تحریر : بیرسٹر حمید باشانی تاریخ اشاعت     30-06-2021

انگریزی زبان‘ لباس اور احساسِ کمتری

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انگریزی بولنا اور مغربی لباس پہننا فخر کی بات نہیں‘ بلکہ احساسِ کمتری کی نشانی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا میں انگریزی کو جدید علوم کے حصول کا بنیادی ذریعہ اور کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے۔ اس باب میں دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں‘لیکن ہم یہاں صرف عوامی جمہوریہ چین کی مثال پیش کریں گے جس کو اکثر ہمارے ہاں ترقی اور کامیابی اور خوداعتمادی کی ایک عظیم مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
زبان کے حوالے سے جب چین کا ذکر آتا ہے تو اکثر چیئر مین ماؤ کی مثال دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماؤ کوا نگریزی زبان بہت اچھی آتی تھی لیکن وہ کبھی کسی عالمی رہنما کے ساتھ ملتے وقت انگریزی نہیں بولتے تھے۔ ان کے ساتھ ہمیشہ ترجمان ہوتا تھا۔ جب چیئرمین ماؤ سے اس سلسلے میں پوچھا گیا کہ آپ کو اچھی انگریزی بولنی آتی ہے تو پھر آپ ترجمان کیوں رکھتے ہیں ؟ تو ماؤ نے کہا:چین گونگا نہیں ہے۔ ماؤ کے اس عمل اور فرمان سے کچھ لوگ چپکے سے ان نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ چینی انگریزی بولنے اور سیکھنے سے اجتناب کرتے ہیں‘ مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ چین کی انگریزی میں گہری دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے‘ لیکن آج کے چین میں لوگ انگریزی سیکھنے اور بولنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 650 ملین چینی باقاعدہ انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں۔ آج عوامی جمہوریہ چین کے طول و عرض میں انگریزی زبان سیکھنے سکھانے کے سکول اس طرح اُگ رہے ہیں جس طرح بارش کے بعد کھمبیاں اُگتی ہیں۔ اس وقت چین کی کل آبادی تقریباً1.35 بلین سے زیادہ ہے۔ ان میں سے 650 ملین لوگ انگریزی سیکھ رہے ہیں‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت چین کی کل آبادی کا تقریبا ًنصف انگریزی سیکھنے میں لگا ہوا ہے۔
چین سے باہر آپ کسی انگریزی بولنے والے ملک کے کسی تعلیمی ادارے میں چلے جائیں‘ زبان سکھانے والے کسی سکول میں چلے جائیں ‘ آپ کو چینی طلبہ کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ نظر آئے گی۔ چین میں انگریزی زبان کے اخبارات مقبول ہیں۔ انگریزی ٹیلی وژن چینل موجود ہیں جن پر چوبیس گھنٹے انگریزی زبان میں پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ انگریزی زبان کی مقبولیت کی ایک جھلک چین کے نظامِ تعلیم میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔2001 ء سے لے کر چین میں پرائمری سکول میں گریڈ تین سے انگریزی زبان لازمی ہے۔ انگریزی زبان چین کے کسی بھی کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کے لیے لازمی ہے۔ کالج اور یونیورسٹی میں انگلش لازمی مضمون ہے۔ یونیورسٹی ڈگری کے لیے گریڈ فور کا انگلش ٹیسٹ پاس کرنا بھی لازمی ہے۔ چین میں انگلش سکھانے والے سکولوں کی بھر مار ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جس میں انگریزی زبان والے ممالک سے اساتذہ انگریزی پڑھانے کے لیے رخ کر رہے ہیں اور ان انگلش ٹیچرز کے لیے جن کی مادری زبان انگریزی ہے چین روزگار کی ایک بہت بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تقریبا 405بلین امریکی ڈالر کی مارکیٹ ہے جس میں بارہ سے پندرہ فیصد کی شرح سے ترقی ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود چین خود اعتماد ہے اور احساسِ کمتری سے کوسوں دور ہے۔
یہ رہا زبان کا قصہ! اب بات کرتے ہیں لباس کی‘ جس پر کیا بات کی جائے۔ چین لباس کے معاملے میں مغرب سے زیادہ مغربی ہے۔ چین کی آبادی کی غالب اکثریت اس وقت مغربی لباس پہنتی ہے‘ جس میں پینٹ شرٹ اور سکرٹ وغیرہ شامل ہیں۔ چین کے لباس میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ تبدیلی بیسویں صدی کی ابتدا میں برپا ہونے والے کلچرل انقلاب کا نتیجہ ہے۔ یاد رہے کہ اس کلچرل انقلاب سے مراد ڈینگ ژیاو پینگ کی قیادت میں آنے والا پرولتاری ثقافتی انقلاب نہیں ہے جو 1966ء سے شروع ہو کر1976 ء تک جاری رہا تھا۔ جس انقلاب کی یہاں بات ہو رہی ہے یہ وہ انقلاب ہے جو بیسویں صدی کے پہلے اور دوسرے عشرے میں بڑی خاموشی سے برپا ہوا۔ اس کو چار مئی کی تحریک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چین کی سامراج دشمن ثقافتی اور سیاسی تحریک تھی‘ جو چار مئی 1919ء میں بیجنگ میں طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں برپا ہوئی تھی۔ اس تحریک کا نقطۂ ماسکہ چین کے پرانے کلچر کی مخالفت اور نئے کلچر کے فروغ کی کوشش تھا۔ اسے چین کی نیو کلچرل موومنٹ کا حصہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس تحریک نے چین کی ثقافت کو بہت گہرائی سے متاثر کیا۔ اس تحریک کے دوران جمہوریت اور سائنس کا نعرہ بلند کیا گیا جس کا مقصد چین کے قدیم فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک نیا نظام تعمیر کرنا تھا۔ اس موضوع پر ڈیوڈ وینگ نے بڑی اہم اور دلچسپ کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب 2017 ء میں ہارورڈ یونیورسٹی پریس نے چھاپی تھی۔ اس کتاب میں ڈیوڈ لکھتا ہے کہ چار مئی کی تحریک چین کی جدت پسندی کی تلاش کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس تحریک کے دوران چین میں بڑی نظریاتی اور ثقافتی تبدیلیاں آئیں۔ اس دور میں چین میں ثقافتی اور ادبی تبدیلی کے ساتھ لباس اور رسم و رواج میں بھی جدت آئی۔ چین کی ان تبدیلیو ں کے بطن سے انقلابی نظریات نے جنم لیا جو 1921ء میں کمیونسٹ پارٹی آف چین کی تشکیل پر منتج ہوا۔ اس تحریک کی مخالفت اور مزاحمت بھی کوئی کم نہیں تھی۔ اس تحریک کا سب سے بڑا مخالف چنگ کائی شیک تھا۔ یہ قوم پرست اور کنفیوشس پسند لیڈر اُس وقت کے قدامت پرست چین کی ایک بہت مضبوط آواز تھی۔ ایک قوم پرست ہونے کی وجہ سے وہ سامراج دشمن بھی تھا‘ اس حوالے سے وہ مغربی خیالات اور ادب کا مخالف تھا۔اس مضبوط مخالفت کے باوجود چین اس سلسلہ عمل میں جاگیردارانہ باقیات اور اخلاقیات سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوا اور اس عمل کے دوران اس نے روایتی لباس کو بھی ترک کر کے جدید لباس اپنایا جسے ہم مغربی لباس کا نام دیتے ہیں۔ مگر کئی چینیوں سمیت دنیا میں کئی دانشوروں کا خیال ہے کہ جس پینٹ‘ پتلون یا ٹروزر کو ہم مغربی کہتے ہیںوہ دراصل مغرب نے مشرق سے ہی لیا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ جسم کے نچلے حصے پر پہنے والے لباس کی مختلف اقسام جن میں پینٹ‘ پتلون‘ سلیک اور سکرٹ وغیرہ ہیں‘ ان کی ابتدا ایشیا سے ہی ہوئی ہے۔ دنیا کا سب سے قدیم ترین ٹروزر چین کے ایک قدیم قبرستان ترپان سے ملا ہے‘ جو سیکیانگ میں واقع ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ ٹروزر دسویں سے تیرہویں صدی قبل مسیح میں چین میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس اونی ٹروزر کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ گھڑ سواری کے لیے پہنا جاتا تھا۔ مغربی دنیا میں آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک جو پینٹ‘ پتلون‘ شارٹس‘ ٹروزر‘ سلیک‘ سکرٹ وغیرہ پہنے جاتے ہیں وہ اسی ٹروزر کی مختلف اشکال ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ہاں جو شلوار قمیص پہنی جاتی ہے وہ مقامی لباس یا ہماری ایجاد نہیں ہے بلکہ یہ لباس بھی وسطی ایشیا اور ترکی سے آیا ہے۔ مقامی لباس دھوتی ہے۔ حاصل ِکلام یہ ہے کہ عزت و خود داری کا تعلق لباس سے نہیںبلکہ کسی ملک کی معاشی اور سیاسی حالتِ زار سے ہے۔ اگر اپ کو اپنے معاملات چلانے کے لیے روزانہ کشکول اٹھا کر نکلنا پڑے تو خواہ آپ نے کوئی بھی لباس پہن رکھا ہو اس سے آپ کی عزت و احترام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved