تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     26-08-2021

اپوزیشن کے تین سال

جہاں حکومت اپنی تین سالہ 'کامیابیوں‘ کاجشن منا رہی ہے، وہاں اپوزیشن کوبھی چاہیے تھاکہ اپنی تین سالہ ناکامیوں پر کسی نوحہ گری کی مجلس کا انعقاد کرتی۔
فی الواقعہ حکومت کی کامیابی ایک ہی ہے: اس نے اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا۔ اپوزیشن کی ناکامی بھی یہی ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ دیوار سے لگ گئی۔ اپوزیشن تین برسوں میں حکومت کے لیے کوئی قابلِ ذکر مشکل کھڑی نہیں کر سکی بلکہ آگے بڑھ کر مشکل کشائی کرتی دکھائی دی۔ ہر اہم مرحلے پراور کبھی بلا طلب بھی دستِ تعاون پیش کرتی رہی۔ جیسے کسی ان دیکھے روزن سے کوئی اشارہ مل گیا ہو یا اشارے کا انتظار ہو۔
ان تین برسوں میں اصل اپوزیشن تو نون لیگ تھی۔ اپوزیشن وہی ہوتی ہے جس کا اقتدار ختم ہوا ہو یا اقتدار کا امکان ہو۔ نون لیگ کے ساتھ دونوں معاملات ہوئے۔ نواز شریف صاحب نے اس حادثے کو ایک بیانیے میں بدل ڈالا‘ وہ مگر اس بیانیے کو کسی سیاسی تحریک میں نہیں بدل سکے۔ بیانیے کا ابلاغ خوب ہوا مگر بیانیہ سیاسی رویوں میں تبدیلی نہ لا سکا۔ نون لیگ نے چاہا کہ غمِ جاناں کو غمِ دوراں بنا دے۔ اس کے لیے پی ڈی ایم بنی۔ صرف مولانا فضل الرحمن نے دل سے ساتھ دیا۔ پیپلزپارٹی نے اسے موقع جانا۔ موقع پرستی نے منظر کو بدل ڈالا۔
اقتدار کا کھیل اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا۔ حکومت معلوم ہوتا ہے کہ دباؤ سے نکل آئی ہے۔ اپوزیشن کی ناکام حکمتِ عملی کے ساتھ، خطے میں آنے والی تاریخی تبدیلی، اس کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔ جب سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہوں تو داخلی تبدیلی کی بات کو شنوائی نہیں ملتی۔ سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا تو ضیاالحق صاحب کے خلاف اپوزیشن دم توڑ گئی۔ مذہبی جماعتیں ان کی حلیف بن گئیں جو اپوزیشن کی تحریک میں جان ڈال سکتی تھیں۔ بھٹو خاندان اسی مشکل صورت حال کا شکار تھا جس میں آج شریف خاندان مبتلا ہے۔ ان کی شامِ غم طویل ہوتی گئی مگریہ حالات ضیا دور کی طوالت کے لیے بھی جواز بن گئے۔
آج اپوزیشن کے سامنے تین سوالات ہیں: افغانستان کی صورتِ حال کس حد تک پاکستان کی داخلی سیاست کو متاثر کر سکتی ہے؟ اپوزیشن مہنگائی جیسے داخلی مسائل کو کیا کسی حکومت مخالف تحریک میں بدل سکتی ہے اور کورونا کی وبا میں کیا کوئی موثر احتجاج ممکن ہوگا؟ اپوزیشن جماعتوں میں تعاون کے کتنے امکانات باقی ہیں اور ایک سیاسی اتحاد کے لیے کیا کوئی قابلِ عمل پروگرام تجویز کیا جا سکتا ہے؟
پہلے سوال کا تعلق عالمی سیاسی قوتوں کی اگلی چال کے ساتھ ہے۔ اس وقت امریکہ اور اس کے اتحادی ایک مشکل صورتِ حال کا شکارہیں۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ طالبان کی مزاحمت کو زندہ رکھنے میں اصل کردار پاکستان کا ہے۔ گویا اس کی ہزیمت کا اصل سبب پاکستان ہے۔ اگر یہ سوچ پختہ ہوتی ہے تو پاکستان امریکی غصے کا نشانہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف چین اور روس جیسی امریکہ مخالف قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ طالبان کی آمدِ ثانی، امریکہ کے عالمی غلبے کے خاتمے کا نقطہ آغاز بن جائے۔ ان کے لیے بھی پاکستان کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان دونوں کے لیے فرنٹ لائن سٹیٹ ہے۔ اس لیے دونوں پاکستان کی داخلی سیاست سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔
پاکستان کے دوست یہ چاہیں گے کہ یہاں سیاسی استحکام ہو۔ ان کی کوشش ہوگی کہ اپوزیشن کو اس طرح دیوار سے نہ لگایا جائے کہ مزاحمت کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ ہو۔ دوسری طرف جو قوتیں پاکستان کو سزا دینے کے درپے ہیں وہ خلفشار میں اضافہ چاہیں گی تاکہ پاکستان کو عالمی سیاسی نظم کے لیے ایک خطرہ بنا کر پیش کریں۔ اس کا انحصار اب پاکستان کی مقتدرہ پر ہے کہ وہ ان عزائم کے راستے میں کیسے رکاوٹ بنتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ اپوزیشن کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے، اسے سیاسی نظام میں وہ مقام دیا جائے جس کی وہ مستحق ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس صورتحال کوکیسے اپنے لیے ایک امکان میں بدل سکتی ہیں۔
اگر اپوزیشن کے لیے کوئی موقع یا امکان پیدا نہیں ہوتا تو اس کے لیے احتجاجی تحریک ناگزیر ہو جائے گی۔ اسے آج بقا کے چیلنج کا سامنا ہے۔ نون لیگ کا خیال ہے کہ وہ پنجاب کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اگر دوسرے صوبوں میں اسے کچھ بھی نمائندگی مل گئی تو وہ انتخابات کے نتیجے میں حکومت بنا سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کو نہیں کھونا چاہے گی جو اس کی سیاسی قوت کی اساس ہے۔ انتخابات اب زیادہ دور نہیں رہے۔ اس لیے اپوزیشن جماعتوں کو اگر عوام کی امید بننا ہے تو آج ہی سے اپنی زندگی کا ثبوت دینا ہوگا۔ اس کے لیے واحد راستہ احتجاجی سیاست ہے، اگر مقتدرہ کے ساتھ اس کے معاملات طے نہیں ہوتے۔
اب آتے ہیں تیسرے سوال کی طرف۔ اگر نون لیگ کے ساتھ مقتدرہ کے معاملات طے نہیں ہوتے تو طاقت کی ایک نئی تکون وجود میں آ سکتی ہے جس کا ایک ضلع مقتدرہ دوسرا تحریک انصاف اور تیسراضلع پیپلزپارٹی ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نون لیگ کو اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑنا ہوگی۔ پھر وہ کیا کرے گی؟ یہ سوال خود مقتدرہ کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرکوئی تاریخی شعور سے تہی دامن نہیں تو وہ جانتا ہے کہ نون لیگ کو دیوار سے لگانے کا انجام کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس غلطی کو دھرانے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم تاریخ سے کچھ سیکھنے پر آمادہ نہیں۔ پیپلزپارٹی اگر آج بھی وہی کردار ادا کرتی ہے جو اس نے 1970ء میں ادا کیا تھا تو وہ تاریخ کی عدالت میں مجرم ٹھہرائی جائے گی۔سیاسی جماعتیں اگر انفرادی نفع نقصان سے آزاد ہو سکیں اور تاریخی شعور کا ثبوت دیں تو ہم اس مشکل صورتحال سے نکل سکتے ہیں۔ اگر 1970ء کے انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو اس شعور کا مظاہرہ کرتے تو یحییٰ خان کی نااہلی کے باوجود پاکستان کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ اگر ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہو جاتا اور اقتدار عوامی لیگ کو منتقل ہو جاتا تو پاکستان متحد رہتا۔ بھٹو صاحب مستقبل میں وزیراعظم بن سکتے تھے لیکن حبِ عاجلہ نے غلبہ پایا۔ وہ وزیراعظم تو بن گئے مگر پاکستان دولخت ہو گیا۔
اپوزیشن جماعتیں اگر مخلصانہ بنیادوں پر جمع ہو سکیں توہر خطرہ ٹل سکتا ہے۔ اس کا لیکن کوئی امکان نہیں۔ اگر مقتدرہ نون لیگ کو دیوار سے لگانے کے لیے پیپلزپارٹی سے معاملہ کرتی ہے تو اس کے کچھ نتائج ہیں۔ اگر نون لیگ اور پیپلزپارٹی کو ساتھ رکھنا چاہتی ہے تواس کے لیے عمران خان صاحب کو قائل کر نا ضروری ہوگا۔اپوزیشن اگر متحدہ ہوجائے تو مقتدرہ یکسو ہو سکتی ہے۔بصورتِ دیگر ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
اپوزیشن کے پاس اب وقت نہیں ہے۔اس نے تین سال کھو دیے ہیں۔ اسے اپنی زندگی کا ثبوت دینا ہے۔اس کی حکمتِ عملی ان تین سوالات کے جواب میں پوشیدہ ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مقتدر حلقے بھی ایک آزمائش سے دوچار ہیں۔پاکستان ایک ایسا قافلہ ہے جس کے راستے میں دوراہے بہت ہیں۔ یہ ذمہ داری میرِ کارواں کی ہے کہ وہ قافلے کو اس مشکل سے نکالے تاکہ وہ یک سوئی کے ساتھ سوئے منزل روانہ ہو سکے۔اگر ایسا نہ ہوا توجان لیجیے کہ آج پھر ہم ایک دوراہے سے چند قدم ہی دور ہیں۔ یہ دوراہا ہے: جمہوریت یا 'صالحین‘ کی حکومت؟ اس دوراہے سے بچنے کے لیے،یک سوئی لازم ہے اور یہ قومی اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں۔قومی اتفاق رائے صرف سیاسی جماعتیں پیدا کر سکتی ہیں۔ مقتدرہ اس کو واقعہ بنانے میں مدد کرتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved