تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     16-07-2013

چڑیا سیٹھی

میرے گھر کو چاروں طرف سے سبزے نے حصار میں لے رکھا ہے۔ اسٹونیا کے گھنے درختوں کی شاخوں نے بانہوں میں بانہیںڈال کر اسے ڈھکا ہوا ہے اور میں جب بھی لان میں نکلتا ہوں‘ تو یوں لگتا ہے جیسے ہم سبز ے کے کیپسول میں رہتے ہیں۔ گھر کے پچھواڑے پنجاب یونیورسٹی کا فارم ہے۔ اس کے سامنے ہمارا دروازہ کھلتا ہے اور جب سبزے کے کیپسول سے ہم باہر نکلتے ہیں‘ تو آگے تاحد نظر سبزے کی چادر بچھی ہوتی ہے۔ اس ماحول میں طرح طرح کے پرندے اڑانیں بھرتے اور پیڑوں کی شاخوں اور چھتوں کی منڈیروں پر اٹھکیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ان میں یوں تو ہر طرح کے پرندے ہوتے ہیں لیکن چڑیا‘ مینا‘ فاختہ‘ طوطے اور بیّا کی آمدورفت کثرت سے رہتی ہے۔ میری بیوی کی بہت سے پرندوں سے کافی جان پہچان ہو گئی ہے۔ کیونکہ وہ چھت پر یا لان میں ‘ ان کے ذوق کے مطابق دانہ دنکا پھیلاتی رہتی ہے اور جن پرندوں کا کثرت سے آنا جانا ہے‘ ان کے ساتھ تھوڑی بہت جان پہچان بھی ہو گئی ہے۔ میں اس محفل میں بہت کم شریک ہوتا ہوں۔ اس لئے نہ تو میں ان میں سے کسی پرندے کو اچھی طرح جانتا ہوں اور نہ وہ مجھے پہچانتے ہیں۔ البتہ آج صبح ایک عجیب بات ہوئی۔ بارش رکتے ہی میں خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے کھیت کی طرف جا نکلا۔ وہاں چہچہاتی چڑیاں‘ اڑتی اور پھدکتی پھر رہی تھیں۔ اچانک میری نظر ایک چڑیا پر گئی‘ جو کچھ زیادہ ہی اترائی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ دوسری چڑیاں جن میں چڑے بھی شامل تھے‘ اس کی نازبرداریاں کر رہے تھے۔ میں ایک کیاری کے سرے پر مٹی کی ایک ننھی ڈھیری پر بیٹھ کر ‘ چڑیوں کی چہلیں دیکھنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں اندازہ ہو گیا کہ نازنخرے دکھانے والی چڑیا‘ اپنے آپ کو چڑیا سیٹھی کہلوا رہی تھی اور اس کی دوسری ہم جنس اسے بہت عزت دے رہی تھیں۔ چڑیاںاپنی چوں چوں میں جو تبادلہ خیال کر رہی تھیں‘ مجھے تو اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔ لیکن اپنے خیال کے مطابق جو سمجھ مجھے آ رہی تھی‘ اسے بیان کر رہا ہوں۔ جو چڑیا اپنے آپ کو چڑیا سیٹھی کہلوا رہی تھی‘ درحقیقت اسے اپنی شہرت اور مقبولیت پر ناز تھا۔ ایک چڑیا‘ جو بظاہر مجلس میں اجنبی دکھائی دے رہی تھی‘ اس نے اتراتی ہوئی چڑیا سے پوچھا کہ ’’بی بی! ہم سب تو صرف چڑیا ہیں۔ تم اپنے آپ کو چڑیا سیٹھی کیوں کہلوا رہی ہو؟‘‘ اتراتی ہوئی چڑیا نے گردن مٹکاتے اور منڈی گھماتے ہوئے جواب دیا’’اب میں تمہاری دنیا سے نکل کر‘ نئی دنیا میں جا چکی ہوں۔ میری دنیا میڈیا کی دنیا ہے۔ اب میں میڈیا کے ایک بہت بڑے سٹار نجم سیٹھی کی جیون ساتھی بن چکی ہوں۔وہ میرے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور میں ان کے نام سے پہچانی جاتی ہوں۔انسانوں کی دنیا میں جب اس طرح کا بندھن ہو جاتا ہے‘ تو اس جوڑی میںجو مادہ ہوتی ہے‘ وہ اپنے نام کے ساتھ ‘ نر ساتھی کا نام جوڑ دیتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اب مجھے چڑیا سیٹھی کہتے ہیں۔سیٹھی صاحب نے مجھ سے ایسی ایسی خبریں اور کہانیاں منسوب کر دی ہیںکہ میرا نام پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔ چہرہ تو سیٹھی صاحب کا پہچانا جاتا ہے لیکن چرچے ہر جگہ میرے نام کے ہوتے ہیں۔ میڈیا کے بڑے بڑے رپورٹروں کو اچھی پوزیشن والے لوگ زیادہ باتیں نہیں بتاتے۔پہلے سیٹھی صاحب کا بھی یہی حال تھا۔ جب سے میں ان کے ساتھ آئی ہوں‘ انہیں اندر کی خبریں بھی معلوم ہونے لگی ہیں۔ سیٹھی صاحب کو میرے نام کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ بڑے بڑے وزیر‘ عہدیدار‘ افسر اور جرنیل ‘ سیٹھی صاحب کو یہ کہہ کر بہت کچھ بتانے لگے ہیں کہ جا کر چڑیا کو بتا دینا۔ اصولی طور پر جو بات مجھے پہنچانے کے لئے کہی گئی ہو‘ وہ مجھے ہی پہنچنا چاہیے۔ لیکن سیٹھی صاحب پیٹ کے بہت ہلکے ہیں۔ وہ بات کو ہم دونوں کے درمیان رکھنے کے بجائے‘ ٹی وی چینل پر بیٹھ کے کہہ دیتے ہیں اور ان کے سامنے منیب نامی جو چیلا بیٹھا ہوتا ہے‘ وہ ذرا بھی پردہ نہیں رہنے دیتا۔ ایک ایک لفظ کو چونچ مار مار کے اتنا ادھیڑتا ہے ۔ اتنا ادھیڑتا ہے کہ بات گنے کے اس پھوگ کی طرح ہو جاتی ہے‘ جس کا رس بیلنے نے چھ مرتبہ نچوڑ لیا ہو۔بہت سے بڑے آدمی تو سیٹھی صاحب سے زیادہ چیلے سے ڈرنے لگے ہیں۔ یہ چیلا مجھے بھی بہت برا لگتا ہے۔ مگر کیا کروں؟ سیٹھی صاحب کو سقراط بن کر بولنے کی لت پڑ گئی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان سے سوال پر سوال پوچھا جائے اور وہ مفکر کائنات کی طرح ان جہانوں کے قصے بھی سنا ڈالیں‘ جو ستاروں سے آگے پائے جاتے ہیں۔ کئی بار تو میں بھی چڑ جاتی ہوں کہ سیٹھی صاحب کو لوگ جو باتیں میرے لئے سناتے ہیں‘ سیٹھی صاحب ان کا ضرورت سے زیادہ ہی فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔ مجھ سے پہلے سیٹھی صاحب اتنے مشہور نہیں تھے۔ انہوں نے ایک بار پہلے بھی اپنا پروگرام شروع کیا تھالیکن اس وقت انہیں میری مدد حاصل نہیں تھی۔ جب سے انہوں نے میرا نام لے کر اپنی دکان چلانا شروع کی ہے‘ ان کا کاروبار اتنا چمک گیا ہے کہ اب سیٹھی صاحب کے گھر میں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔ کاروبار کی چمک میں ہی کتابیں پڑھ لیتے ہیں۔ اب صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے بڑے بڑے لوگ مجھے پیغام دے رہے ہیں کہ سیٹھی صاحب نے میرا نام بار بار استعمال کر کے اپنی ساکھ میں بہت اضافہ کر لیا ہے۔ جب وہ صرف اخباروں میں لکھا کرتے تھے‘ تو لوگ ان کے انکشافات پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ جب سے انہوں نے میرا نام استعمال کرنا شروع کیا ہے‘ لوگ ان کی باتیں غور سے سننے لگے ہیں۔ جب وہ اپنی طرف سے کوئی خاص بات بتاتے ہیں اور سننے والاخاص توجہ نہیں دیتا‘ تو پھر وہ جلدی سے میرا نام لے کر اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہیں اور یوں ان کی سنی جاتی ہے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ چڑیا حد سے زیادہ بڑھ چڑھ کر باتیں بنا رہی ہے۔ سیٹھی صاحب اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ ایک چڑیا کے بل بوتے پر اپنا قد کاٹھ اونچا کرنے کی کوشش کریں۔ ان کا اپنا قد کاٹھ بھی بہت ہے۔ مگر جھوٹ چڑیا بھی نہیں کہتی۔ سچی بات ہے ‘ اب تو سیٹھی صاحب جس بات کو وزنی بنانا چاہیں‘ اسے چڑیاکا نام لے کر سناتے ہیں۔ پچھلے دنوں تو چڑیا نے کمال ہی کر دیا۔ سیٹھی صاحب کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے‘ تو مخالفین نے کائیں کائیں کر کے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔ کسی نے کہا انہیں کرکٹ نہیں آتی۔ کسی نے کہا انہیں سیاست نہیں آتی۔ کسی نے کہا کہ وہ کبھی امپائر بھی نہیں بنے اور ایچی سن میں سیٹھی صاحب کو بطور طالب علم دیکھنے والے ایک استاد‘ نسیم باجوہ صاحب نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ سیٹھی صاحب نے کبھی فیلڈنگ بھی نہیں کی۔ اسی شوروغوغا کے درمیان سیٹھی صاحب پر کچھ پابندیاں لگ گئیں اور انہوں نے عدلیہ کے احترام میں ویسٹ انڈیز جانے سے بھی انکار کر دیا۔ ظاہر ہے سیٹھی صاحب کے زمانے میں پہلا ون ڈے سیریز ہونے جا رہا تھا اور ہماری ٹیم حال ہی میں ایک عالمی ٹورنامنٹ میں شکستوں کا نیا ریکارڈ قائم کر کے آئی تھی۔ ظاہر ہے سیٹھی صاحب کا دل چاہتا ہو گا کہ وہ اپنے دور میں ہونے والا پہلا میچ دیکھنے کے لئے خود جائیں۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ کہتے ہیں کہ انہیںاداس دیکھ کر چڑیا نے پیش کش کی کہ وہ خود ویسٹ انڈیز جا کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ ظاہر ہے چڑیا خود اڑ کے چند روز میں اتنی دور نہیں جا سکتی تھی۔ سیٹھی صاحب نے اسے ذاتی خرچ پر ویسٹ انڈیز بھیجنے کا انتظام کر دیا۔ چڑیا ٹیم کو شاندار کامیابی دلوا کر پہلی ہی پرواز سے واپس آ گئی۔ آج وہ دعویٰ کر رہی تھی کہ کھلاڑی تو وہی تھے‘ جو چند روز پہلے ٹورنامنٹ ہار کے آئے اور شاہد آفریدی تو وہ تھا‘ جسے ٹیم سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ یہ میں ہی تھی جس نے گرائونڈ میں پہنچ کر ایک ایک کھلاڑی کا حوصلہ بڑھایا اور پاکستان کو شاندار کامیابی دلا کر واپس آئی۔ اصولی طور پر اس جیت کا کریڈٹ سیٹھی صاحب کو جانا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے ساتھ جو ہو چکا ہے‘ اس کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ پرانے چیئرمینوں کے ستائے ہوئے لوگ کرکٹ بورڈ کی سربراہی چڑیا کو دینے کا مطالبہ کرنے لگیں۔اس چڑیا کے بہت چرچے ہو گئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب وہ سیٹھی صاحب کے پاس رہ جائے۔ شاہد آفریدی ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہیں گے۔ نجم سیٹھی اپنے اس قیمتی سرمائے سے محرومی برداشت نہیں کریں گے۔ سب سے بڑا ڈر یہ ہے کہ نوازشریف قانون پاس کرا کے اس چڑیا پر قبضہ ہی نہ کر لیں۔چڑیا کی مدد حاصل کر کے‘ نوازشریف تو فائدے میں رہ جائیں گے۔ مگر ان کے مشیروں کا کیا بنے گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved