تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     01-08-2021

سرخیاں، متن اور ثاقب کیف

جس کے پاس زیادہ پیسہ ہوگا، وہی آزاد
کشمیر کا وزیراعظم بنے گا: بلاول بھٹو
چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ''جس کے پاس زیادہ پیسہ ہوگا وہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنے گا‘‘ کیونکہ ہم نے وہاں پیسے کے زور سے ہی اضافی سیٹیں جیتی ہیں ورنہ نواز لیگ کی طرح ہماری تعداد بھی چھ تک ہی محدود رہنی تھی ؛چنانچہ یہ اب ثابت ہو گیا ہے کہ پیسے میں بڑی طاقت ہے بلکہ ہمارا پیسہ تو بابرکت بھی ثابت ہو رہا ہے کیونکہ یہ حق حلال اور خون پسینے کی کمائی ہے اور اسی لیے ہمارے چاروں طرف برکت ہی برکت نظر آ رہی ہے اور اسی سے ثابت بھی ہوتا ہے کہ یہ پیسہ جائز ذرائع سے کمایا گیا ہے جس کے لیے احتساب والے بھی تگ و دو کرتے رہتے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
سیالکوٹ میں ن لیگ کو اس کے
گھر میں گھس کر مارا: فردوس عاشق
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ''سیالکوٹ میں ن لیگ کو اس کے گھر میں گھس کر مارا‘‘ اگرچہ بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونا اخلاقی لحاظ سے درست نہیں ہے لیکن حکومت میں ہونے کا کچھ فائدہ تو ہونا ہی چاہیے کیونکہ سارے گھر سرکار کے اپنے ہی گھر ہوتے ہیں اور اگر سیالکوٹ میں گھر والوں کو پیشگی پتا ہوتا تو یہی سلوک ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا تھا اور یہی کہنا پڑتا کہ ہم نے ن لیگ کے گھر میں گھس کر مار کھائی اور ہمیں تو کافی دیر تک اس کا یقین ہی نہیں آیا کیونکہ وہاں ہم ہمیشہ سے ہی مار کھاتے چلے آ رہے تھے جبکہ تبدیلی کی ایک صورت یہ بھی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔
کورونا سے صحت یاب ہونے
میں کچھ وقت لگے گا: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''کورونا سے صحت یاب ہونے میں کچھ وقت لگے گا‘‘ کیونکہ اس میں کشمیر الیکشن وائرس بھی حائل تھا اور اصولی طور پر تو مجھے یہ الیکشن شروع ہونے سے پہلے ہی قرنطینہ میں بیٹھ جانا چاہیے تھا لیکن یہ اس لیے ممکن نہ تھا کہ چچا جان نے اس مہم میں جانے سے صاف انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ آپ کا بیانیہ زیادہ زور دار ہے اس لیے یہ محاذ آپ کو ہی سنبھالنا چاہیے۔ چنانچہ یہ جنگ میں نے تنہا لڑی ہے اس میں سرخرو بھی ہوئی ہوں۔ آپ اگلے روز سوشل میڈیا پر ٹویٹ کر رہی تھیں۔
پیپلز پارٹی کرپشن میں تجربہ کار
جماعت ہے: ارباب غلام رحیم
وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ ''پیپلز پارٹی کرپشن میں تجربہ کار جماعت ہے‘‘ اور اس تجربے میں دوسروں کی طرح خاکسار بھی شامل تھا کیونکہ یہ پارٹی ڈسپلن کا بھی معاملہ تھا کہ پارٹی میں وہی کچھ کرنا پڑتا ہے جو ساری پارٹیاں کر رہی ہو جس سے ہم آہنگی کا بھی پتا چلتا ہے اور اب تحریک انصاف کے نئے ماحول میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کروں گا جس میں امید ہے مجھے کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی کیونکہ اس میں میرے ہم خیالوں کی کمی نہیں ہے، ویسے میں کرپشن کو بہت برا سمجھتا ہوں بلکہ اس سے نفرت بھی ہے لیکن مجبوری کی اور بات ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
46 فیصد عوام پنجاب حکومت سے مایوس ہیں: حمزہ شہباز
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ''46 فیصد عوام پنجاب حکومت سے مایوس ہیں‘‘ اور باقی 54 فیصد بھی بہت جلد ان میں شامل ہونے والے ہیں جس کے لیے میں سر توڑ کوشش کر رہا ہوں اور جس کا آغاز میں سیالکوٹ سے کروں گا کیونکہ وہاں کے عوام کو حال ہی میں سخت گمراہ کیا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سارا ملک ہی گمراہی کی جانب رواں دواں ہے اور جس میں آزاد کشمیر کے عوام بطور خاص شامل ہیں۔ سیالکوٹ کے عوام کے بعد جنہیں راہ راست پر لانا میری دوسری ترجیح ہے اور یہ ترجیح بھی ایسی ہی ترجیحات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو والد صاحب سے منسوب اور مشہور ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
فسانۂ کون و مکاں
یہ شارق جمال خان کا مجموعۂ کلام ہے جسے لاہور سے شائع کیا گیا ہے۔ انتساب حفصہ شارق خان اور ہانیہ شارق خان کے نام ہے۔ دیباچہ نگاروں میں ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر غلام حسین ساجد، سید حامد علی زیدی، عباس تابش اور ڈاکٹر ناصر عباس نیّر شامل ہیں۔ پسِ سرورق مصنف کی تصویر اور ناصر عباس نیر کے دیباچے سے اقتباس شامل ہیں۔ جبکہ انتسابِ دوم غالب، آرتھر شوپن ہاور، بلھے شاہ، رچرڈفائن مین اور ٹیسون پنکرکے نام ہے اس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ نمونۂ کلام:
نگاہ کی جو پسِ پردۂ گماں میں نے
ہزار رازِ حقیقت کیے بیاں میں نے
وہ شش جہات کی جادوگری سے خائف تھا
سو بڑھ کے تھام لیا دستِ لا مکاں میں نے
اور، اب آخر میں ثاقب کیفؔ کی شاعری:
تیرا چہرہ مرا گماں روشن
ہو گیا اس طرح سماں روشن
رات کالی مگر ستاروں نے
کر دیا کیسے آسماں روشن
روشنی سے نکل کے دیکھا ہے
تیرگی میں بھی اک جہاں روشن
زندگی کاٹ کر اندھیرے میں
کر گیا ہے کوئی مکاں روشن
دیکھتا ہوں سیاہ سمندر میں
ایک کشتی کا بادباں روشن
٭...٭...٭
دن گزرتا ہے تو میں رات میں آ جاتا ہوں
یوں حقیقت سے خیالات میں آ جاتا ہوں
رنگ ہر روز بدلتا ہے گماں کتنے روز
روز میں اس کے طلسمات میں آ جاتا ہوں
اس کے حصے کے جوابات ادا کرنے سے
میں زمانے کے سوالات میں آ جاتا ہوں
کامیابی کا سبب کوئی نہیں پوچھے گا
کام بگڑے تو مکافات میں آ جاتا ہوں
جب نکلتا ہوں غمِ یار سے کوشش کر کے
حلقۂ گردشِ حالات میں آ جاتا ہوں
آج کامقطع
میں اگر اُس کی طرف دیکھ رہا ہوں تو ظفر
اپنے حصے کی محبت کے لیے دیکھتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved