تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     24-07-2021

خرید و فروخت کا سمندر

گزشتہ دنوں پاکستان کو ایمیزون نے فروخت کنندگان والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا ۔ا س خبر کو ملک کے اندر اور باہر بہت زیادہ پذیرائی ملی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں آئی ٹی کے جتنے بھی منصوبے آ رہے ہیں ان کی وجہ سے بالخصوص نوجوانوں کوروزگار کے بہت زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔ ایمیزون چونکہ دنیا کی خرید و فروخت کی سب سے بڑی آن لائن مارکیٹ ہے اس لئے اس کے پاکستان آنے کو خوش بختی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ آئی ٹی کے منصوبوں کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوان اس میں جتنا کام کرتے ہیں وہ ایک کاروبار کی مانند ہوتا ہے کہ جس میں وہ جتنی زیادہ محنت کرتے ہیں اتنا زیادہ کما سکتے ہیں۔ ایمیزون کا بزنس بنیادی طور پر ای کامرس کے تحت کام کرتا ہے جس میں آن لائن یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے اشیا خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں انٹرنیٹ کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ پاکستان دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں دسویں نمبر پر ہے۔ اس کے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد دس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ چین کی ستر فیصد یعنی اٹھانوے کروڑ آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ بھارت ستتر کروڑ کے ساتھ دوسرے اور امریکہ اکتیس کروڑ انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔امریکہ کے ستانوے فیصد عوام انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد پچاس فیصد سے کم اور بھارت میں ستاون فیصد ہے۔
ای کامرس کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین ای کامرس سے سالانہ تقریباً اٹھائیس سو ارب ڈالر کماتا ہے۔امریکہ ساڑھے آٹھ سو ارب کے ساتھ دوسرے اور برطانیہ ایک سو ستر ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ ای کامرس سے کمانے والے ممالک میں بھارت کا اڑسٹھ ارب ڈالر کے ساتھ ساتواں نمبر ہے۔پاکستان اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے اور اس کی وجہ ایمیزون جیسے اداروں کی تاخیر سے آمد ہے۔ اب بھی ایمیزون سے صرف سیلر اکائونٹ بنانے کی اجازت مل رہی ہے جبکہ بھارت میں ایمزون سے خریداری بھی ہو سکتی ہے۔ دوہزار بیس میں امریکہ میں ایمزون کے پلیٹ فارم سے اڑھائی سو ارب ڈالر سے زیادہ کی خرید و فروخت ہوئی۔ ایمیزون کی ای کامرس خدمات سے متعدد پاکستانی اس سے پہلے بھی منسلک تھے تاہم وہ اپنے پاکستانی ایڈریس سے خود کو بطور سیلر رجسٹر نہیں کر سکتے تھے اور اس کے لیے امریکہ یا کسی دوسرے ملک میں مقیم فرد کے ذریعے بالواسطہ طور پر مصنوعات فروخت کرتے تھے ۔ ٹیکنالوجی کی جدت کے ساتھ ہی دنیا بھر میں زیادہ تر تجارت آن لائن ہو گئی ہے اور اب کورونا وبا کے باعث اس رجحان میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔ اب ایمیزون کے آنے سے ہماری نوجوان نسل ‘ خواتین اور کاروباری حضرات تکنیکی معلومات اور ضروری تربیت حاصل کریں گے جس کے بعد وہ آن لائن مصنوعات دیکھ کر قیمتوں کا موازنہ کر کے اسی حساب سے اپنی مصنوعات کو ایمیزون پر لانچ کرکے بیچیں گے۔ ایمیزون کے پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے سے اب پاکستانی اپنی اشیا امریکہ سمیت دنیا بھر میں فروخت کر سکیں گے ۔
ایک خبر کے مطابق ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے انڈیا میں چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے کیونکہ انہیں توقع ہے کہ 2025ء تک بھارت سے ایمیزون کے ذریعے کی جانے والی برآمدات 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔بھارت کو ای کامرس کا فائدہ اس لئے بھی ہو رہا ہے کیونکہ بھارت میں عالمی رقوم کی ادائیگی کے آپشنز بھی زیادہ ہیں۔ بھارت میں پے پال اور دیگر کمپنیاں عالمی رقوم کو بھارت لانے اور وہاں سے باہر بھیجنے کے لیے سروس دے رہی ہیں جبکہ پاکستان میں ایک آدھ کمپنی کام کر رہی ہے اور اس میں بھی فی ٹرانزیکشن کٹوتی نسبتاًزیادہ ہے۔جہاں تک یہ سوال ہے کہ ایمیزون پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے کیسے آمادہ ہو گیا تو اس میں وفاقی حکومت ایک سال سے متحرک تھی۔ ایمیزون نے دو درجن سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ ایک سال قبل ٹرائل شروع کیا جس کی کامیابی کے بعد ایمیزون نے پاکستان کو سیلر لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے پاکستانی کمپنیاں اپنی مصنوعات مثلا تولیے ‘ جوتے‘ لیدر جیکٹس‘کھلونے وغیرہ ایمیزون کے ساتھ رجسٹر ہو کر دنیا بھر میں بیچ سکیں گے ۔کوئی بھی سیلر براہ راست چیزیں خریدار کو نہیں بھیج سکے گا بلکہ پاکستان سے سارا سامان ایمیزون کے ویئرہاؤس میں جائے گا جہاں سے خریداروں کو ایمیزون خود براہ راست ڈیلیور کرے گا۔ دنیا بھر میں ایمیزون کے پونے دو سو سے زائد ویئر ہاؤسز ہیں جہاں مختلف علاقوں سے سامان ترسیل کے لیے آتا ہے۔ ایمیزون کے ساتھ جو ترسیلی کمپنیاں منسلک ہیں وہ خریدار کو اس کے بتائے گئے ایڈریس پر بروقت پارسل پہنچا دیتی ہیں ۔ اس کا م میں معیار کی بہت اہمیت ہے۔پاکستان میں اس حوالے سے سرکاری طور پر بھی ای کامرس کے تربیتی پروگرامز شروع کئے جا رہے ہیں تاکہ فروخت کنندگان کو ان لوازمات کا علم ہو سکے جو ایمیزون پر رجسٹرڈ ہونے کے بعد ضروری شمار کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کا امیج اس حوالے سے کوئی بہت اچھا نہیں۔ بڑی ٹیکسٹائل اور لیدر کمپنیاں تو عشروں سے اپنی ساکھ برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن انفرادی طور پر سیلرز اور چھوٹی کمپنیاں اپنے نفع کے لیے کچھ بھی کر گزرتی ہیں۔ جن فیکٹریوں میں مال تیار ہوتا ہے وہاں پر کوالٹی کے سٹینڈرز مقرر کئے جاتے ہیں۔ ایمیزون کے حوالے سے بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔
آن لائن خریداری میں جو سب سے زیادہ مشکل صارف کو پیش آتی ہے وہ بتائی گئی یا دکھائی گئی چیز سے مختلف چیز کا ملنا ہے۔کچھ اناڑی لوگ جلد بازی میں اکائونٹ بنا کر چیزیں بیچنا شروع کر دیتے ہیں اور جب کسٹمر رپورٹ کرتا ہے تو اس کی شکایت کو بھی ٹھیک سے نہیں دیکھتے۔ایسی کمپنیاںبہت جلد فارغ ہو جاتی ہیں۔کسٹمر کو اگر کوئی چیز پسند نہیں آئی تو وہ سات دن کے اندر واپس کر سکتا ہے یا اگر کسی چیز میں نقص پایا جاتا ہے تب بھی وہ ریفنڈ حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں پاکستان میں تو ہم ان چیزوں کے عادی ہی نہیں۔ ہم کہتے ہیں ایک مرتبہ چیز بیچ دو بس کسی طرح اس کے بعد خریدار خود ہی اپنا سر پھوڑتا پھرے گا۔ معیار کے ساتھ ساتھ کسٹمر سپورٹ پر بھی پوری توجہ دینا پڑے گی۔ وہ پاکستانی جو اپنی مصنوعات فروخت کرنا چاہتے ہیں وہ معمول کے مطابق اب پاکستان میں رجسٹرڈ ہوں گے۔ اس سے پہلے انہیں بیرون ملک اکائونٹ بنانا پڑتا تھا جس پر وقت اور لاگت بہت زیادہ آتی تھی۔ان پاکستانی کمپنیوں کو رجسٹریشن کے عمل سے گزرنا ہوگا پھر جو چیز بیچنا چاہتے ہیں اس کی ایمیزون کی اپنی شرائط ہیں ان کو پورا کرنا ہو گا مثلاً کوئی ایسی چیز جس کو جلد پر استعمال کرنا ہے یا کھانے کی چیز ہے تو اس کے معیار کے حوالے سے خاص سرٹیفیکیشن وغیرہ مانگی جائے گی تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اچھی کوالٹی کی ہے ۔ اس عمل کے حوالے سے پاکستانی بزنس مینوں کی تربیت ہو گئی تو نتائج اچھے نکلیں گے۔وزارت تجارت اور ایمیزون کے درمیان یہ جلد طے پا جائے گا کہ پہلے ماسٹر ٹرینرز کی تربیت کی جائے تاکہ وہ دوسروں کو سکھا سکیں۔اس طرح ایک نیٹ ورک بنے گا جو ہمارے کاروبار کی مدد کرے گا کہ اپنی مصنوعات کی تصاویر کیسے بہتر کرنی ہیں‘اس کی تفصیلات کیسے دینی ہے اور رینکنگ کیسے کرنی ہے۔
ایمیزون پر بیچنے کا عمل کافی سائنسی ہے ‘اس کو سمجھنا ہوگا۔ یہ بنا سوچے سمجھے نہیں کر سکتے‘ ایک باقاعدہ طریقے سے کرنا ہوگا۔ تمام بزنس کے مالکان کو پہلے خود سمجھنا چاہیے پھر اپنے سٹاف کو سکھائیں کیونکہ اس میں دنیا بھر کے بزنس مینوں سے مقابلہ ہو گا۔ پاکستان میں بیروزگاری جس حساب سے بڑھ رہی ہے اس کے لیے ایمیزون کی آمد بہت مفید خیال کی جا رہی ہے۔ آن لائن سیلنگ کے لیے مخصوص ڈگری یا بہت زیادہ پیسہ یا تجربہ نہیں چاہیے۔ بس سمجھ بوجھ درکار ہے جس نے خریدو فروخت کے اس سمندر میں اپنا ایک مرتبہ اپنا ایک آرڈر کامیابی سے مکمل کر لیا سمجھ لیں وہ اس کاروبار کو جتنا چاہے پھیلا سکے گا اور اپنی آمدنی اور ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved