تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     29-08-2021

ہمارے’’وڈّے‘‘ بھائی جان

انیس، بیس سال کا وہ نوجوان ایمرسن کالج ملتان سے بی اے کا امتحان دے کر واپس آیا تو پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ والدین کی آنکھیں مستقبل پر لگی ہوئی تھیں، دعائیں اسے حصار میں لیے رہتیں۔ یہ بیسویں صدی کے (غالباً) 54ویں سال کی بات تھی، اُن دِنوں بی اے پاس کر لینا گویا معراج کو چھو لینا تھا۔ مولانا غلام رسول مہر جیسے محقق اپنے نام کے ساتھ بی اے کا لاحقہ لگاتے تھے۔ نکلتے قد، گورے رنگ، فراخ پیشانی اوراونچی ناک والے اس نوجوان سے بھی امیدیں وابستہ تھیں۔ اُسے بڑا افسر بن کروسائل میں اضافہ کرنا، اوراپنے خاندان کو آسودگی فراہم کرنے کی کاوش میں شریک ہوجانا تھا۔ مقابلے کے امتحان کی بات بھی شاید ہوتی ہو، مختلف مقامات پر بڑے عہدوں پر فائز اعزا سے بھی والد صاحب کا رابطہ ہوا ہوگا کہ کوئی اعلیٰ ملازمت تلاش کرلی جائے۔ ایک دن محلے کے چند لڑکوں نے بوریوالہ ٹیکسٹائل ملز دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ یہ نئی نئی قائم ہوئی تھی اور اُس علاقے کیلئے ایک عجوبہ تھی۔ اسے دیکھنے اور اس میں کام کرنے کا شوق جوان دِلوں میں چٹکیاں لے رہا تھا۔ ایک دن وہ گورا چٹا لیکن سنجیدہ نوجوان بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ بوریوالہ روانہ ہوگیا کہ اس وسیع کارخانے کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ سکے۔ وہاں پہنچے توبھرتی ہورہی تھی، درخواست گزاروں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ پاک پتن کے محلہ سمادھانوالہ سے آنے والا گروپ بھی قطار میں لگ گیاکہ قسمت آزمانے میں کیا مضائقہ ہے؟ تین‘ چاریا پانچ افراد میں سے اورتو کسی کی قسمت نے یاوری نہ کی، لیکن اِس نوجوان کو پروانۂ ملازمت تھما دیا گیا، جو ازراہ تفنن لائن میں لگ گیا تھا۔ نوے روپے مشاہرہ مقررہوا تھا۔ پروانہ تھامے والدین کے پاس پہنچے، افسری کا خواب دیکھنے والوں کو کلرکی پسند تونہیں آسکتی تھی، لیکن یہ سوچ کرکہ امتحان کا نتیجہ آنے میں دو، تین ماہ لگیں گے، اس لیے گھر بیٹھ کر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کچھ کرنا شروع کردیا جائے، اجازت دے دی۔ سوچاگیا ہوگا کہ جب نتیجہ آئے گا تو پھر ہاتھ پائوں مارلیں گے کہ انہیں کسی نے باندھا تونہیں ہوگا۔ یوں وہ نوجوان ایک صندوق میں اپنے کپڑے اور کچھ ضروری سامان رکھ کر بوریوالہ جانے والی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اگلے ہی روز مل کے لیبر افسر کے دفتر میں کام کا آغاز ہوچکا تھا۔ نتیجہ آیا، بی اے پاس ہوگئے توافسر انچارج نے ترقی کی سفارش کردی۔ سپرنٹنڈنٹ بن گئے، تنخواہ میں بھی اضافہ ہوگیا تو ملازمت جاری رکھنے کا جواز ہاتھ آگیا۔ کچھ ہی عرصہ بعداسے افسر بناکر دفتر کا انچارج بنا دیاگیا۔ تو بس یہ سمجھئے کہ دِل لگی دِل کی لگی بن گئی۔ خوابوں کی تعبیراگر یہیں مل سکتی ہے تو پھر ''آوارہ گردی‘‘ کا کیا فائدہ؟ یہ سوچا اور جم کربیٹھ گئے۔ رہنے کیلئے کوارٹر دستیاب تھا، پھرکوٹھی میں پہنچ گئے۔ ان دِنوں ٹیکسٹائل مل محض چند مشینوں کا مجموعہ نہیں تھا، اس کیلئے پورا شہر بسانا پڑا تھا۔ سینکڑوں کارکنوں کیلئے کوارٹر بنتے، کوٹھیاں تعمیر ہوتیں۔ بوریوالہ مل نے دائوآباد کے نام سے شہربسانا شروع کیا، جس میں مسجد، ڈاکخانہ، سکول، ہسپتال، بینک سب کچھ موجود تھا۔ کھیلوں کے میدان تھے، ثقافتی تقریبات کیلئے جگہ مخصوص تھی۔ قوالیاں ہوتیں، مشاعرے ہوتے، تقریری مقابلے ہوتے، انعامات تقسیم ہوتے، اسناد بانٹی جاتیں، یوں مل کے اندر کام کرنیوالوں کی ذہنی اور فکری نشوونما کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ مَیں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو بوریوالہ میں میونسپل ڈگری کالج قائم ہوچکا تھا، سو پاک پتن سے وہیں بھجوادیا گیا۔ لیبرافسر صاحب کے بنگلے میں ایک کمرہ مل گیا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھاکہ لیبر افسر دائود کارپوریشن کے وظیفے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے برطانیہ روانہ ہوگئے۔ لندن سکول آف اکنامکس سے پرسانل مینجمنٹ کا ڈپلومہ ان کا ہدف تھا۔ وہ لندن پہنچے تو مجھے ساہیوال کا رخ کرنا پڑا، گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل نے میرے لئے بانہیں کشادہ کررکھی تھیں۔
لیبر افسر صاحب اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آئے تواعلیٰ ملازمتیں ان کی تلاش میں تھیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ عباسی ٹیکسٹائل ملز رحیم یارخان میں پرسانل منیجر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ تنخواہ میں خوب اضافہ ہوا، اور نہرکنارے ایک عالیشان کوٹھی بھی مل گئی۔ یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور تھا، محترمہ فاطمہ جناحؒ نے انکے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، تو گورنمنٹ کالج ساہیوال میں بھی ان کے نعرے لگائے جانے لگے۔ مَیں یہاں انجمن طلبہ کا صدر منتخب ہوچکا تھا، اور لندن پلٹ افسر رحیم یار خان میں عباسی ٹیکسٹائل ملز کے حلقے سے انتخاب لڑکر پہلے بی ڈی ممبر اور پھر چیئرمین منتخب ہوگئے تھے۔ مل انتظامیہ کی خواہش انہیں اس کوچے میں لے گئی تھی۔ساہیوال میں ہمارا گروپ محترمہ فاطمہ جناحؒ کا پرچم بردار تھا، تو رحیم یار خان میں بی ڈی چیئرمین بن جانیوالے پرسانل منیجر ایوب خان کے حق میں سرگرم تھے۔ رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر اُن کے سر ہوگئے کہ آپ کا چھوٹا بھائی ساہیوال میں طوفان اٹھائے ہوئے ہے، اسے لگام ڈالیے۔ ان دِنوں موبائل تھے نہ انٹرنیٹ، فون پر بات کرنے کیلئے بھی کال بُک کرانا پڑتی تھی، سو رحیم یارخان سے اضطراب کی گھنٹیاں بجنے لگیں، ساہیوال کا گزارا رحیم یار خان ہی کے وظیفے پر تھا، لیکن ساہیوال کو اصولی موقف سے دستبرداری منظور نہ تھی، وہ نتائج سے بے پروا ڈٹا ہوا تھا، رحیم یار خان نے یہ صورتحال دیکھی تو منہ دوسری طرف کرلیا۔ زبانِ خاموش سے انتظامیہ کو جواب دے دیا کہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل تھا۔
عباسی ٹیکسٹائل ملزکے پرسانل منیجر یہاں سے علی آٹوز کراچی منتقل ہوگئے کہ دونوں اداروں کی انتظامیہ ایک ہی تھی۔ علی آٹوزہی میں تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو برسرِاقتدار آئے تو انہوں نے صنعتوں کو قومیا لیا۔ علی آٹوز اوراس کے جملہ افسران و کارکنان بھی نذر سرکار ہوگئے، اور یوں موصوف اعلیٰ سرکاری افسر بن گئے۔ یہاں سے پاکستان نیشنل آئلز، انڈس پائپ انڈسٹریز، نیشنل سیمنٹ اور پھر پی آئی ڈی سی پہنچے، یہاں تک کہ پی آئی ڈی سی کے چیئرمین بنا ڈالے گئے۔ نوے روپے ماہوار سے شروع ہونے والا سفر ''ایم ون‘‘ پر جاکر ٹھہر گیا۔ کم و بیش پچیس سال پہلے ریٹائر ہوئے، مختلف نجی اداروں کی سربراہی کی، اور جب قویٰ مضمحل ہوگئے تو پھرگھر ہی کے ہوکر رہ گئے۔ آخری چند سال نقل و حرکت محدود رہی، صحت خراب ہوتی گئی، یہاں تک کہ چند روز پہلے آخری ہچکی لی، اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ یہ صاحبزادہ ضیاالرحمن شامی کی کہانی ہے، جو ہم سات بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ہمشیرہ وسیم اختر کے بعد وہ اس دنیا میں وارد ہوئے تھے، مجھ سے دس سال بڑے تھے۔ ان سے تین سال چھوٹے رضاالرحمن شامی تھے۔ ضیا صاحب کو ہم وڈے بھائی جان، اور رضا صاحب کو چھوٹے بھائی جان کہہ کر پکارتے تھے۔ پاکستان کے ممتاز بزنس منیجرز میں ان کا شمار ہوتا تھا، وہ جس بھی قومی ادارے میں گئے، اسے نفع بخش بنانے میں دن رات ایک کر دیے، کارکنوں کے ساتھ گھل مل گئے، ان کو آسانیاں فراہم کرنے میں لگے رہے، ہماری طرح وہ ان کا بھی سائبان تھے۔ انہوں نے دوسروں کیلئے جینے کا گُر سکھایا بھی اور آزمایا بھی۔ ان کے بیٹے صاحبزادہ عمران شامی اور انکی اہلیہ علویہ نے انکی خوب خدمت کی، عزیزم عمر شامی بھی ہمہ وقت متوجہ رہے، ہماری سانس بھی ان کے سانس سے جڑی رہی۔ ان کی جان میں ہم سب کی جان تھی، ان کے سایے میں ہم سب اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے، اور ان سے رہنمائی کے طالب رہتے تھے۔ وہ آخر دم تک اپنے عزیزوں، دوستوں اور دوستوں کی اولادوں سے جڑے رہے، اور یہی سبق دہراتے اور یاد کراتے رہے کہ ؎
ہیں وہی لوگ جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
(یہ کالم روزنامہ ''دُنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved