توجہ دے بلکہ ان مقدمات کا بھی خیال اور فکر کرے جو فی الحال قائم نہیں ہوئے اور جلد قائم ہونے والے ہیں جس کے بعد فارغ ہو کر اگر جیل کے مقیم ہونے سے بچ جائیں تو سیاست بھی کر سکتے ہیں کیونکہ مقدمات نے اپوزیشن کو ایک ایسی مصروفیت میں ڈال دیا ہے کہ وہ دیگر تمام انجمنوں سے بے نیاز ہو گئی ہے، اس لیے اس کا جو کام ہے، وہی کرے اور حکومت کو اپنا کام کرنے دے، پیشگی شکریہ! آپ اگلے روز شاہد خاقان عباسی کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کر رہے تھے۔
وزیراعظم اپنا پھیلایا گند خود صاف کریں اور گھر جائیں: بلاول
چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''وزیراعظم اپنا پھیلایا ہوا گند خود صاف کریں اور گھر جائیں‘‘ کیونکہ ہم نے بھی اپنا پھیلایا ہوا گند خود صاف کیا ہے اور جو تھوڑا بہت باقی رہ گیا ہے اس کے لیے بھی پس پردہ بات چیت ہو رہی ہے اور جلد ہی وہ بھی صاف ہو جائے گا؛ تاہم ہمیں گھر جانے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ گھر بیٹھ کر ہی کیا ہے جبکہ ویسے بھی کورونا وائرس کا دور دورہ ہے اور سب کو گھر میں بیٹھ کر ہی سارے کام نمٹانے چاہئیں اور بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ بھی مل مل کر دھونے چاہئیں، یہ میلے ہاتھوں کا واحد علاج ہے جبکہ ویسے بھی صفائی، ہاتھوں کی صفائی سمیت نہایت ضروری ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
جہانگیر اور وزیراعظم کے رابطے بحال ہو گئے ہیں: راجہ ریاض
تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض احمد نے کہا ہے کہ ''جہانگیر ترین اور وزیراعظم کے رابطے بحال ہو گئے ہیں‘‘ جس سے کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی اور گھر کی بات گھر ہی میں رہ جائے تو یہی سب سے زیادہ مستحسن بات بھی ہے اور گھر کو میرا گھر، میرا گلشن بھی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں ہر طرح کے پھول کھلتے ہیں، اس لیے اب امید پیدا ہو گئی ہے کہ جو گرد و غبار دونوں فریقوں کے دوران پیدا ہو گیا ہے وہ ایک دو ملاقاتوں میں دور ہو جائے گا، گلیاں سنجیاں ہو جائیں گی اور ان میں مرزا یار پھرے گا۔ آپ اگلے روز ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔
حکومتی ترجیح نواز شریف کی جائیدادیں ضبط کرنا : احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''حکومت کی اس وقت ترجیح نواز شریف کی جائیدادیں ضبط کرنا ہے‘‘ حالانکہ یہ کسی کی خون پسینے کی کمائی ہے اور اس طرح اسے ضبط کرنا کسی طرح سے بھی مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور اگر کچھ کرنا ہی تھا تو حکومت ان کی لندن سے واپسی کا انتظار کر لیتی لیکن حکومت بے صبرے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں واقع جائیدادیں لندن کی جائیدادوں کے عشر عشیر کے برابر بھی نہیں‘ اسی لیے انہوں نے لندن میں جائیدادیں بنانے کو ترجیح دی تا کہ حکومت کی نظر بد سے محفوظ رہیں اور اگر حکومت ایسا کر گزرتی ہے تو اسے اس کا حساب دینا پڑے گا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور، اب آخر میں انجم قریشی کے مجموعۂ کلام ''دوجا پاسا‘‘ میں سے یہ نظم:
Preference
تینوں چیتا اے توں ساہ بھریں
جے دُکھ جاویں تے ہاہ بھریں
تینوں وَل اے دنیاداری دا
پر مینوں توں بھُل جانا ایں
توں چھل بٹل توں نہیں مڑدا
جتھے مرضی من دی اُٹھ ٹردا
تینوں چاہ یاراں دی یاری دا
پر مینوں توں بھُل جانا ایں
اکھ بھر کے سوکن ول ویکھیں
جیہڑی رہ جائے اج اوہنوں کل ویکھیں
تینوں چیتا سب دی واری دا
پر مینوں توں بھُل جانا ایں
اُنج ویلا کسے تے بھار نہیں
تیرے بھُلن وچ کوئی عار نہیں
پر کیہ فائدہ ایس خواری دا
جے مینوں توں بھُل جانا ایں
آج کا مقطع
گزر گئی تھی مجھے کچل کر ظفرؔ کوئی شے
وگرنہ میں تو کہیں کنارے پہ جا رہا تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved