تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     23-08-2021

جنسی بے راہ روی کا خاتمہ

کسی بھی معاشرے کی صحت کے لیے اس میں امانت، دیانت اور شرم وحیا کا پایاجانا بہت ضروری ہے۔ جب کسی معاشرے میں مالی بدعنوانی اور اخلاقی بے راہ روی عام ہو جاتی ہے تو وہ معاشرہ تباہی کی دلدل میں اتر جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں دو ایسی اقوام کا ذکر کیا جو مالی اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار تھیں۔ قومِ مدین کے لوگ مالی بدعنوانی کا ارتکاب کیا کرتے تھے اور دوسروں کی حق تلفی کرنا ان کا معمول تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف آنے کی تلقین کی لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کی نصیحت کو سننے پر آمادہ وتیار نہ ہوئے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر چنگھاڑ کو مسلط کرکے ان کو ہمیشہ کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا۔
قوم لوط کے لوگ جنسی بے راہ روی کا شکار تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام ان کو شرم وحیا کی دعوت دیتے رہے لیکن وہ آپ علیہ السلام کی دعوت کو سننے پر آمادہ وتیا رنہ ہوئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قوم لوط کی طرف عذاب کے فرشتوں کو روانہ کیا چونکہ وہ فرشتے انسانی روپ میں آئے تھے‘ اس لیے قوم لوط کے لوگ ان کے بارے میں بری نیت کا اظہار کرنے لگے۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کے لوگوں کو پہلے بھی اخلاقی پختگی اور مضبوط کردار کی تلقین کرتے تھے‘ اس موقع پر بھی آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف آنے کی تلقین کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قوم لوط کے واقعہ کو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا ہے جن میں سے ایک اہم مقام سورہ ہود کا ہے۔ سورہ ہودکی آیات 73 تا 83 میں یہ واقعہ کچھ یوں بیان ہوا : ''اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس پہنچے تو ان کے آنے سے وہ غمگین ہوا اور دل میں تنگ ہوا اور کہا آج کا دن بڑا سخت ہے۔اور اس کے پاس اس کی قوم بے اختیار دوڑتی آئی اور یہ لوگ پہلے ہی سے برے کام کیا کرتے تھے، (لوط نے)کہا: اے میری قوم! یہ میری (قوم کی)بیٹیاں ہیں‘ یہ تمہارے لیے پاک ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے اذیت نہ دو، کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں؟انہوں نے کہا: بلاشبہ تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تجھے معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں۔(لوط نے )کہا: کاش کہ مجھے تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی زبردست سہارے کی پناہ جا لیتا۔فرشتوں نے کہا: اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے (فرشتے)ہیں، یہ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے، سو کچھ حصہ رات رہے اپنے لوگوں کو لے کر نکل جائو اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری عورت (کے علاوہ)، کہ اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو ان (قوم کے لوگوں) پر آئے گی، ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے، کیا صبح کا وقت نزدیک نہیں ہے؟ پھر جب ہمارا حکم پہنچا تو ہم نے وہ بستیاں الٹ دیں اور اس زمین پر کھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے جو لگاتار گر رہے تھے جن پر تیرے رب کے ہاں سے خاص نشان بھی تھا‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجیدمیں فقط برائی کے ارتکاب سے نہیں روکا بلکہ برائی کے قریب تک جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور زنا کے قریب نہ جاؤ ‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے‘‘۔
کتاب وسنت میں برائی اور بدکرداری کی شدید مذمت کے باوجود ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں برائی کا چلن عام ہے۔ وقفے وقفے سے ایسے واقعات سننے کوملتے ہیں جن کی وجہ سے ہر حساس انسان کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ اپنی اولاد اور گھر والوں کے بارے میں متفکر ہو جاتا ہے کہ نجانے ہماری اولاد،بہنوں، بیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ کچھ عرصہ قبل نور مقدم نامی لڑکی کے قتل کا واقعہ رونما ہوا ، اسی طرح چند روز قبل اقبال پارک (مینارِ پاکستان) میں بھی ایک افسوسناک واقعہ دیکھنے کو ملا۔ اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لیے بعض اہم تدابیر کو اختیار کرنا ضروری ہے‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ قرآن مجیدمیں مذکور نصیحتوں پر عمل کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جہاں پر برائی کی مذمت کی ہے وہیں پر ایک مستقل سورت‘ سورہ نور کا نزول برائی کی روک تھام کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ سورہ نور میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سی ایسی باتیں بتلائی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر یقینا معاشرہ برائی سے بچ سکتا ہے۔ جن نکات کو سورہ نورمیں بیان کیا گیا ہے ان کا خلاصہ درج ذیل ہے :
(i)۔ مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں۔ ( ii)۔ عورتیں اپنی نگاہوں کو جھکائیں اور اپنے وجود کو ڈھانپیں۔ (iii)۔ بے نکاح لوگوں کا نکا ح کیا جائے۔ (iv)۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لی جائے۔ (v)۔ظہر اورعشاء کے بعد اور فجر سے پہلے گھریلو کمروں میں ملازم اور بچے بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔ (vi)۔عورتوں پر تہمت لگانے والوں کو اسّی کوڑوں کی سزا دی جائے۔ (vii)۔ برائی کا ارتکاب کرنے والے غیر شادی شدہ مرد اور عورت کو سو (100)کوڑوں کی سزا دی جائے۔ (احادیث میں شادی شدہ کے لیے سنگسار کی سزا کو مقرر کیا گیا ہے)۔
2۔ والدین کی ذمہ داریاں : معاشرے میں جنسی بے راہ روی کے خاتمے کے لیے والدین کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں اور اپنی اولاد کی معاشی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اولاد ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہے جس کا ضائع ہو جانا یقینا تمام وسائل کے ضیاع سے بڑا نقصان ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اولاد کی تربیت پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ مخرب الاخلاق لٹریچر اور میڈیا پر چلنے والے بعض پروگراموں کی وجہ سے نوجوانوں میں حریت اور آزادی کی طلب بڑھ چکی ہے ۔ منہ زور جوانی کے نشے میں دھت لڑکے اور لڑکیاں والدین کی نصیحتوں کو قبول کرنے پر آمادہ وتیار نہیں ہوتے۔ والدین ان تمام معاملات کو ناگوار سمجھنے کے باوجود اپنے بچوں کے احتساب پر قدرت نہیں رکھتے۔ اگر والدین بچوں کوشروع ہی سے وقت دیں اور ان کے معمولات اور دوستیوں پر نظر رکھیں تو یقینا معاشرے کو بے راہ روی سے بچایا جا سکتا ہے۔
3۔ اساتذہ کی ذمہ داریاں: ابتدائی زندگی میں بچوں کے وقت کا ایک بڑا حصہ درس گاہوں میں گزرتا ہے۔ بدنصیبی سے دورحاضر کے اساتذہ بچوں کے لیے اچھا رول ماڈل ثابت نہیں ہو رہے۔ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو اخلاقی تربیت کی اہمیت سے آگاہ کریں اور معاشرے میں دوسرے انسانوں کے احترام کی تلقین کریں۔ اگر اساتذہ بچوں کی اچھے طریقے سے تربیت اور اصلاح کریں تو یقینا بچوں کے کردار میں پختگی پیدا ہو سکتی ہے۔
4۔ علماء کی ذمہ داریاں: علماء کرام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو اس حوالے سے نبھانا چاہیے اور خطبات میں عقائد ، ایمانیات اور عبادات کے ساتھ ساتھ جنسی بے راہ روی کی قباحتوں اور اس کے انجام کار سے بھی سامعین کو آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر علماء دروس اور خطبات میں پردے داری اور شرم وحیا کی تلقین کریں تو یقینا معاشرے میں اخلاقی اقدار بہتر ہو سکتی ہیں۔
5۔ عبادات کا اہتمام: ہمارے معاشرے میں معاشی کشمکش بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے وقت کا ایک بڑا حصہ کاروبار اور ملازمتوں میں صرف ہوتا ہے۔ کاروباری اور معاشی مصروفیات کے دوران بہت سے لوگ اپنی عبادات سے بھی غافل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے نفس میں قساوت اور سختی پیدا ہو جاتی ہے۔ خشیتِ الٰہی اور عباداتِ الٰہی سے دور رہنے والے یہ لوگ وسوسوں اورشیطانی خیالات پر جلد عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔ معاشرے کے نوجوان اگر نماز کے پابند ہوں تو یقینا نماز انسان کو فحاشی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 45 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو کتاب تیری طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو ، بے شک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے‘‘۔ نماز کے ساتھ ساتھ کثرتِ ذکر ، تلاوتِ قرآنِ مجید اور نفلی روزے رکھنے سے انسان کا کردار پختہ ہو جاتا ہے اور انسان برائی سے دور ہو جاتا ہے۔
6 ۔ نکاح میں تکلفات اور غیر ضروری تاخیر سے اجتناب: لوگوں کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے نکاح میں غیر ضروری تاخیر اور بے جا اسراف سے بچنا ضروری ہو چکا ہے۔ اگر معاشرے میں برائی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کیا جائے اور نکاح کو آسان بنایا جائے تو یقینا معاشرے سے بے راہ روی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
7۔ اچھی صحبت: لوگوں کی بڑی تعداد کے نزدیک دوستی کا مقصدفارغ وقت کو گزارنا ،گپ شپ کرنا اور تفریحی مشاغل کا اشتراک ہے۔ اگر دوستی کی بنیاد علم ، کردار اور عمل ہو تو یقینا دوست احباب کی رفاقت دوسرے انسانوں پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اچھے دوست کتاب وسنت کی بات کرتے اور حیاکی تلقین کرتے ہیں اور ان کی صحبت میں رہتے ہوئے انسان کردار و عمل کی بلندی پر پہنچ سکتا ہے۔
8۔ جرم وسزا کا مؤثر اور کڑا نظام: معاشرے میں مجرم بالعموم سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس سے منفی ذہن کے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اگر مجرموں کو کڑی سزا دی جائے تو یقینا معاشرہ برائی سے پاک ہو سکتا ہے۔ حکمرانوں کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کرنا چاہیے تاکہ معاشرے کو بے راہ روی سے پاک کیا جا سکے۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو یقینا معاشرہ طاہر اور مطہر معاشرے میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو برائی سے بچ کر شرم وحیا والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین !

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved