تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     01-08-2021

کچھ دقیانوسی باتیں

اسلام آباد آج کل خبروں کا بھی دارالحکومت بنا ہوا ہے۔ سیاسی خبریں نہیں غیر سیاسی اور بعض تو لرزہ خیز اور ڈراؤنی بھی۔ ایک زمانے میں کسی نے کہا تھا کہ اسلام آباد خاموش شہر ہے جہاں کسی سے راستہ پوچھنا ہو تو میلوں تک کوئی ایسا بندہ نہیں ملتا‘ لیکن اسلام آباد نے اب بہت مدت سے اپنی یہ حیثیت بدل لی ہے۔ اس کو رنگ بدلتے ہم نے بھی دیکھا۔ پلازے، سڑکیں، مارکیٹیں، نئے سیکٹر، نئی ہاؤسنگ کالونیاں اور نئے نئے راستے۔ شہرِ خاموش کا رنگ آج سے بیس سال پہلے کے اسلام آباد سے بہت مختلف ہوچکا ہے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو صرف اپنی مرضی کی عینک سے شہر کو دیکھتے ہیں۔ اگر ہمیشہ 'سب اچھا ہے‘ کہنا غلط ہے تو ہمیشہ 'سب برا ہے‘ کہنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
لیکن ان دنوں تو اسلام آباد سے بری خبریں ہی آرہی ہیں۔ پہلے افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ کے لاپتہ اور بازیاب ہونے کی خبریں سنسنی خیز تفصیلات کے ساتھ آئیں، پھر ایک نوجوان جوڑے کے ساتھ مار پیٹ اور بدسلوکی کا معاملہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چھایا رہا۔ ابھی اس کی گونج ختم نہ ہوئی تھی کہ ایک سابقہ سفیر کی بیٹی کے لرزہ خیز قتل نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ معاملہ ابھی گرم تھا کہ ای 11 میں سیلاب کی ویڈیوز سامنے آگئیں۔
افغان سفیر کی صاحبزادی کا معاملہ عجیب پراسراریت کا شکار ہے۔ یہ تو طے ہے کہ واقعات اس طرح پیش نہیں آئے جس طرح لڑکی نے بتائے تھے۔ فوٹیج اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں‘ اور پولیس کے پاس اصل نقل و حرکت کے تمام شواہد بھی موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ افغانستان کے سفیر کے واپس چلے جانے کی وجہ سے معلومات مزید نہیں کی جا سکتیں اور اب افغانستان سے آنے والی ٹیم کو تمام شواہد اور معلومات سے آگاہ کیا جائے گا۔ معاملہ چونکہ غیر ملکی سفیر کا ہے اور سفیر بھی افغانستان کا، لہٰذا حکومت کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے پڑ رہے ہیں۔ اس معاملے سے دلچسپی رکھنے والے ایک عام آدمی کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں‘ جن کے شافی جوابات نہیں ہیں۔ گھر میں گاڑیوں، ڈرائیور کے ہوتے ہوئے سلسلہ پیدل کیوں باہر نکلیں؟ کئی ٹیکسیاں بدل کر مختلف جگہوں پر کیوں جاتی رہیں؟ وہاں کیا کام تھا جو انہوں نے کیا؟ وہ پنڈی کیوں گئیں اور یہ کیوں کہا کہ وہ ساری عمر کبھی راولپنڈی نہیں گئیں؟ انہوں نے یہ کیوں کہا کہ ان سے موبائل چھین لیا گیا تھا؟ جبکہ فوٹیج میں بھی وہ موبائل پر بات کرتے نظر آرہی ہیں اور نیٹ ورک ریکارڈ بھی یہی شہادت دے رہا ہے؟ انہوں نے موبائل ہوتے ہوئے لوگوں سے موبائل فون کیوں مانگے؟ پھر جب پولیس کی تفتیش کے بعد انہوں نے یہ مانا کہ موبائل ان کے پاس گھر ہی میں ہے تو تمام تر ڈیٹا ڈیلیٹ کرکے پولیس کے حوالے کرنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے والد کو فون کرنے کے بجائے اپنے ایک کلاس فیلو کو فون کیوں کیا جو سفارتی مشن میں کام کرتا تھا؟ پھر وہ معاملہ صاف کیے بغیر پاکستان سے کیوں چلی گئیں اور ان کے والدین بھی معاملہ نمٹائے بغیر کابل کیوں چلے گئے؟
تسلی بخش جوابات کسی بھی سوال کے نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ حکومت اور خفیہ اداروں کو ان کے جوابات معلوم ہیں۔ معاملے کی نزاکت اس کے افشا کی اجازت نہیں دیتی ہوگی تاہم کچھ وقت گزرنے پردرست معاملہ منظر عام پر ضرور آئے گا‘ لیکن شاید اس وقت جب اس میں دلچسپی اور اس کی اہمیت ختم ہوچکی ہوگی ۔
نوجوان جوڑے پر تشدد، ویڈیوز بنانے کا معاملہ بھی گرم ہے۔ پولیس نے گرفتاریاں بھی کرلی ہیں اور وزیر اعظم نے اس کا ذاتی نوٹس بھی لیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس معاملے کو بھی جس طرف سے دیکھیں، سمجھ نہیں آتا کہ اس میں بے گناہ فریق کون ہے؟ مار پیٹ کرنے والوں اور اس ظلم کا شکار ہونے والوں میں کوئی ایک بھی شاید ایسا نہیں جس پر کوئی نہ کوئی فرد جرم عائد نہ ہوتی ہو۔ ہمارے یہاں ایسے معاملات میں توازن کا ہمیشہ فقدان رہا ہے چنانچہ یہ معاملہ سامنے آتے ہی کسی نے نوجوان جوڑے کا دفاع شروع کردیا اور کسی نے دوسرے فریق کا تاہم یہ کیس ایک بار پھر یہ بتاتا ہے کہ کتنی طرح کے گینگ اسلام آباد میں موجود ہیں جن کے کرتوت بہت دبے رہتے ہیں اور کوئی ایک واقعہ پچھلے معاملات بھی سامنے لے آتا ہے۔
لیکن لرزہ طاری کردینے والا معاملہ نور مقدم کے بہیمانہ قتل کا ہے۔ قتل تو 20 جولائی کو ایف سیون فور میں ہوا تھا لیکن اب جو تفصیلات معلوم ہورہی ہیں اس نے سب پر سکتہ طاری کردیا ہے۔ ہمیشہ سے تاثر یہی ہے کہ بڑے شہروں میں اشرافیہ کے وہ علاقے موجود ہیں جو کسی بھی لحاظ سے بقیہ شہر سے مطابقت نہیں رکھتے لیکن اسلام آباد تو تین چوتھائی اسی اشرافیہ کی رہائش گاہ ہے۔ یہاں کا رہن سہن، میل جول، معاشرت باقی ملک کے تصور سے بھی باہر ہے۔ میں اس قتل کے معاملے کی تفصیلات پڑھتا گیا اور صدمہ در صدمہ کی کیفیت میرے اوپر سے گزرتی رہی۔ اس ایک کیس میں کتنے ہی کیس چھپے ہوئے ہیں۔ دولت، بہترین طرز زندگی، اعلیٰ عہدے اور مادی آسائشیں۔ یہی کچھ ہے نا جس کی ہر شخص تمنا کرتا اور ساری زندگی ان کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے اور یہ جب حاصل ہو جائیں تو بہت سے ذہنوں کو کس طرح نفسیاتی مریض، ظالم اور بے حس بناتے ہیں، یہ جاننا ہو تو نور مقدم قتل کیس پڑھ لیں۔ ظاہر جعفر اور اس کے والدین کے معاملے میں دیکھا جائے تو کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ دولت، مغربی ممالک میں اعلیٰ تعلیم، روابط، غیرملکی شہریت، بہترین شہروں میں بہترین رہائش گاہیں، نوکر چاکر۔ اس طبقے سے میل جول اور دوستیاں جو ان کے ہم پلہ تھا اور انہی تمام خصوصیات کا حامل۔ لیکن پتہ یہی چلا کہ ان چیزوں کی کمی ہی نفسیاتی مسائل اور بے حسی کو جنم نہیں دیتی، ان کی زیادتی اس سے بڑے مسائل بناتی ہے۔ لڑکے اور لڑکی کے درمیان ابھی معاملات کو ایک طرف رکھ دیں، دونوں کے والدین کے طرزعمل کو دیکھ لیں تو ہر بات حیرت انگیز ہے۔ کوئی بات عام اقدار کے مطابق محسوس نہیں ہوتی مقتولہ کے والدین کا دکھ تصور کرکے دل لرزتا ہے لیکن اگر نور مقدم اور ظاہر جعفر کے درمیان تعلقات اور اس میں لڑکی کے والدین کے سکوت کو پیش نظر رکھا جائے توان میں سے کچھ بھی پاکستانی عام پاکستانی معاشرت کے مطابق ہے؟ دوسری طرف ظاہر کے والد اور والدہ جس طرح بالواسطہ اس جرم میں ملوث ہوئے‘ وہ انتہا درجے کے بے حس لوگوں کے لیے ہی ممکن ہے۔
اسے کتنی ہی دقیانوسی بات سمجھ لیا جائے۔ اس کا کتنا ہی مذاق اڑا لیا جائے۔ کہنے والوں اور اس پر اصرار کرنے والوں کو کتنا ہی رجعت پسند بنا کر پیش کردیا جائے، حقیقت اس سے بدل نہیں سکتی۔ ہر گزرتا دور اور ہر رونما ہونے والا واقعہ اس بات پر تصدیق کی مہریں ثبت کرتا جاتا ہے کہ ذہنی سکون کے وسیلے اشیا کی فراوانی سے الگ ہیں۔ تعلیم، دولت اور معاشرے میں باعزت مقام کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ دوسرے اب آپ کی گزند سے محفوظ رہیں گے۔ دولت اور عہدے تو ویسے بھی قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ان کے لیے پھر کون سا خوف باقی رہ جاتا ہے؟ ہر چیز جوتے تلے روند کر چلنے والوں کو پتہ تھا کہ امریکی شہریت، بے حساب دولت اور تعلقات انہیں ہر چیز سے ماورا کردیتے ہیں۔ کیا چیز ہے جو ظاہر جعفر کا ہاتھ روک سکتی تھی؟ کیا خوف تھا جو کسی انسان کی جان لے لینے سے باز رکھ سکتا تھا؟ سچ یہ کہ خوفِ خدا کے سوا کوئی چیز نہیں، جو انسان کو تنہائی میں بھی روک سکے۔ اور خدا تو ایسے ذہن، اس طبقے کے لیے لایعنی لفظ ہے۔ جن لوگوں نے کبھی کسی ایسی ہستی کا تصور کیا ہی نہ ہو جو ان سے بالاتر ہو، انہیں آپ خدا خوفی کا کیا درس دیں گے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved