تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     05-09-2021

شہبازشریف اور قومی حکومت؟

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ، مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ملکی سیاست کا ایک پیچیدہ کردار ہیں۔ درد دل رکھنے والے سیاست دان ہیں اور ان کی شخصیت میں سختی نرمی دونوں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ اب ان کے دورہ کراچی کو ہی لیں جہاں وہ روشنیوں کے شہر کے حالات پر آنسو بہاتے نظر آئے وہیں انہوں نے ملک میں قومی حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی دے ڈالی۔ یہ بیان آیا تو ایسا لگا جیسے اپنے ہوں یا پرائے سب نے شہباز شریف کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ مریم نواز صاحبہ کو موقع ملا تو اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چچا نے قومی حکومت کی نہیں قومی مفاہمت کی بات کی ہوگی۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے انہیں ذاتی رائے کی بنیاد پر پاسنگ ریمارکس قرار دیا۔ تحریک انصاف تو ویسے ہی موقع کی تاک میں رہتی ہے کہ کب اپوزیشن کو نیچا دکھایا جائے ۔ اس تجویز کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے شہباز شریف کی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش قرار دے دیا۔ پیپلز پارٹی‘ جو آج کل تنہا حکومت سے لڑنے کا مشن لیے اپوزیشن کی اپوزیشن کرنے میں مصروف ہے‘کے خیال میں شہباز شریف بطور اپوزیشن لیڈر اور سیاسی رہنما خود کو زندہ رکھنے کیلئے اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔
قومی حکومت کی بات کی جائے تو پاکستان ایسا ملک ہے جہاں مختلف سیاسی نظام آزمائے جاچکے ہیں۔ ایک ایسی سیاسی لیبارٹری سمجھ لیں جہاں آئے روز نئے تجربات سے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عوام کیسا نظامِ حکمرانی اور کیسے حکمران چاہتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف، جنرل ضیا الحق، جنرل یحییٰ خان اور جنرل ایوب خان کے ادوار تو آمریت کے تھے ۔ بچے کھچے جمہوری ادوار میں جہاں سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے لیے رسہ کشی اور مقتدر حلقوں کی کاسہ لیسی کرتی رہیں وہیں 'سیاسی اور حکومتی نظام کیسا ہوگا؟‘ اس پر بھی الجھتی رہیں۔ قومی حکومت کی بات کریں تو بظاہر اس سیدھی سادی تجویز کا مقصد ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک حکومت کا قیام ہے؛ تاہم کچھ دوست قومی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی دیرینہ خواہش قرار دیتے ہوئے خواہ مخواہ بیچ میں بنگلہ دیش ماڈل لے آتے ہیں۔ اگر ہم آئینِ پاکستان کی بات کریں تو نہایت واضح ہے کہ عوام کی حکمرانی عوامی نمائندوں کی مدد سے ہوگی۔ اس مقصد کیلئے ہر 5سال بعد انتخابات میں عوام اپنی پسند کے لیڈر اور جماعت کواقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتے ہیں۔ یہ سادہ سا عمل پاکستان کے مخصوص سیاسی منظر نامے میں اس وقت پیچیدہ ہوجاتا ہے جب ہم ماضی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ماضی کے سفر میں آمریت، صدارتی نظام، غیر جماعتی انتخابات، بنیادی جمہوریتوں کے نظام اور ون یونٹ جیسے کچھ ایسے تجربات ہیں جو خاصے تلخ رہ چکے ہیں۔ ان تجربات نے عوام کے لیے حالات مشکل ہی بنائے ۔ ایسے میں اکثریت کا اتفاق اس بات پر ہی ہوتا ہے کہ جو پارلیمانی جمہوری نظام ہے وہ اپنی تمام تر قباحتوں کے باوجود قدرے بہتر نظام ہے ۔ عوام کی قسمت بدلے نہ بدلے وہ 5سال بعد خود پر حکمرانی کرنے والے چہرے ضرور بدل سکتے ہیں۔ ایسے میں شہباز شریف کے دورہ کراچی میں دئیے گئے بیان کی بازگشت اب تک سنی جاسکتی ہے ۔
اب واپس نرم گرم مزاج اور درد دل رکھنے والے سیاسی رہنما کی قومی حکومت کے بیان کی بات کریں تو شہباز شریف کچھ دور اندیش بھی واقع ہوئے ہیں۔ مستقبل میں حالات کیسے ہوسکتے ہیں اس کی پیش بینی کرتے ہوئے وہ کچھ اقدامات کرنے پر اکثر آمادہ نظر آتے ہیں۔ پاکستان ناممکنات کی سرزمین ہے ۔ یہاں اکثر وہ ہوجاتا ہے جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو۔ ملک کے سیاسی، معاشی اور خطے کے بدلتے حالات پر نظر ڈالی جائے تو شہباز شریف کا بیان محض وہم اور گمان تک محدود نہیں رہ جاتا، امریکا بہادر کا بدلتا رویہ اور چین کے ساتھ معاملات ، افغانستان میں طالبان کی واپسی اور بھارت سے مسلسل بڑھتی تلخی پاکستان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار دکھاتی ہے ۔ ایسے میں کچھ صاحبان نظر کا خیال ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب حقیقی جمہوری حکومت اور قیادت ہی ملک کو خارجہ محاذ کے ان چیلنجز اور معیشت سمیت داخلی محاذوں پر نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے ۔ کچھ سیاسی مبصرین یہ اندازے بھی لگاتے ہیں کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کیلئے پارٹی بازی اور عمومی سیاست سے بالاتر ہوکر ایک ہونا ہوگا۔
ایسے میں شہباز شریف کی حکمت عملی یہی لگ رہی ہے کہ موجودہ اور آئندہ آنے والے مہنگائی کے سیلاب کی بنیاد پر عوامی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے اور حکومت سمیت دیگر مقتدر قوتوں پر ایک غیر جانبدار سیٹ اپ کے ماتحت انتخابات کے لئے دباو بڑھایا جائے ۔
سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس حکمت عملی میں جان نظر آتی ہے۔ ایک تو حکومت کے ہاتھوں سے مہنگائی کا معاملہ نکل گیا ہے اور اسے درست کرنے کے بجائے حکومت اپنے ترقیاتی منصوبوں اور ان کی تشہیر پر زیادہ پیسے خرچ کرنے میں مصروف نظر آ رہی ہے ، جس سے حکومتی بوکھلاہٹ واضح ہے کہ کسی بھی طرح عوام میں اپنی تیزی سے گرتی ساکھ کو سہارا دیا جائے۔ حالیہ متعدد سرویز اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بیروزگاری ہے ۔ ایپسوس (Ipsos) کے اپریل میں ہونے والے سروے کے 32 فیصد شرکا نے افراط زر کو سب سے زیادہ پریشان کن ایشو قرار دیا تھا۔ اس کے بعد بیروزگاری اور پھر کورونا کو پریشان کن قرار دیا گیا۔ سروے کے نتائج نے وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان ثبت کردیا ہے جو لوگوں کے معاشی خوف کم کرنے کے بجائے کرپشن کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ جولائی میں انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینئن ریسرچ نے پنجاب کے عوام سے ملکی مسائل سے متعلق سروے کیا تھا۔ سروے کے مطابق پنجاب میں 49 فیصد شہریوں نے مہنگائی کو اہم ترین مسئلہ جبکہ 19 فیصد نے بے روزگاری کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔ میرے نزدیک مہنگائی اور بیروزگاری کا مسئلہ اب ایسا نہیں رہا جو ہمیں سروے کے نتائج سے پتا چلے‘ یہ ہمارے ارد گرد، اوپر نیچے سے ہر پاکستانی کو جکڑ چکا ہے ۔ دوسری طرف دیکھیں تو اپوزیشن کے ہاتھ حکومت کے آٹا ، چینی، ادویات اور رنگ روڈ سمیت متعدد سکینڈلز بھی ہیں اور حکومت کی جانب سے احتساب کا بیانیہ ایک سبز باغ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ عدالتوں میں جب کرپشن کے مقدمات جاتے ہیں تو وہاں سے کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ ان حالات میں شہباز شریف 'چھڑی اور گاجر‘ کی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں۔ وہ ایک طرف قومی مصالحت کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف لانگ مارچ کا عندیہ دے رہے ہیں۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور حمزہ شہباز کی صورت میں شہباز شریف کی نچلی سطح تک سیاسی پکڑ ہے ۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز نے جارحانہ پچ بھی تیار کر رکھی ہے جو شہباز شریف کی بیٹنگ کے لئے سازگار ہے ، اس سیاسی حکمت عملی میں اگرچہ جان تو موجود ہے لیکن عوام میں ابھی ن لیگ کی طرف سے ''مکس سگنلز‘‘جا رہے ہیں جس سے ایک کنفیوژن کا تاثر ابھر رہا ہے اور اس کنفیوژن کو دور کرنے کی کنجی صرف میاں نواز شریف کے ہاتھ میں ہے ۔ اگر وہ اپنے اوپننگ بیٹسمین کو واشگاف الفاظ میں تمام اختیارات اور سب کو ان کی ماتحتی میں چلنے کا حکم نہیں دیں گے تو گزشتہ 3سال کی محنت اور کڑے وقت کا پھل درخت سے کچا ہی ٹوٹ جائے گا اور کچے پھل کا ذائقہ کڑوا کسیلا ہی ہوتا ہے !!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved