تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     09-09-2021

مسلم ممالک، افغانستان اور کشمیر!

کرۂ ارض پر پھیلی 50 سے زائد مسلم ریاستوں کی آواز میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ امریکا، یورپ اور آسٹریلیا جیسے خطوں کی طرح پوری دنیا میں اپنی طاقت اور اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انڈو نیشیاسے ملحقہ مشرقی تیمور کے عیسائیوں کی طرح‘ کشمیریوں کے حق میں اس طرح آواز اٹھائیں اور اپنے اثر و رسوخ کو اس طرح بروئے کار لائیں کہ بھارت کے جبری قبضے میں سسکتے ہوئے کشمیر یوں کے آزادی کے حق کو دنیا ایک حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے؟یہ ستاون مسلم ریاستیں اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہو کر بھارتی آرمی کی پیلٹ گنوں سے زندگی بھر کیلئے نابینا ہو جانے والے ڈیڑھ سو سے زائد بچے اور بچیوں کی تصویریں پکڑ کر یہ کہتے ہوئے کھڑی ہوجائیں کہ کوئی بھی ملک‘ جو عسکری طاقت سے نوجوانوں‘ بچوں کے چہروں کا نشانہ لے کر ان پر پیلٹ گنوں سے فائر کا حکم دیتا ہے‘ اسے اس مہذب فورم میں نہ صرف بیٹھنے کا حق حاصل نہیں بلکہ اسے دنیا میں کہیں بھی تجارت کرنے اور کسی عالمی فورم پر نمائندگی کا حق بھی نہیں ملنا چاہئے‘ توشاید کشمیر کا مسئلہ‘ جو گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے عالمی فورمز کے سرد خانوں کی زینت بنا ہوا ہے‘ ایک بار پھر لائم لائٹ میں آ جائے اور دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کہ اس مسئلے کو حل کیے بغیر پوری دنیا‘ بالخصوص جنوبی ایشیا کے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ قوموں کو انصاف اور میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ معصوم بچوں کی بینائی چھیننے کی نیت سے سیدھے فائر کرنے والے ممالک کو FATF کی چارج شیٹ کی جانے والی ریا ستوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا جانا چاہئے۔
افغانستان‘ سوویت یونین کے بعد امریکا سمیت نیٹو اور ایساف کی فوجوں نے جس پر بیس برس تک قبضہ کئے رکھا اورجسے افغان طالبان نے پچاس ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دے کر آزاد کرایا ہے‘ پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ طالبان کی پشت پر ان کا جذبۂ ایمانی تھا جبکہ ان کے مقابل دنیا کی ہر طاقت نبرد آزمارہی لیکن طالبان نے ہر طاقت کو ہزیمت زدہ شکست کھا کر افغانستان سے واپس جانے پر مجبو رکر دیا۔ یہی کچھ کشمیری مسلمان بھارت کے جبر و استبداد کا مقابلہ کرتے ہوئے چلے آ رہے ہیں لیکن باقی دنیا تو درکنار‘ مسلم ممالک میں سے چند ہی مظلوم کشمیریوں کیلئے آواز اٹھاتے ہیں۔ بد قسمتی کہہ لیجئے کہ آج تک بعض ممالک کو مسلمانوں کے حقوق اور مفاد کے بجائے ہمیشہ طا غوتی طاقتوں کے مفاد کیلئے استعمال ہوتے ہی دیکھا ہے۔ اگر کسی ملک نے کشمیری، فلسطینی اور دوسرے چھوٹے چھوٹے غریب ممالک پر ظلم کرنے والے بھارت میں اپنی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے تو اسے اپنی تجارت اور اپنے معاشی تعلقات زیادہ عزیز ہیں۔ بھارت کا حقیقی چہرہ اور اس کے مظالم دیکھ لینے کے بعد بھی ان کا مفاد دنیا کے مظلوم مسلمانوں سے زیا دہ مقدم ہے۔ اگر دنیا کو فلسطین کی ہزاروں‘ لاکھوں بیٹیوں اور 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں کی چیخوں اور آہ و بکا کو سننا گوارا نہیں تو پھر پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے کوئی دوسرا دروازہ ڈھونڈ لے۔ ایسا دروازہ جو کشمیری مائوں‘ بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کا نگہبان بن کر سوچے‘ ان کو دیکھ کر کنی نہ کترائے بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے۔ بہت ہو چکا! اب افغانوں کی طرح‘ مظلوم کشمیریوں کو بھی اپنی مرضی سے گھروں سے نکلنے کی آزادی دینا ہو گی، ان پر جبر و قہر کے قوانین کا خاتمہ کرنا ہو گا، ان سے پوچھنا ہو گا کہ وہ کس طرح کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ80 لاکھ کی تعداد میں کوئی بھیڑ بکریاں نہیں بلکہ جیتے جاگتے‘ سانس لیتے انسان ہیں‘ اتنے ہی مقدم جتنے امریکا اور یورپ میں رہنے والے۔ جو اقوام متحدہ کی قرا ردادوں اور اس کے وضع کردہ قوانین کے تحت اپنی قسمت کا فیصلہ اسی طرح کرنا چاہتے ہیں جیسے مشرقی تیمور کیلئے کرایا گیا تھا۔ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور بنانے کیلئے چند ماہ کی کوششیں کافی تھیں مگر کشمیریوں کیلئے73 سال کی جدو جہد بھی کسی کھاتے میں نہیں ؟کیاجنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کے لوگوں کے حقوق مظلوم کشمیریوں کے حقوق سے زیادہ ہیں؟
دنیا بالخصوص مسلم ممالک اگر80 لاکھ کشمیریوں کو بھارتی فوج کے ظلم و ستم سے نہیں بچا سکتے‘ کشمیری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی آئے روز ہونے والی آبرو ریزی اور ان کے بھائیوں اور بیٹوں کو ٹارچر سیلوں کا ایندھن بننے سے نہیں روک سکتے‘ اگر مظلوم اور محبوس کشمیریوں کے مقابلے میں ان ممالک کو بھارت زیا دہ عزیز ہے تو پھر پاکستان‘ جس نے کشمیریوں کیلئے کٹ مرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے‘ کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے کوئی اور دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا۔پاکستان نے تو مظلوم کشمیریوں کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی ہے لیکن جب ہمارا کوئی دوست ملک ان کشمیری بھائیوں کو ٹارچر سیلوں کا ایندھن بنانے والوں کا ساتھ دیتا ہے تو شدید دکھ ہو تا ہے‘ بے حد تکلیف پہنچتی ہے۔ ہمارے ملک کا معاشی طور پر کمزور ہونا اور عالمی ساہوکاروں کے قرض کے چنگل میں پھنسے ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم نے اپنی عزت اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتا کر لیا ہے۔ دنیا میں کون سا ایسا ملک ہے جو اپنے اخراجات پورے کرنے اور بڑے منصوبوں کیلئے دوسرے ممالک یا عالمی مالیاتی اداروں کی امداد کا محتاج نہیں ہے؟ کیا ایسے تمام ممالک ہر وقت عالمی برادری میں گردنیں جھکائے کھڑے رہتے ہیں؟
کسی اور سے کیا شکوہ‘ طاقتوروں کے ایما پر‘ کچھ حضرات نے لگ بھگ چھ ماہ سے ٹی وی چینلز پر کچھ مخصوص لوگوں کو بٹھا کر ایک ہی گردان جاری رکھی ہوئی ہے کہ کچھ برادر ممالک کی ناراضی کے بعد اب اس حکومت کا اقتدار میں رہنا مشکل ہو چکا ہے، اس حکومت کو مسئلہ کشمیر پر اس کا سخت موقف اور نئی خارجہ پالیسی ناکوں چنے چبوا دے گی۔ نام نہاد تجزیہ کاروں کے پروگرام دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کو شاید ایجنڈا ہی یہ دیا گیا ہے کہ اس قوم کو خوف زدہ کر کے اس کا مورال تباہ کر دو، ان کے دلوں میں بھارت اور خلیجی ریاستوں کی طاقت اوردولت کا اس قدر خوف پید اکر دو کہ اُن کی مرضی ا ور منشا کے بغیر پاکستان اور اس کی عوام کچھ اور سوچنے کی ہمت ہی نہ کر سکیں۔
گزشتہ سال جون کے آخر میں جب تیل کی قیمت یکدم 25 روپے بڑھائی گئی تو سب نے آسمان سر پر اٹھا کر تحریک انصاف حکومت کو کوسنا شروع کر دیا لیکن کسی نے یہ نہ سوچا کہ3.2 بلین ڈالر کا جو تیل چند ماہ کے ادھار پر مل رہا تھا‘ اسے ماہِ مئی سے بند کر دیا گیا تھااور ساتھ ہی ادھار پر تیل کی سہولت بھی کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کی ضد پر ختم کر دی گئی تھی۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں‘ جو کورونا کے باعث کم ہوئی تھیں‘ 112فیصد تک بڑھ گئی تھیں مگر زمینی حقائق سے قطع نظر سب کی توپوں کا رخ حکومت کی طرف تھا۔ اِس وقت سوشل میڈیاطالبان کی تعریفوں اور بہادری کے ڈنکے بجا رہا ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اپنی آزادی برقرار رکھنے کیلئے کہیں ٹوٹی پھوٹی چپلیں تھیں تو کہیں ننگے پائوں تھے، کہیں ہاتھوں میں سوکھی روٹیاں تھیں تو کہیں گدلا پانی تھا، کہیں سنگلاخ اور پتھریلے پہاڑ تھے تو کہیں تپتے ہوئے ریگستان تھے۔ قومی وقار اور آزادی کا ثمر ایئر کنڈیشنڈ کمروں، قیمتی برانڈز کے لباس اور جوتوں سے نہیں، غیر ملکی فاسٹ فوڈز اور نت نئے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کھائے جانے والے کھانوں سے نہیں بلکہ پیٹ پر پتھر باندھ کر لڑنے والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔
آج امریکا اور یورپ کی طرف سے ہم پر سی پیک کے حوالے سے دبائو ڈالا جا رہا ہے، ہم ملک کے اس مستقبل سے‘ گوادر پورٹ منصوبہ بھی جس کا حصہ ہے‘ کس طرح الگ ہونے کا سوچ سکتے ہیں؟ یاد رکھنا ہو گا کہ آج سے چار دہائیاں قبل‘ بھارت جیسے دشمن کی دھمکیوں کے باوجود جس طرح ایٹمی پروگرام پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال بن چکا تھا‘ اسی طرح اب سی پیک بھی ہمارے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ چاہے کتنا ہی بڑا کوئی ملک ہو‘ اس کے پاس جتنی بھی دولت اور تیل کا خزانہ ہو‘ پاک چین دوستی اور دونوں ممالک کے گرم جوش تعلقات کے فروغ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved