تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     07-09-2021

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کاکردار1965

1965ء کی پاک بھارت جنگ پاکستانیوں کی جرأت و شجاعت کے باعث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا لیکن وہ یہ بھول کیا تھا کہ جنگ اسلحے‘ گولہ بارود اور آلاتِ حربی سے نہیں جیتی جاتی‘ جنگ جوش اور جذبۂ ایمانی سے جیتی جاتی ہے۔وہ جذبہ بھارتی فوج کے پاس نہیں تھا لیکن پاکستان کی مسلح افواج اور اس کے عوام اس جذبے سے مالا مال تھے۔ دشمن کی نقل و حرکت اور رَن آف کچھ کے تنازع کے بعد سے پاکستان فضائیہ متحرک تھی اور ہرممکن طور پر جنگ کیلئے تیار تھی۔ اس نے مشرقی سرحد پر نگرانی کیلئے اپنی پروازیں بھی جاری رکھی ہوئی تھیں۔ اس وقت پاک فضائیہ کی کمان لیجنڈ پائلٹ ایئر مارشل نور خان کے پاس تھی جنہوں نے چند ہفتے قبل ہی پاک فضائیہ کی کمان سنبھالی تھی۔
جنگ سے قبل‘ رن آف کچھ میں بھارت اور پاکستان کی باڈر سکیورٹی فورسز مدمقابل آئیں اور باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی۔ اس معرکے میں پاکستانی افواج نے بھارت کو شکست سے دوچار کیا۔ اپریل میں پھر دونوں ممالک باڈر پر آمنے سامنے تھے اور سرحدی پوسٹوں پر حملے شروع ہوگئے۔ اگست میں آپریشن جبرالٹر لانچ کیا گیا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، ستمبر میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوگیا۔ایئر مارشل نور خان پہلے ہی حالات کو بھانپ چکے تھے‘ انہوں نے فوری طور پر مختلف بمبار طیاروں کی استعدادِ کار پر توجہ دی۔پاک فضائیہ کی ایک ورکشاپ پشاور میں چوبیس گھنٹے طیاروں کی مینٹی ننس کیلئے کام کرنے لگی۔ شاہینوں کا جذبہ اس وقت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ جنگ کا آغاز ہوا تو فضائوں میں پاک فضائیہ کی برتری نے جنگ کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا۔ شاہین اُن فوجی تنصیبات اور پاک فوج کے قافلوں کی براہِ راست نگرانی کرتے‘ جو جنگ کا حصہ تھے۔ اگرچہ بھارت کا دفاعی بجٹ نہ صرف پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تھا بلکہ اس کے پاس جنگی آلات، ٹینک، طیارے اور اسلحہ وغیرہ بھی کافی زیادہ تھا۔ پاکستان کے پاس اس وقت صرف 145جنگی جہاز تھے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارتی ایئر فورس کا فلیٹ 775 طیاروں پر مشتمل تھا؛ تاہم پاک فضائیہ نے کم وسائل کے باوجود نہ صرف بری اور بحری افواج کی حفاظت کی بلکہ بھارتی برتری کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایئر چیف مارشل نے اپنے تجربے اور بہترین حکمت عملی سے 1965ء کی جنگ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔
ایف 104 جہاز اس وقت کا سپر سونک جہاز تھا جو آواز کی رفتار سے سفر کرتا تھا۔ پاک فضائیہ کی جانب سے حکمتِ عملی کچھ یوں بنائی گئی کہ پہلے سرگودھا سے سیبر طیارے اڑتے تھے پھر اس کے بعد ایف 104 ان کی معاونت کرتے تھے۔یہ طیارے مقوضہ کشمیرتک پرواز کرتے تھے۔ڈی 30 جیٹ ٹرنیز نچلی پروازیں کرتے تھے اور ان پر جاسوسی کے آلات نصب تھے۔ اس وقت کوئی ذی روح یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس جنگ میں فضائی جنگ کی نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔اس جنگ کے غازیوں کی بات کریں تو ایئر مارشل نور خان نے خود محاذ پر جنگ لڑی، ایئر کموڈور ایم ایم عالم نے ناقابلِ شکست فضائی ریکارڈ قائم کیا۔اس کے علاوہ ایئر مارشل انور شمیم،ایئرمارشل عظیم دائود پوتا، ایئر وائس مارشل ایریک گورڈن، ایئر کموڈور محمد ظفر، ایئر کموڈور نجیب احمد خان،ایئر کموڈور وقار احمد، گروپ کیپٹن افتخار احمد،گروپ کیپٹن صلاح الدین، گروپ کیپٹن سیسل چودھری،ونگ کمانڈر یوسف خان،ونگ کمانڈر،فلائٹ لیفٹیننٹ ضیاء الدین،سکواڈرن لیڈر محمد اشفاق اور 46 دیگر فضائیہ افسران کو ان کی شجاعت، بہادری اور بہترین جنگی حکمتِ عملی پر تمغے دیے گئے۔ اگر 1965ء کی جنگ کے شہدا کا ذکر کریں تو 1965ء کے معرکے میں سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی،سکواڈرن لیڈر محمد اقبال،سکواڈرن لیڈر علائو الدین، سکواڈرن لیڈر امتیاز بھٹی، سکواڈرن لیڈر منیر دین احمد،فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسین،فلائٹ لیفٹیننٹ سیف اللہ خان،ایل اے سی ایم انور حسین نے جامِ شہادت نوش کیا۔
یکم ستمبر کو بھارتی ایئرفورس کے چار ''ویمپائر طیاروں‘‘ کی فارمیشن اڑی پھر ان سمیت12 طیارے فضا میں ابھرے اور بھارت کے جنرل جوگندر اور جنرل ہربخش کے مطابق‘ انہوں نے بھارتی فورسز پر ہی بمباری کردی۔یوں بھارتی ایئر فورس جنگ کے آغاز پر ہی ذلت اور ہزیمت کا شکار ہوگئی۔سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی نے 2 سے 3 منٹ کے ریکارڈ وقت میں فلائٹ لیفٹیننٹ امتیاز بھٹی کے ساتھ چاروں بھارتی ویمپائرز کو نشانہ بنایا۔سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی سے مجھے بچپن سے انسیت ہے کیونکہ مری میں ہمارے سکول کے قریب لوئر ٹوپہ میں ان کا جہاز نصب تھا‘ جہاں ان کے جنگی معرکے کی تفصیل بھی لکھی تھی کہ کیسے انہوں نے 1965ء میں بھارتی فضائیہ کو دھول چٹاتے ہوئے تاریخ رقم کی اور بعدازاں جامِ شہادت نوش کیا۔اپنے پہلے معرکے میں انہوں نے چاروں بھارتی ویمپائر جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے سبب پاک فوج کے زمینی دستوں کو اخنور سیکٹر کی طرف پیش قدمی میں سہولت ہوئی۔ تین جہاز مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور ایک کو شدید نقصان ہوا۔اخنور سے جوڑیاں مقبوضہ کشمیر کا داخلی راستہ تھا۔پاک فضائیہ نے اس راستے کو پاک آرمی کے لیے محفوظ بنانے میں فضائی مدد فراہم کی۔6 ستمبر کی صبح ہلواڑہ ایئر بیس پر حملے کے دوران سرفراز احمد رفیقی کے جہاز میں فنی خرابی ہوئی اور وہ فارمیشن میں پیچھے ہوئے تواسی اثنا میں ایک بھارتی ہنٹر نے ان کے جہاز کو نشانہ بنایا اور انہوں نے جام شہادت نوش کر لیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں ہلالِ جرأت اور ستارۂ جرأت سے نوازا۔گروپ کیپٹن سیسل چودھری نے اسی وقت اُس بھارتی جہاز کو مار گرایا اور بدلہ لے لیا۔سیسل چودھری نے امرتسر میں بھی بھارت کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اللہ درانی‘ جو بعد میں پاک فضائیہ کے سربراہ بھی بنے‘ نے فضا میں ایک بھارتی طیارہ دیکھا تو اس طیارے کو پسرور اترنے پر مجبور کر دیا۔بھارت کے فلائٹ لیفٹیننٹ برج پال سنگھ کو جنگی قیدی بنالیا گیا۔یہ بھارتی طیارہ اس وقت کراچی کے میوزیم میں وار ٹرافی کے طور پرموجود ہے۔ایئر چیف مارشل حکیم اللہ خان ماشاء اللہ حیات ہیں اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔
اگر غازی ایم ایم عالم کا ذکر کریں تو وہ 1965ء میں انہوں نے وہ عالمی فضائی ریکارڈ قائم کیا جس کو آج تک کوئی توڑ نہیں پایا۔انہوں نے بھارت کے کل 9طیاروں کو مارگرایا جبکہ ایک منٹ میں 5 طیارے مار گرانے کا ریکارڈ الگ ہے۔ایم ایم عالم نے پوری فارمیشن کوٹارگٹ کیا۔ 6 ستمبر کو پاک فضائیہ نے پٹھانکوٹ، جام نگر، آدم پور، ہلواڑہ، کلائی کنڈا اور باغ دوگرا پر کامیاب حملے کرکے اہدا ف حاصل کیے۔7 ستمبر کو بھارتی ایئر فورس نے 33 حملے کیے لیکن وہ شاہینوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔1965ء کی جنگ میں ایئر چیف، پائلٹس انجینئرز اور دیگر زمینی عملے نے مل کر شب و روز کام کیا اورملک کا نہ صرف کامیاب دفاع کیا بلکہ دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ تقسیم کے وقت یہ بے ایمانی کی گئی تھی کہ فوج اور ایئر فورس کو اس کا پورا سامان نہیں دیا گیا تھا لیکن کم وسائل کے باوجود بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ اس جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی بھارت کے 35 جہاز تباہ ہوگئے تھے۔پاک فضائیہ نے بھارت کے کل 110 طیارے مارگرائے۔ ہر سال 7 ستمبر کو یوم فضائیہ ان شہدا اور غازیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر ملک وقوم کا دفاع کیا اور بھارت کے لاہور اور سیالکوٹ پر قبضے کے خواب کو خاک میں ملا دیا۔شہیدسرفراز احمد رفیقی اور یونس حسین شہید جیسے جانباز پائلٹس کے جسدِ خاکی بھی بھارت نے واپس نہیں کیے اور وہ بھارت میں ہی مدفون ہیں۔شاہینوں کا جذبہ اب بھی تازہ دم ہے اور اس کی ایک جھلک ہم فروری 2019ء میں دیکھ بھی چکے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved