تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     17-05-2021

عید کے بعد!

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ ذاریات کی آیت 56 میں انسانوں کی تخلیق کے مقصد کو واضح فرما دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ عصر میں ایمان کے ساتھ ساتھ عملِ صالح کی بھی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ عصر میں ارشاد فرماتے ہیں: ''قسم ہے زمانے کی۔ انسان یقینا خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو وصیت (تلقین) کی حق (بات) کی اور ایک دوسرے کی وصیت (تلقین ) کی صبر کی‘‘۔ سورہ ملک کی دوسری آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے موت وحیات کو خلق کرنے کے مقصد کو واضح فرما دیا کہ اس تخلیق کا مقصد ہی انسانوں کے اعمال کو جانچنا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ ملک کی آیت 2 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''(وہ) جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو تاکہ وہ آزمائے تمہیں (کہ) تم میں سے کون زیادہ اچھا ہے عمل کے لحاظ سے اور وہی غالب اور خوب بخشنے والا ہے‘‘۔
کتاب وسنت کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اعمال کی قبولیت کے لیے دو شرائط کا ہونا ضروری ہے؛ پہلی شرط یہ ہے کہ اعمال خالصتاً اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیے جائیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اعمال نبی کریمﷺ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوں۔ اگر اعمال میں یہ دونوں شرائط موجود ہوں تو وہ اعمال اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول بن جاتے ہیں۔ ایمان و عمل میں ترقی کے لیے انسان کو جہاں پر کتاب وسنت سے رہنمائی حاصل کرنے اور علم کو بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے وہیں پر اس کو اچھا ماحول بھی میسر آنا چاہیے۔ اچھے ماحول کے نتیجے میں انسان کے ایمان و عمل میں اضافہ ہوتا ہے؛ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اعمالِ صالحہ میں ترقی کے لیے بعض ایسے مواقع فراہم کیے ہیں جن میں ایمان اور عملِ صالحہ کی رغبت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ رمضان المبارک کے ایام اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان میں نیکیوں کا ذوق وشوق اور جذبہ عام دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور انسان بہت سے اچھے اعمال کی انجام دہی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا فرض عمل روزہ رکھنا ہے ‘ روزہ اپنی ظاہری صورت میں چند گھنٹوں کے لیے کھانے پینے اور اپنی جائز خواہشات کو دبانے کا نام ہے لیکن اس کا مقصد انسانوں میں تقویٰ پیدا کرکے ان میں ناجائز اُمور سے باز رہنے کی صلاحیت کو پیداکرنا ہے۔ حدیث پاک کے مطابق‘ جب انسان ایمان اور ثواب کی نیت سے روزے رکھتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی سابقہ تمام خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں ۔ اسی طرح رمضان المبارک میں خصوصیت سے قیام اللیل کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ جو شخص رمضان المبارک میں ایمان اور ثواب کی نیت سے راتوں کا قیام کرتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی سابقہ خطاؤں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک میں زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات کا بھی خصوصیت سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں لوگ بکثرت اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور اپنی دعاؤں اور التجاؤں کو پیش کرتے ہیں ۔ رمضان المبارک میں ذکرِ الٰہی بھی کثرت سے کیا جاتا ہے ۔ صاحبِ حیثیت اور متمول لوگ رمضان المبارک کے ماہِ مبارک میں عمرہ ادا کرنے کے لیے حرمِ پاک جاتے ہیں اور حدیث طیبہ کے مطابق‘ رسول اللہﷺ کی معیت میں کیے جانے والے حج کا ثواب حاصل کرکے واپس پلٹتے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے مہینے میں لیلۃ القدر کی جستجو بھی کی جاتی ہے اور اعتکاف کے دوران خلوت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ خصوصی تعلق استوار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے ۔ نیکیوں کا موسمِ بہار جب ہم سے وداع ہوتا ہے تو عید کی خوشیاں اہل اسلام کے دروازوں پر دستک دے رہی ہوتی ہیں۔ جن لوگوں نے اچھے طریقے سے رمضان المبارک میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کی ہوتی ہے خوشی کے یہ لمحات یقینا ان کی مسرت کو دو چند کر دیتے ہیں۔بدقسمتی سے عید کے بعد بہت سے لوگ رمضان المبارک میں حاصل کیے جانے والے دروس سے غافل ہو جاتے ہیں حالانکہ عید کے بعد بھی انسان کو اچھے اعمال کی انجام دہی کے لیے مستعد اور یکسو رہنا چاہیے۔ اہل اسلام کو سمجھنا چاہیے کہ رمضان المبارک میں کیے جانے والے بہت سے اعمال کو عید کے بعد بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔
رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے سے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کو پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ اسی طرح ہر قمری مہینے کی 13،14 اور 15 تاریخ اور ہر ہفتے میں پیر اور جمعرات کا روزہ بھی انسان کی نیکیاں بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح یوم عرفہ اور عاشورہ کے روزے بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ قرآنِ مجید کے حقوق کی ادائیگی کو فقط رمضان المبارک تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ رمضان کے بعد بھی قرآنِ مجید کی تلاوت ، اس پر تدبر ، اس پر عمل ، اس کی تبلیغ اور اس کے قیام کے لیے ہر مسلمان کو جستجو جاری رکھنی چاہیے۔ رمضان المبارک کے بعد انسان کو تہجد کی نماز ادا کرنے کی بھی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ تہجد یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ کی قربت کے حصول اور انسان کو نیکیوں کے راستے پر گامزن رکھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح انسان کو اپنی مشکلات میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں مناجات کرنے والے معاملے کو بھی جاری رکھنا چاہیے۔ عالم ِ اسباب میں رہتے ہوئے اسباب کو اختیار کرنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ بارگاہ میں آ کر دعا مانگنا اور اس سے غیبی مدد اور نصرت کو طلب کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے کہ اسباب میں تاثیر پیدا کرنے کی والی اور ان کو جمع کرنے والی ذات یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ بلاسبب بھی انسانوں کی مدد کرنے پر قادر ہیں۔
رمضان المبارک میں انسان کثرت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ اُن اذکار کو رمضان کے بعد بھی انسان کو جاری وساری رکھنا چاہیے۔ تسبیح ، تہلیل، تمحید کے ساتھ ساتھ خصوصیت سے اپنے گناہوں پر آنسو بہانا یقینا جہاں پر انسان کی آخرت کو سنوارنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے وہیں پر دنیا میں بھی اس کی تکالیف اور مشکلات کو حل کرنے کا بہت بڑا سبب ہے۔ جب انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تکالیف کو دور فرما دیتے ہیں۔ اسی طرح استغفار کی برکت سے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کو بہت سی نعمتوں سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ سورہ نوح کی آیات 10 تا 12میں اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کی بات کو یوں بیان فرماتے ہیں: ''تو میں نے کہا: بخشش مانگو اپنے رب سے‘ بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ بھیجے گا بارش تم پر موسلا دھار اور وہ مدد کرے گا تمہاری مالوں اور بیٹوں کے ساتھ اور وہ (پیدا) کر دے گا تمہارے لیے باغات اور (جاری) کر دے گا تمہارے لیے نہریں‘‘۔
غریب اور سائلین کی مدد کے لیے اپنا مال خرچ کرنے کو رمضان تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ بعد از رمضان بھی غربا ، مساکین اور یتامیٰ کی مدد کو جاری رکھنا چاہیے۔ اعتکاف میں کل وقتی طور پر انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کے ساتھ تعلق کو استوارکرنے کی کوشش کرتا ہے بعد از رمضان بھی انسان کو تنہائی کے لمحات میں اپنا احتساب کرنا چاہیے اور خلوت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرنے کی بھی جستجو کرنی چاہیے۔ متمول اور صاحبِ حیثیت لوگوں کو رمضان کے بعد بھی عمرے کا قصد کرتے رہنا چاہیے۔ نیکیوں کا یہ سفر انسان کی زندگی کے آخری لمحات تک جاری رہنا چاہیے تاکہ انسان کو جس وقت موت آئے وہ اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کا حقیقت میں فرمانبردار ہو۔ اس حقیقت کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت 102 میں کچھ یوں فرمایا ہے: ''اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے (ایسے ) ڈرو (جیسا کہ) اس سے ڈرنے کاحق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام اہلِ اسلام کو اچھے اعمال کو بکثرت بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس حالت میں موت دے کہ ہم اس کے فرمانبردار ہوں، آمین !

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved