تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     04-07-2021

سرخیاں، متن اور ابرار احمد

قومی معاملات پر بحث کی گنجائش نہیں: شہباز شریف
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، نواز لیگ کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''قومی معاملات پر بحث کی گنجائش نہیں‘‘ اور چونکہ بقول وزیراعظم‘ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے اس لیے اس پر وقت ضائع کرنا نہیں چاہیے جبکہ دوسرا بڑا قومی معاملہ ناجائز اثاثہ جات کا ہے اور اس لیے اسے بھی چھیڑنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، نیز، معمولی اور غیر قومی معاملات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں میرے اور مریم نواز کے ملک سے باہر جانے کا مسئلہ سرفہرست ہے اور جسے خواہ مخواہ لٹکایا جا رہا ہے، اس خدشے کے پیش نظر کہ ہم واپس نہیں آئیں گے، حالانکہ میں پہلے بھی ایک بار لندن جا کر واپس آ چکا ہوں اور میرا وہاں مستقل رہنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگوکر رہے تھے۔
پاکستان کسی صورت امریکا کو اڈے نہیں دے گا: شیخ رشید
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''پاکستان کسی صورت امریکا کو اڈے نہیں دے گا‘‘ اور یہ بیان بار بار اس لیے دینا پڑ رہا ہے کہ امریکا کو اس بات کا یقین ہی نہیں آ رہا اور وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم مذاق کر رہے ہیں اور ہم بھی ایک طرح سے شک و شبہے میں پڑے ہوئے ہیں کہ کیا واقعی ہم یہ فیصلہ کر سکتے تھے، بلکہ جب ٹی وی اینکر نے وزیراعظم صاحب سے سوال پوچھا تھا تو اس نے بھی کورا جواب سننے کے بعد اپنا سوال دہرایا تھا تاکہ دوبارہ تسلی کر لے؛ تاہم ہم اس فیصلے پر پکے ہیں اور امریکا سمیت ہر خاص و عام کو خبر ہو جائے کہ یہ فیصلہ ٹلنے کا نہیں۔ آپ اگلے روز راولپنڈی میں ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔
پاکستان میں ترقی کے مینار قائم ہوں گے: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''پاکستان میں ترقی کے مینار قائم ہوں گے‘‘ اگرچہ جو مینار پہلے سے موجود ہیں اور جن میں مینارِ پاکستان سرفہرست ہے‘ ان کی اب کوئی خاص افادیت نہیں ہے، اس لیے ملک میں اب ترقی کے مینار قائم کیے جائیں گے اور اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو یہ جائزہ لے گی کہ کہیں پہلے تو دنیا میں ترقی کے مینار قائم نہیں ہوئے اور اگر ہوئے ہیں تو ان میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو یہاں تعمیر ہونے والے میناروں کو نہیں لگ سکتے اور اگر ہمیں وہ سرخاب کے پر مل جائیں تو نئے مینار قائم کرنے کے بجائے پرانوں کو ہی ترقی کا مینار بنایا جاسکتا ہے اور نئے مینار بنانے کا خرچہ بچ جائے گا ، یعنی کم خرچ بالا نشین۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
بڑی عید سے پہلے ہی قربانی ہو جائے گی: عظمیٰ بخاری
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ''بڑی عید سے پہلے ہی قربانی ہو جائے گی‘‘ کیونکہ جو مقدمات چل رہے ہیں ان میں سے کوئی نہ کوئی کیس جلدی ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور ہم اسے قربانی ہی سمجھیں گے اور ہم کافی قربانیاں پہلے بھی دے چکے ہیں جبکہ اثاثہ جات کی ضبطگی سے بڑی قربانی اور کیا ہو سکتی ہے اور ہمارے لوگوں سے زمین پر سے قبضے چھڑوانا بھی کوئی کم قربانی نہیں، حتیٰ کہ بینک اکائونٹس کی ضبطی ایک اور بڑی قربانی ہے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
مشکل وقت گزر چکا، اب پھل کھانے کا وقت ہے: فردوس
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ''مشکل وقت گزر چکا، اب پھل کھانے کا وقت ہے‘‘ اس لیے موسمی پھل کثرت سے استعمال کرنا چاہئیں لیکن چونکہ مہنگائی نے لوگوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے اور وہ پھل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ، اس لیے وہ صبر کا پھل کھا سکتے ہیں جو میٹھا بھی زیادہ ہوتا ہے اور اگر یہ بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو تو پہلے صبر کرنا سیکھیں اور جب صبر کی عادت پڑ جائے گی تو یہ پھل بھی دینا شروع کر دے گا جبکہ قوم کے لیے وزیراعظم کی خصوصی ہدایات میں سے ایک یہ بھی ہے ، گویا وزیراعظم کے ہر مشورے پر عمل کے نتائج حیران کن ہی ہوتے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے ملاقات اور گفتگو کر رہی تھیں۔
اور‘ اب آخر میں ابرار احمد کی نظم:
صحرا پیاسے نہیں
نہیں داخل ہو سکتے تم کسی بھی
مکان میں
مکین کی جازت کے بغیر
اور ہاتھ نہیں ملا سکتے
جب تک وہ خالی اور گرم نہ ہوں
پھر نہیں سکتے رات کے علاقے میں
کوتوال کی اونگھ کے بغیر
چیخ نہیں سکتے لوگوں کی
محفوظ خموشیوں کے درمیان
اور آنسو نہیں بہا سکتے
کھلے دہانوں کے بیچ
نہیں کر سکتے نفرت جب تک تمہارے
بازو مضبوط اور ارادے
اندھیرے میں بڑھ کر سنگین نہ ہوں
لوٹ نہیں سکتے گزشتہ کی جانب
دنوں کی بھیڑ میں راستا بناتے ہوئے
اور موجود کے ہاتھ جھٹک کر
آئندہ سے بغلگیر نہیں ہو سکتے
تم چوم نہیں سکتے کسی کی آنکھوں کو
نیندوں سے پوچھے بغیر
اور سو نہیں سکتے
سلوٹوں کی مزاحمت کے بغیر
کر نہیں سکتے کارِ معاش
ذلت اٹھائے بغیر
اور مر نہیں سکتے موت کے
آ جانے سے پہلے
تمہارے بادلوں کے لیے صحرا
... پیاسے نہیں
اس آسمان کے نیچے
آزار کے بغیر
تم محبت بھی نہیں کر سکتے
آج کا مطلع
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہیے
یہ تماشا اب سرِ بازار ہونا چاہیے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved