تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     23-06-2021

اڈے، پانی اور ٹیکس

دنیا کے ہر قابل ذکر ملک میں مقیم پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو میں پاکستان کی جانب سے امریکا کو ہوائی اڈے نہ دینے کے دو ٹوک فیصلے پر حیران ہو رہے ہیں کہ اتنی ہمت اور جرأت کس طرح کی گئی؟ امریکا‘ جس کے ایک اشارے پر دنیا کی تین چوتھائی ریاستیں ہاتھ باندھے کھڑی ہو جاتی ہیں‘ کو ایک ایسا ملک جو قرضوں میں بال بال جکڑا ہوا ہو اور جو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور یورپی یونین کی مراعات سے مستفیض ہو رہا ہو‘ کس طرح انکار کر سکتا ہے؟ اس ملک میں عالمی اداروں کے گاڈ فادر امریکا کو دوٹوک جواب دینے کی ہمت اور جرأت کیسے آ گئی؟ عالمی معاملات پر نظر رکھنے والے سیاسی اور دفاعی ماہرین نے یہ انکار سننے کے بعد بلامبالغہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں، کیونکہ امریکا کو انکار کرنے والے ہر حکمران کا انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اپنی اب تک کی سیاسی جدوجہد میں ڈرون حملوں کے خلاف ڈٹ جانے والے، نیٹو کی سپلائی لائن منقطع کرنے کا مطالبہ کرنے والے آج اپنے دورِ اقتدار میں اپنی سرزمین افغانستان، ایران اور چین کے خلاف استعمال کرنے کی اجا زت دیدیں؟ ایک طرف ہم لوگ ہیں جو امریکا کو اڈے نہ دینے کے نتائج کے خوف سے ابھی سے سہمے جا رہے ہیں تو ساتھ ہی ہمارے کچھ طبقات معاشی پابندیوں کو لے کر الگ سے اس جرأت پر حیران و پریشان ہو رہے ہیں۔ ایسے کم ہمت افراد کو بجائے پاکستان‘ اپنے سے بھی کمزور سری لنکا کے ایک محکمے کے سربراہ کی ہمت وجرأت کی کہانی سننی چاہیے جس نے ملکی قانون کی با لادستی کیلئے ہوائی اڈہ تو دور کی بات‘ امریکی سفارت خانے کو پانی کا غیر قانونی کنکشن دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
قریب ایک دہائی قبل کا قصہ ہے کہ سری لنکا میں امریکی سفارت خانے کو ایک دن بیٹھے بٹھائے نجانے کیا سوجھی کہ اس نے کولمبو میں پانی سپلائی کرنے والی کمپنی کی مین پائپ لائن سے بغیر کسی اجازت اور بغیر متعلقہ محکمے کو اطلاع دیے کنکشن سفارت خانے کے رہائشی حصے سے منسلک کر دیا جو کولمبو کے واٹر سپلائی ادارے کے مروجہ قوانین کے تحت ناجائز اور خلافِ قانون تھا۔ کچھ عرصے بعد کولمبو کے پانی سپلائی کرنے والے محکمے کو اس کی اطلاع ہو گئی اور اس ادارے نے امریکی سفارت خانے کو خط لکھتے ہوئے تنبیہ کی کہ آپ نے غیر قانونی واٹر کنکشن اپنی رہائش گاہوں سے منسلک کر لیا ہے؛ چونکہ یہ کنکشن ہمارے قوانین اور ضابطوں کے خلاف ہے‘ اس لئے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ اسے فوری طور پر منقطع کر دیں۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ نوٹس ملنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر یہ کنکشن اتر جانا چاہئے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو واٹر سپلائی کا محکمہ خود یہ کنکشن کاٹ دے گا۔
امریکی سفیر تک کولمبو واٹر سپلائی کمپنی کا یہ نوٹس پہنچا دیا گیا لیکن اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد غیر ضروری فائلوں کی نذر کر دیا گیا کیونکہ کہاں امریکا اور کہاں سری لنکا جیسا تیسری دنیا کا جنگ زدہ ملک‘ کیا وہ امریکی ایمبیسی کے پانی کا کنکشن کاٹنے کی ہمت کر سکتا تھا؟ چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد جب کولمبو واٹر سپلائی کمپنی کو بتایا گیا کہ غیر قانونی کنکشن ابھی تک اسی طرح چل رہا ہے تو اگلے دن پانی سپلائی کرنے والی کمپنی کے اہلکاروں نے امریکی سفارتی عملے کی رہائش گاہوں میں نصب غیر قانونی کنکشن کے ہمراہ پانی کا لیگل کنکشن بھی منقطع کر دیا۔ سری لنکا جیسے تیسری دنیا کے ملک کی اس حرکت نے چند منٹوں میں ہی ایک بھونچال پیدا کر دیا۔ سب سے بڑی بات یہ کی جا نے لگی کہ ان لوگوں کی اتنی جرأت کیونکر ہوئی۔ امریکی سفارت خانے سے واٹر سپلائی کرنے والی کمپنی کے جنرل منیجر کو ایک فون کال موصول ہوئی کہ اگلے پندرہ منٹ میں پانی کے یہ کنکشن بحال کر دیے جائیں لیکن اس دھمکی نما ہدایت پر عمل کرنے کے بجائے واٹر بورڈ کی طرف سے امریکی سفارت خانے کو یہ نوٹس موصول ہوا کہ اگر آپ کنکشن بحال کرانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو پہلے غیر قانونی کنکشن کے جرم میں تین ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہو گا، اس کے بعد آپ باقاعدہ درخواست دائر کریں گے اور آپ کا صرف وہی کنکشن بحال کیا جائے گا جس کی آپ نے اجا زت لے رکھی ہے۔ کوئی دھمکی اور کوئی دبائو کولمبو کی واٹر سپلائی کمپنی کے جنرل منیجر پر اثر نہ کر سکا اور سری لنکا کا قانون اور پانی سپلائی کرنے والی کمپنی کے ضابطے جیت گئے۔ بالآخر امریکی سفارت خانے نے تین ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے کے بعد ایک کنکشن بحال کرا لیا اور دوسرے کنکشن کیلئے اسے دوبارہ سے درخواست دینا پڑی اور پھر مجوزہ ضابطے اور سرکاری فیس ادا کرنے کے بعد کہیں ان کا رہائشی عمارت کا نیا واٹر کنکشن لگایا گیا۔ امریکی شاید پاکستان جیسے ممالک میں خود کو کسی بھی قانون اور ضابطے کا پابند نہیں سمجھتے۔ ریمنڈ ڈیوس کی مثال سب کے سامنے ہے۔
آج دنیا بھر میں جرمنی کی مضبوط معیشت کا چرچا ہے اور اس باب میں جرمنی کی چانسلر اینجلا مارکل کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے لیکن اس کیلئے صرف اینجلا ہی نہیں بلکہ جرمنی کے ایک ایک فرد نے اپنا خون اور پسینہ نچھاور کیا ہے۔ قومیں ایسے ہی نہیں بنتیں۔ بڑے بڑے پروجیکٹس اور ہائیڈرل پاور سٹیشن خود سے کھڑے نہیں ہو جاتے‘ اس کیلئے قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں ٹیکس کی بات کی جائے تو فوراً ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس روز پاکستان کے ہر فرد نے پوری ایمانداری اور جذبے سے ریا ست کو ٹیکس دینا شروع کر دیا‘ اس ملک میں دودھ کی نہریں بھی بہیں گی اور شہد کے دریا بھی دیکھنے کو ملیں گے لیکن اس کیلئے وہ ہمت‘ ایثار اور جذبہ اختیار کرنا پڑے گا جو جرمن قوم نے دوسری جنگ عظیم کی شکست اور ناقابلِ بیان تباہی کے بعد اپنایا تھا۔
جرمنی کے دارالحکومت میونخ میں سینٹرل بزنس اینڈ انڈسٹریل فیڈریشن نے اپنے ایک اجلاس میں حکومتِ جرمنی سے یہ اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''ہمارے خیال ہے کہ جرمنی کے تاجر جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں‘ اس کی شرح بہت کم ہے‘ اس لیے ہم آج اپنے متفقہ اجلاس میں جرمنی کی وزارتِ خزانہ اور ٹیکس وصول کرنے والے اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ ٹیکس کے پرانے سلیب ختم کر کے نئے ٹیکس سلیب بنائے جائیں تاکہ ہم جرمنی کو پہلے سے زیا دہ ٹیکس ادا کر سکیں‘‘۔ اسی قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ''اگر کوئی بھی جرمن شہری دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی قسم کی کوئی پراپرٹی خریدتا ہے تو اسے اس بات کا سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ جتنی مالیت کی جائیداد جرمنی سے باہر خریدتا ہے‘ اتنی ہی رقم کے حساب سے ٹیکس جرمنی کے خزانے میں جمع کرائے‘‘۔ کیا ہم اس معاملے میں جرمن قوم کی برابری کر سکتے ہیں؟ کیا یہ امر کسی سے ڈھکا چھپا ہے کہ ہم اپنے معمولی سے فائدے کے لیے ریاست اور ملک کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے؟ کتنے کاروباری لوگ ہیں جو دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ٹیکس کے معاملات میں کبھی کوئی بھید بھائو نہیں رکھتے، کبھی بے ایمانی نہیں کرتے، حکومت کو اس کا حق پورا پورا ادا کرتے ہیں؟ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی‘ ہر جگہ سے روپیہ روپیہ تک بچانے کے الگ الگ طریقے ہیں، بیشمار افراد تو ایسے ہیں‘ جو دوسروں کو بھی بجلی کا کنڈا ڈالنے، ٹیکس چوری کرنے اور کسٹم ڈیوٹی سے محفوظ رہنے کے طریقے بتاتے ہیں، مگر یہ سب کس کام کا؟ پاکستان میں رشوت خوروں، بد دیانتوں، کمیشن مافیا، ٹیکس چوروں، دس نمبری مال کو ایک نمبر کہہ کر بیچنے والوں، بجلی، پانی اور گیس چوری میں شریک تمام افراد، بدعنوان ٹھیکیداروں کیلئے ایک ہی پیغام ہے کہ کیڑوں کو پرندے اور جانور کھاتے ہیں، پرندوں اور جانوروں کو انسان کھاتا ہے اور قبر میں انسان کو کیڑے کھا جاتے ہیں۔ یہ سائیکل یونہی چلتا ہے‘ کسی کو استثنا نہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved