تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     08-08-2021

ڈالر کی قیمت ‘ افغان تجارت اور پاکستانی معیشت

پاکستان میں معاشی کارکردگی جانچنے کا ایک معیار ڈالر کی قیمت بھی ہے۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے ڈالر کی قیمت میں تقریباً چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے ۔ تقریباًچھ ماہ تک ڈالر 152 سے 154 روپے کے درمیان برقرار رہا لیکن پچھلے دو ماہ سے مسلسل اضافے کے بعد آج ڈالر 163 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جس کے باعث پاکستانی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت پاکستان بہترین معاشی کارکردگی کی دعویدار ہے‘ وزارت خزانہ کے مطابق ایک ارب 87 کروڑ ڈالر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں بیرون ملک پاکستانیوں نے بھجوائے ہیں۔ برآمدات میں بارہ مہینوں میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ کورونا کے باعث جی ایٹ ممالک نے قرضوں کی واپسی میں بھی ریلیف دیا ہے۔ چین اور سعودی عرب بھی قرضوں کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ ان حالات میں ڈالر کی قیمت کا بڑھ جانا تشویش ناک ہے۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام سہولتوں کے باوجود ڈالر قابو میں نہیں آ رہا۔ اگر اربوں ڈالرز قرض کی ادائیگی کرنا پڑ جائے یا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ڈالرز واپس کرنا پڑ جائیں تو ڈالر کی قیمت کہاں پہنچ جائے گی؟
ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو پاک افغان تجارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان برآمدات کا طریقہ کار مختلف ہے۔ افغانستان تجارتی اشیا بھیجنے کے لیے ایڈوانس میں ہی برآمدی اشیا کی مالیت ڈالر کی شکل میں بینک میں جمع کروانا ضروری ہوتی ہے لیکن افغانستان سے آنے کے بجائے تاجر مقامی مارکیٹ سے ہی ڈالر خرید کر جمع کرادیتے ہیں بعد میں مال کی ڈلیوری کے بعد افغانستان سے اتنی ہی مالیت کے ڈالر لائے جاتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کو اس طریقہ کار پر اعتراض تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈالرز کی سمگلنگ کا قانونی راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اس عمل پر بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے کہ بعد میں مکمل مالیت کے ڈالرز پاکستان آتے بھی ہیں یا نہیں۔ ان تحفظات کے پیش نظر حکومت نے جولائی کے شروع میں ہی اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاجروں کو پابند کیا گیا تھا کہ تمام لین دین بینکنگ کے ذریعے ہو گا۔ نہ ہی کیش میں ڈالرز پاکستان لائے جائیں گے اور نہ ہی پاکستان سے افغانستان منتقل ہوں گے جس کے بعد افغانستان سے ڈالرز پہلے امریکہ منتقل ہوتے تھے‘ وہاں سے سٹیٹ بینک آف پاکستان بھجوائے جاتے تھے اور سٹیٹ بینک انہیں متعلقہ اکاؤنٹس میں جمع کرواتا تھا۔ اس طریقہ کار میں نو سے بارہ دن لگ جاتے تھے۔ افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر اتنے دن انتظار کے بعد ڈالرز کی وصولی مقامی تاجروں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی تھی‘ انہوں نے الجھن میں پڑنے کی بجائے افغانستان کو سامان کی ترسیل بندکر دی جس سے پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی۔یہ صورتحال حکومت کے لیے تشویش ناک تھی کیونکہ تحریک انصاف کا زیادہ زور برآمدات بڑھانے پر ہے۔ اس کے علاوہ مقامی تاجروں کا کہنا تھا کہ اچانک ڈالرز کی منتقلی کے طریقہ کار کو بدلنے سے افغان تاجر ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں جس سے کروڑوں ڈالرز افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اگر ایسی کوئی پابندی لگانی ہے تو اس کے لیے وقت دیا جائے تا کہ تجارت کا آسان اور مناسب راستہ تلاش کیا جا سکے۔ اس حوالے سے افغانستان کے کچھ بینکوں کو پاکستان میں رجسٹرد کروانے کی آپشن بھی دی گئی ہے۔ حکومت نے وقتی طور پر 29 جولائی سے 15 اکتوبر تک پرانے طریقہ کار سے ہی برآمدات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ محدود وقت ہونے کی وجہ سے تاجرزیادہ سے زیادہ ڈالرز خرید کر بینکوں میں جمع کروا رہے ہیں جس سے رسد اور طلب میں فرق پیدا ہو گیا ہے اور ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ چند دنوں میں خریداری کم ہونے کی توقع ہے جس سے ڈالر کی قیمت بھی نیچے آ سکتی ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے اصل سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا؟ کچن کابینہ میں فیصلے کر کے عوام پر مسلط کر دیے جاتے ہیں‘ جب اربوں روپوں کا نقصان ہو جاتا ہے تو فیصلے واپس لے لیے جاتے ہیں اور اس پر ظلم یہ کہ نقصان کرنے والوں کا احتساب بھی نہیں کیا جاتا۔ پاکستان افغانستان کو تقریبا ًدو ارب ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔ پابندی لگانے سے پہلے افغان حکومت‘ پاکستانی اور افغان تاجروں سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی۔ اب بھی حکومت نے بغیر مشاورت کے 15 اکتوبر تک کا وقت دے دیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنے کم عرصے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بینکنگ چینل قائم ہو سکے گا؟ اس وقت افغانستان میں طالبان طاقت حاصل کر رہے ہیں۔ روس نے گیارہ اگست کو امریکہ‘ پاکستان اور چین کا اجلاس ماسکو میں طلب کر رکھا ہے جس میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کسی لائحہ عمل پر اتفاق کی کوشش کی جائے گی‘ جو کہ بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے اس لیے اکتوبر تک بینکنگ نظام کے تحت تجارت کی بحالی تقریباً ناممکن ہے۔ ان حالات میں اگر اڑھائی ماہ کا وقت دینے کی بجائے ایک سال تک کا وقت دے دیا جاتا تو ڈالر کی قیمت میں عارضی چڑھاو نہ ہوتا۔ بیوروکریسی میں بیٹھے بابو ان باریکیوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایسے حالات پیدا کر کے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ وزیراعظم صاحب سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے تحقیقات کروائیں تا کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔
اس کے علاوہ ڈالر ریٹ میں اضافے کی وجہ درآمدات میں اضافہ بھی ہے۔ اس حوالے سے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ صاحب سے میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ڈالرز کے ذخائر بہترین سطح پر قائم ہیں۔ اگر حکومت کا آئی ایم ایف سے روپے کی قدر گرانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے تو ڈالر کی قیمت واپس 155 سے 160 کے درمیان آ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے ایکسپورٹرز کو کم ریٹ پر صنعتی مشینری درآمد کرنے کی سہولت فراہم کی ہے جس کے باعث دو ماہ میں مقامی مارکیٹ سے ڈالرز کی خریداری بڑھی ہے۔ حکومت کا مقصد ملک میں صنعت کو فروغ دینا ہے تا کہ موجودہ مالی سال کے لیے شرح نمو کا طے کیا گیا ہدف حاصل کیا جا سکے۔پچھلے گیارہ ماہ میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں تقریباً پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک کا شرح سود نہ بڑھانا بھی فائدہ مند رہا ہے۔اس کے علاوہ ملک میں پہلی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال جولائی کی نسبت 10فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹر ولیم کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا امپورٹ بل پٹرولیم مصنوعات کا ہے جو کہ ڈالرز کے پاکستان سے نکلنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو جولائی کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ایک آٹو موبائل کمپنی نے جولائی میں 6775گاڑیاں بیچی ہیں جو کہ کمپنی کی تاریخ کی سب سے بڑی سیل ہے۔کوئی بھی گاڑی مکمل طور پر پاکستان میں تیار نہیں ہوتی۔ پارٹس یا خام میٹریل درآمد کرنا پڑتا ہے جس سے ڈالر پر عارضی دباو ٔپڑتاہے جو کہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ پراچہ صاحب کی رائے کا احترام ہے لیکن ان عوامل کے باعث جولائی میں پاکستان کاتجارتی خسارہ تقریباً 3ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے جو کہ پچھلے سال اسی مہینے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر تھا۔ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ درآمدات پر انحصار بڑھنے اور افغان تجارت کے حوالے سے غلط پالیسی اپنانے کے باعث ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت سے گزارش ہے کہ وہ غلطیاں دہرانے کی بجائے ان سے سبق سیکھے تا کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کی مشکلات کم ہو سکیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved