تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     24-08-2021

الحکم للہ! الملک للہ!

حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مگر تعصبات اور اندھے پن کا کیا کیا جائے۔ ایک فارسی ضرب المثل ہے ''گربروزنہ بیند شپرہ چشم ،چشم آفتاب را چہ گناہ‘‘ یعنی اگر روزِ روشن میں چمگادڑ کو کچھ نظر نہ آئے تو اس میں سورج کی روشنی کا کیا قصور۔ اہلِ جہاں اپنے اپنے تصورات و نظریات کے مطابق ہر واقعے سے اپنی مرضی کے نتائج نکالنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ اس کے باوجود حقائق سے صرفِ نظر نتائج کو نہیں بدل سکتا۔
دنیامیں افغانستان ایک منفرد سرزمین ہے۔ یہاں کی مٹی اور کہسار، یہاں کے چھوٹے چھوٹے چشمے اور بلند و بالا پہاڑ، یہاں کے بوریا نشین باشندے اور ان کی تاریخ‘ عظیم روایات کے حامل ہیں۔یہ سنہری روایات ایک اٹل حقیقت ہیں مگر طالع آزما ہمیشہ اپنی اندھی قوت کے نشے اور غلط اندازوں کے بل بوتے پر اس حقیقت کو بدلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلا ہے کہ طالع آزما خاک چاٹتے اور ایڑیاں رگڑتے ہوئے تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو گئے۔ علامہ اقبالؒ نے افغانستان کو خوب دیکھا اور سمجھا۔ افغانوں کی تاریخ اور جغرافیہ ہمیشہ ان کی نظر میں رہا اور اپنے کلام میں جگہ جگہ انہوں نے اس کا اظہارکیا۔ ضربِ کلیم میں ایک باقاعدہ باب قائم کیا جس کا عنوان رکھا ''محراب گل افغان کے افکار‘‘۔ اس میں لکھتے ہیں:
میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جائوں کہاں
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک!
روزِ ازل سے ہے تو منزلِ شاہین و چرغ
لالہ و گل سے تہی، نغمۂ بلبل سے پاک!
اس منظر کشی کے بعد شاہین اور کبوتر و فاختہ کا موازنہ کرتے ہیں:
باز نہ ہو گا کبھی بندۂ کبک و حمام
حفظِ بدن کے لیے روح کو کر دوں ہلاک!
یہ افغانوں کے رگ و پے میں رچے ہوئے وہ جذبات ہیں جس کی حقیقت کو انہوں نے تاریخ کے ہر موڑ پر پوری دنیا کے سامنے واضح کیا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی قوتیں جو اپنے آپ کو سپر کہلاتی تھیں، افغانستان کی سرزمین پر رسواہو کر یہاں سے فرار ہوئیں۔ دورِ جدید میں دوصدی قبل برطانیہ کو سپرطاقت سمجھا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر سورج غروب ہی نہیں ہوتا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی فوج نے ہند سے افغانستان کا رخ کیا۔ وہ اکیس ہزار مسلح افواج کے ساتھ 1840ء میں کابل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ کابل کے حکمران دوست محمد کو قید کر کے ہندوستان لے گئے۔ اس دوران دوست محمد کے نوجوان بیٹے محمد اکبر نے افغان نوجوانوں کو غیرت دلائی اور ایک رضاکار فوج کے ساتھ کابل پر حملہ آور ہوا۔ یہاں سے انگریز شکست کھا کر جلال آبادکی طرف بھاگے۔ جلال آباد میں ساری فوج تہِ تیغ کر دی گئی۔ چند افراد جو بچ کر طورخم کے راستے ہند میں پہنچے، انہوں نے اس ساری داستان کو بیان کیا اور دنیا سمجھ گئی کہ افغان غلامی قبول نہیں کرتے۔
گزشتہ صدی کے آخری ربع میں دنیا کی ایک اور سپرطاقت سوویت یونین نے افغانستان پر سرخ جھنڈے لہرا دیے۔ ہمارے وطن میں بائیں بازو کے لیڈر اور مہم جو نعرے لگا رہے تھے کہ سرخ جھنڈے لے کر روس پاکستان پر قبضہ کرے گا اور گرم پانیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ایسے میں اللہ کے بندوں نے پاکستان کے اندر بھی یہ اعلان کیا کہ روس گرم پانیوں تک تو کیا پہنچے گا، افغانستان کے اندر اس کا قبرستان بنے گا۔ گزشتہ صدی کے آخری ربع میں راقم کو اپنے مرشد سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حکم پر براعظم افریقہ میں جنوری 1974ء سے نومبر 1985ء تک قیام کا موقع ملا۔ یہاں اسلامک فائونڈیشن نیروبی کے ڈائریکٹر کے طور پر کچھ خدمات سرانجام دینے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔ اس عرصے میں ہم کارکنان اسلامک فائونڈیشن نیروبی کو یہ اعزاز ملا کہ ہر خطے کی اہم مسلم شخصیات کی میزبانی کا اعزاز ملتا رہا۔ تحریک اسلامی پاکستان کی قیادت میں سے جن عظیم قائدین نے اس عرصے میں افریقہ اور بالخصوص کینیا کے دورے کیے ان میں میاں طفیل محمدؒ، قاضی حسین احمدؒ، خرم مرادؒ، مولانا خلیل حامدی ؒ، پروفیسر خورشید احمد اور دیگر کئی پاکستانی شخصیات شامل ہیں۔
قاضی حسین احمد‘ ڈاکٹر مراد علی شاہ صاحب کے ہمراہ 1982ء میں سوڈان کے دورے کے بعدکینیا تشریف لائے۔ ہم نے آپ کے دیگر پروگراموں کے علاوہ ایک بہت بڑا پبلک پروگرام نیروبی کی مرکزی جامع مسجد میں ''جہادِ افغانستان‘‘ کے موضوع پر رکھا۔ اس دور میں سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین سربکف تھے۔ ایک جانب اسلحے کی بھرمار اور وسائل کے انبار تھے۔ دوسری جانب جذبۂ جہاد، شوقِ شہادت اور وطن کی آزادی کی تمنائیں تھیں۔ مسجد کا ہال اور صحن سامعین سے بھر گیا تھا۔ قاضی صاحب کا خطاب بہت پُراثر اور تاریخی تھا۔ مرحوم نے فرمایا ''لوگ کہتے ہیں کہ اس حقیقت کو مان لو، روس جہاں جاتا ہے کبھی وہاں سے واپس نہیں پلٹتا بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا ہے۔ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس حقیقت سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ افغانوں کے خون میں غلامی قبول کرنے کا کوئی ایک ذرہ بھی نہیں۔ وہ جان دے سکتے ہیں، مگر غلامی قبول نہیں کر سکتے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ روس نہ صرف شکست سے دوچار ہو گا بلکہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے‘‘۔ پھر آپ نے یہ شعر پڑھا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا۔
افغان باقی! کہسار باقی! الحکم للہ! الملک للہ!
میں نے اُس روز دیکھا کہ پورا مجمع مقرر کی آواز پر یوں متوجہ تھا کہ جیسے لوگوں نے سانس بھی روک رکھے ہوں۔ ہماری اس مجلس میں بھی کچھ لوگ بائیں بازو کے حامی تھے۔ بعد میں ان چند افراد نے کہا کہ سپیکر کا اندازِ خطابت بہت مؤثر تھا، مگر سوویت یونین کے بارے میں جو خیال ظاہر کیا گیا ہے اس کا پورا ہونا محلِ نظر ہے۔ ہم نے کہا: اللہ آپ کو زندگی دے، وہ دن دور نہیں جس کی طرف محترم سپیکر نے ہمیں متوجہ کیا ہے۔ آپ بھی دیکھیں گے اور ہم بھی دیکھیں گے اور وہ حقیقت تاریخ کے سینے میں بھی محفوظ ہو جائے گی۔ جب روس شکست کھا کر بھاگا اور اس کے بعد مجھے پاکستان سے کینیا جانے کا اتفاق ہوا، تو ان دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ گویا شرم کے مارے منہ چھپا رہے تھے۔
اس صدی کے آغاز میں جب امریکا نے نیٹو فورسز کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا تو پوری دنیا جانتی ہے کہ جو عذرِ لنگ پیش کیا گیا تھا کہ افغانستان میں بیٹھے انتہاپسندوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو نائن الیون کے روز جہاز ٹکرا کر اڑایا تھا‘ بالکل غلط اور جھوٹ تھا؛ تاہم نیٹو کی فوجیں امریکا کی سربراہی میں افغانستان کی سرزمین پر تباہی پھیلانے کیلئے پورے جنگی سازوسامان کے ساتھ داخل ہو گئیں۔ کم و بیش بیس سال کے عرصے میں امریکی معیشت کا جو بیڑہ غرق ہوا اس کی رپورٹس سامنے آ گئی ہیں۔ بائیس سو ارب ڈالرز یہاں خرچ کرنے اور پچیس سو جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد امریکا کو رسوائی کے ساتھ بھاگنا پڑا۔ نیٹو کے سویلین کارندے جو ہلاک ہوئے ان کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ افغان عوام لاکھوں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، مگر انہیں غلام بنانے کا خواب ہوا میں اڑ گیا۔ بیس ہزار امریکی فوجی جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار ہو گئے۔ حقیقت کا مقابلہ افسانوں سے نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کتنی خوش آئند بات ہے کہ طالبان نے کامیابی کے بعد نہ کوئی تکبر کیا ہے اور نہ خونریزی۔ یہ اعلان کتنا اطمینان بخش ہے کہ لوگ ہتھیار ڈال دیں، کسی سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ اشرف غنی جس انداز میں بھاگا ہے وہ اس کے سرپرست بھارت اور امریکا کے لیے بھی درسِ عبرت ہے۔ امریکا کی طرح مودی سرکار بھی نوحہ کناں ہے۔ ہم سید علی گیلانی کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، جن کا اظہار انہوں نے افغانوں کو کامیابی کے بعد مبارک باد دیتے ہوئے کیا ہے۔ اللہ کرے کہ سرزمین افغانستان امن و امان کا گہوارہ بن سکے۔ پچھلی مرتبہ جب طالبان اقتدار سے محروم کر دیے گئے تھے، تو ان کی قیادت کے کئی اہم رہنما مختلف اوقات میں منصورہ تشریف لاتے رہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم سے ملاقات کے دوران بے تکلفی سے جو گفتگو ہوتی تھی‘ وہ مجھے اب بھی یاد ہے۔ افغان رہنمائوں نے بڑے دل کے ساتھ یہ اعتراف کیا کہ ہم تختِ اقتدار تک پہنچے تو ہمارے پاس تجربات نہیں تھے۔ ہم سے بعض غلطیاں ہوئی ہیں جن کا ہمیں احساس ہے اور ہم آئندہ اس نوعیت کے نازک معاملات میں احتیاط کے ساتھ قدم اٹھائیں گے۔
آج قاضی حسین احمد صاحب تو آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، مگر طالبان رہنمائوں نے جو باتیں ان کی زندگی میں کی تھیں، کابل میں داخل ہونے کے وقت انہوں نے بلاشبہ ان کی عملی تصدیق کر دی ہے۔ محراب گل افغان کے افکار ہی کے باب میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا
اتر گیا جو ترے دل میں لَاشَرِیکَ لَہٗ
افغان طالبان کے کابل میں داخلے کے موقع پر پوری دنیا کی نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں کہ دیکھیے اب و ہ کیا کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ قتلِ عام کریں گے اور انہیں اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے طالبان کو بدنام کرنے اور اسلام پر انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جائے گا، انہیں بری طرح مایوسی کا شکار ہونا پڑا۔ طالبان نے اسلامی اقدار کو زندہ کر دیا۔ اللہ کرے کہ آئندہ بھی وہ اسی انداز میں آگے بڑھتے رہیں۔ اقبال نے گزشتہ صدی میں آج سے کم و بیش سو سال پہلے یہ بات فرما دی تھی :
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
اگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved