تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     28-04-2021

آزمائش!

ہم سانس اس لیے لے پاتے ہیں کہ فضا میں آکسیجن وافر مقدار میں موجود ہے اور ہمارے خون میں بھی‘ لیکن اگر ہمارے خون میں آکسیجن کی مقدار مقررہ حد سے تھوڑی سی کم ہو جائے تو ہماری سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔ اس وقت ہمیں ضرورت سے زیادہ آکسیجن درکار ہوتی ہے۔ کورونا یہی کرتا ہے۔ جب یہ وائرس پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے تو اچھا بھلا بندہ خشکی پر مچھلی کی طرح تڑپنا شروع ہو جاتا ہے۔ بھارت میں جس طرح کورونا کے مریض سڑکوں پر آکسیجن کے لیے تڑپتے دکھائی دے رہے ہیں‘ ان مناظر کو دیکھ کر خوف آتا ہے۔ آکسیجن کتنی بڑی نعمت ہے‘ یہ اب پتا چل رہا ہے۔ بھارت میں مریض کو ہسپتال لے جانے والوں کو ہسپتال کے دروازے سے ہی واپس کیا جا رہا ہے‘ کئی تو باہر سڑک پر اس آس میں دم توڑ دیتے ہیں کہ شاید ابھی کوئی ڈاکٹر آ کر دیکھ لے یا انہیں آکسیجن سلنڈر مل جائے۔ کچھ دوسرے ہسپتالوں کی طرف لپکتے ہیں اور راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لاشیں اتنی ہیں کہ انہیں جلانے والا بھی کوئی نہیں۔ وہی بھارتی پولیس جو گزشتہ سال مسلمانوں کو مسجدوں میں جا کر ڈنڈے مارتی تھی‘ اب سڑکوں پر آ کر اعلانات کر رہی ہے کہ مسلمان مساجد میں‘ نمازِ تراویح میں دُعا کریں کہ بھارت کو اس عذاب سے نجات مل جائے۔ یہ سب کچھ پلک جھپکتے میں نہیں ہوا۔ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے عوام کی طرح‘ بھارتی عوام بھی اپنی حکومت کے احکامات پر کان دھرنے کو تیار نہ تھے۔ ایس او پیز کو فالو کرنا تو دُور کی بات‘ وہاں بھی کورونا کو ایک سازش اور امیر کی بیماری قرار دیا جا رہا تھا۔ پھر وہاں تہوار وغیرہ بھی خوب عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منائے جاتے رہے۔ پہلی لہر کے بعد جب بھارت میں کورونا کے کیسز کم ہوئے تو لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ وبا مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ جس کے بعد پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے لوگ آپس میں گھلنے ملنے لگے۔ پاکستان میں بھی یہی کچھ ہوا۔ تیسری لہر سے پہلے بظاہر حالات نارمل نظر آ رہے تھے لیکن اس دوران وائرس نئی تیاری کے ساتھ حملہ کر چکا تھا۔ پھر وائرس کی نئی نئی قسموں نے الگ عذاب ڈھا دیا۔ بیرونِ ملک سے آمدو رفت کھولنے کی وجہ سے یہ نئی قسمیں پاکستان بھی آ گئیں۔ ابھی تک اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بھارت والا وائرس نہیں آیا لیکن اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بھارت سے یاتری بڑی تعداد میں پاکستان آئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی آنا جانا لگا ہوا تھا۔
آج دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز قیمتی نظر آتی ہے وہ نہ دبئی کا بیش قیمت بنگلہ ہے‘ نہ پرائیویٹ جیٹ اور نہ ہی کوئی بڑا عہدہ۔ آج چلتی سانسیں اور آکسیجن ہی اربوں انسانوں کیلئے جینے کی واحد کرن ہے۔ آٹھ دس گھنٹے کے لئے اگر آکسیجن خرید کر سانس لینا پڑے تو اس کیلئے جیب میں چالیس پچاس ہزار روپے ہونے چاہئیں؛ تاہم جس طرح سے آکسیجن کی طلب زیادہ اور رسد کم ہو رہی ہے‘ آکسیجن کا کسی بھی قیمت پر مل جانا بڑی غنیمت شمار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت‘ دونوں کیلئے آکسیجن انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ذخیرہ اندوز اس نازک موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ عام دنوں میں جو سلنڈر دس ہزار کا ملتا تھا‘ اب پچاس ہزار کا بھی نہیں مل رہا۔ گزشتہ برس جب کورونا کا آغاز ہوا تھا تو میڈیکل سٹورز مافیا بن گئے تھے۔ لاہور میں ایک میڈیکل سٹور ایسا بھی ہے جہاں ہر وہ دوا مل جاتی ہے جو اردگرد کہیں دستیاب نہیں ہوتی لیکن اس کی قیمت تین سے چار گنا تک وصول کی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے لاہور میں پارے والا تھرمامیٹر دستیاب نہیں‘ عام دنوں میں یہ چالیس‘ پچاس روپے مل جاتا ہے مگر اب یہ جہاں سے بھی مل رہا ہے‘ ڈھائی‘ تین سو روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔ گزشتہ برس این نائٹی فائیو ماسک بھی انہی مخصوص میڈیکل سٹورز پر تین‘ تین ہزار روپے کا فروخت ہوا تھا۔ جان پر بن جائے تو لوگ مجبوراً منہ مانگی قیمت ادا کرتے ہیں ۔ ایسے دکانداروں سے پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری خرید بھی مہنگی ہے‘ اسی لئے آگے بھی اسی حساب سے بیچ رہے ہیں۔ بعض میڈیکل سٹورز کی حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن کچھ مخصوص میڈیکل سٹورز‘ جہاں سے ہر برے وقت میں دوا مل جاتی ہے‘ ان کے پیچھے لازماً کچھ راز ہوں گے۔ یقینا ایسے میڈیکل سٹورز بڑے ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ مل کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ کب کس چیز کی شارٹیج ہونی ہے‘ یہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر وہ چیز سٹاک کر لیتے ہیں۔ مارکیٹ میں جب تمام میڈیکل سٹورز کے پاس وہ ادویات ختم ہو جاتی ہیں تب یہ آہستہ آہستہ اپنا سٹاک نکالنا شروع کرتے ہیں اور من مانی قیمت وصول کرتے ہیں۔ بھارت میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ بھارتی حکومت دیگر ملکوں سے آکسیجن بھیجنے کی درخواستیں کر رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو ایٹم بم اور دیگر اسلحے کے زور پر آئے روز پاکستان پر چڑھ دوڑنے کی باتیں کرتا تھا‘ آج آکسیجن کیلئے دنیا سے مدد مانگ رہا ہے۔ یہ وقت صرف بھارت کیلئے ہی نہیں‘ پوری دنیا کیلئے سوچنے کا وقت ہے کہ اس زمین پر موجود لوگوں کو رافیل جیسے جدید جنگی طیاروں کی ضرورت ہے‘ انہیں ایٹم بم درکار ہیں‘ جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کی تمنا ہے یا پھر صحت‘ تعلیم‘ صاف پانی اور رہائش کی سہولتیں ان کی بنیادی اور اشد ضروریات میں سے ہیں۔ بھارت کا مسئلہ آبادی نہیں‘ آبادی تو چین کی بھارت سے بھی زیادہ ہے۔ مسئلہ وہاں کی حکومت اور اس کی ترجیحات ہیں۔ بھارت مذہبی‘ علاقائی اور نسلی تعصبات اور سیاست میں اتنا زیادہ ڈوب چکا ہے کہ اس کیلئے اپنے عوام کے بنیادی حقوق کو پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون لگانے والا بھارت آج کشمیر سے بھی زیادہ برے حالات کا شکار ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے بھارت کیلئے اس موقع پر کسی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ حکومت اور عوام‘ دونوں کی طرف سے بھارت کے ساتھ اس موقع پر افسوس اور حالات کی بہتری کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا گیا۔ اس کے باوجود بھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا جاری ہے۔ بھارت چین پر بھی شدید تنقید کر رہا ہے‘ کہا جا رہا ہے کہ چین نے خود وائرس پر کنٹرول کر لیا لیکن بھارت کی مدد کو نہیں آ رہا۔ بھارتی میڈیا یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ بھارت میں کورونا کے پھیلائو کے پیچھے چین کا ہاتھ ہے۔ کورونا سے قبل بھارت اور چین کے مابین لداخ پر جھڑپیں جاری تھیں۔ معاشی اور دفاعی میدان میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ چین مگر بہت سیانا ہے کہ اس نے اپنی معیشت کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کا بھی خیال رکھا۔ بھارت اس معاملے میں دھوکا کھا گیا یا پھر اپنے عوام کو دھوکا دینے کے چکر میں نقصان اٹھا گیا۔ آج بھارت کی فلم انڈسٹری کو بھی کورونا نے ویران کر دیا ہے۔ تمام آئوٹ ڈور اور اِن ڈور شوٹنگز رُکی ہوئی ہیں۔ معروف بھارتی نغمہ نگار شیام دیہاتی اور شراون راٹھور چند روز قبل کورونا سے چل بسے۔ بھارتی ٹی وی چینلز پر اس وقت ایک سو پچیس سے زیادہ انٹرٹینمنٹ شوز چل رہے ہیں لیکن ان میں کوئی مہمان آنے کو تیار نہیں‘ جس کی وجہ سے یہ شوز بند ہونے کے قریب ہیں، بھارتی میڈیا اور ٹی وی انڈسٹری اپنے سٹاف کو تنخواہیں نہیں دے پا رہے۔ بھارت میں کورونا کے کیسز میں اضافے کے باوجود حکومت نے تہواروں اور انتخابی مہم کے لیے ہونے والے اجتماعات کو روکنے کا فیصلہ نہیں کیا جس کی وجہ سے وائرس کے پھیلائومیں تیزی آئی۔ بھارت میں کورونا کی جو نئی قسم سامنے آ چکی ہے اسے کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کو بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا ہے ۔ہمارا ہیلتھ کیئر نظام ہمارے سامنے ہے۔ جدید ممالک جب اس کے آگے ناکام ہو گئے تو ہم کیا چیز ہیں۔
عید سے قبل اندھا دھند شاپنگ کی وجہ سے کورونا کیسز بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ویسے تو اب فوج آ گئی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ عوام خود حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔گھر بیٹھیں‘ سادگی سے عید منائیں‘ توبہ استغفار کریں اور اللہ سے اس عذاب سے نجات کی دُعا کریں کہ اس آزمائش سے ہمیں وہی بحفاظت نکال سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved