تحریر : بیرسٹر حمید باشانی تاریخ اشاعت     15-09-2021

گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ میں کیا ہوا؟

گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے شدت پسندی خلاف ایک طویل اور خوفناک جنگ لڑی۔ اس جنگ میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، اور بے تحاشا وسائل کا استعمال بھی کیا گیا۔ اس جنگ پر جو بے حساب مالی وسائل خرچ ہوئے اگر ان وسائل کا نصف بھی انسانی ترقی اور بھلائی کے لیے استعمال کیا جاتا تو پوری دنیا سے غربت کا نام و نشان مٹایا جا سکتا تھا۔ اس جنگ میں کچھ کامیابیاں بھی ہوئیں‘ لیکن مجموعی طور پر اس کے وہ نتائج نہ نکل سکے، جن کی توقع پر اس کا آغاز کیا گیا تھا۔ پوری دنیا تو ایک طرف خود امریکہ کے اندر شدت پسندی کے مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکا، بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکہ میں کچھ لوگ اب بھی شدت پسندی کو ایک بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں‘ لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ اس ملک میں دائیں بازو کی شدت پسندی نے زیادہ ترقی کی ہے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں جوانا والٹرز اور ایلون چنگ کا ایک آرٹیکل شائع ہوا۔ اس آرٹیکل میں ان لکھاریوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکہ میں دائیں بازو کی شدت پسندی‘ کسی بھی اور طرح کی شدت پسندی سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
مصنفین نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کے وقت اکیسویں صدی کی امریکی تاریخ کے دو بد ترین واقعات پیش آئے۔ پہلا واقعہ شارلٹس ویل میں انتہائی دائیں بازو کا جلوس تھا، جو دو ہزار سترہ میں نکالا گیا تھا‘ اور دوسرا بد ترین واقعہ دو ہزار اکیس میں پیش آیا، جب ٹرمپ کے شدت پسند حامیوں نے انتخابات کے نتائج کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکی دارالحکومت پر ہلا بول دیا تھا۔ دائیں بازو والے ان واقعات کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس قسم کی دہشت گردی نہ صرف منظم اور مورچہ بند ہے، بلکہ یہ تیزی سے پھیل کر امریکہ کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی رسک بھی بن سکتی ہے۔
گیارہ ستمبر کے بعد ان بیس برسوں کے دوران دیگر شدت پسندوں نے امریکہ میں اتنے لوگ نہیں مارے، جتنے دائیں بازو کے شدت پسندوں نے مارے ہیں۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت داخلی شدت پسندی اور دوسری نوعیت کی دہشت پسندی کو دو مختلف طریقوں سے ڈیل کر رہی ہے۔
اس سال کے شروع میں ایک خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ امریکہ کے اندر نسل پرستی پر مبنی شدت پسندی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ سمندر پار اور عالمی دہشت گردی کے خطرے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس خطرے کو وائٹ ہائوس نے بھی تسلیم کیا، اور اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی شائع کی تھی۔ اس سلسلے میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ویری نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ چھ جنوری کا واقعہ ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ داخلی دہشت گردی کا مسئلہ ہے، جو کئی سالوں سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ویری نے کہا تھاکہ سفید فام نسل پرست داخلی دہشت پسندوں کے پورٹ فیلو کا ایک بڑا حصہ ہیں‘ اور یہ لوگ گزشتہ ایک عشرے کے دوران کئی جان لیوا حملوں کے ذمہ دار رہے ہیں‘ لیکن امریکہ کے اندر اس خطرے سے خبردار کرنے کا عمل کم سے کم رہا ہے۔ زیادہ زور پہلے القاعدہ اور پھر داعش پر دیا جاتا رہا ہے، جو یا تو دہشت گرد باہر سے لاتے تھے، یا ان کو داخلی سطح پر تیار کیا جاتا تھا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں نے داخلی سفید فام دہشت پسندی کو یا تو غلط سمجھا یا اس کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی‘ اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد تفتیش اور تعاقب کرنے کا زور مسلمانوں اور تارکینِ وطن پر مرکوز رہا، جن کو اس دور میں سکیورٹی کے لیے خطرے کی عینک سے دیکھا جاتا رہا حالانکہ گیارہ ستمبر سے بہت پہلے بد ترین حملہ مقامی دہشت پسند ٹیموتھی نے کیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سفید فام دہشت پسندی کا خطرہ ہر وقت موجود تھا، اور اب بھی بڑھ رہا ہے۔
اس صورتحال کا کئی ایک سرکاری اور غیر سرکاری ماہرین نے مطالعہ کیا ہے، اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ملک میں نظریاتی شدت پسندی کی بنیاد پر دہشت پسندی کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے ایک تھنک ٹینک نے گیارہ ستمبر کے بعد پیش آنے والے دو سو اکاون واقعات کا تجزیہ کیا، جن کے ذمہ دار مقامی دہشت گرد تھے جبکہ دہشت پسند عناصر نے صرف چودہ حملے کیے، جن میں ایک سو سات افراد مارے گئے۔ نیو امریکہ نامی تھنک ٹینک کا خیال ہے کہ دائیں بازو کا داخلی دہشت پسند، حکومت مخالف ملیشیا اور سفید نسل پرست تحریکوں پر مشتمل ہے اور مسلم دہشت پسند وہ قوتیں ہیں، جو ایک گلوبل ریاست قائم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کارروائیوں پر یقین رکھتی ہیں۔ ان پر سمند پار دہشت گردوں کا اثر ضرور ہے، مگر ان کو یہ لوگ تربیت یا مالی امداد نہیں دیتے۔
اس تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر دہشت پسند امریکی شہری یا امریکہ کے مستقل رہائشی ہی رہے ہیں۔ امریکہ کا محکمہ انصاف ایسے لوگوں کے خلاف بہت سخت اقدامات کرتا ہے، جو القاعدہ یا داعش کے نام پر کسی قسم کی کارروائی کے بارے میں سوچتے ہیں‘ لیکن سفید قوم پرستی کی طرف سے بڑھتے ہوئے تشدد پسندی اور طاقت کے استعمال کے خطرے کے باوجود ان کے خلاف سخت اقدامات کے بجائے ان کو معمولی جرائم میں چارج کیا جاتا ہے اور دہشت گردی کی دفعات لگانے کے بجائے ان کو نفرت انگیز جرائم اور گینگز کے ساتھ تعلق جیسے الزامات کے تحت چارج کیا جاتا ہے۔ نیو امریکہ کی اس رپورٹ کے ایک مصنف ڈیوڈ سٹرمین نے لکھا ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں پر اتنی توجہ نہیں دی گئی، جتنی دینا ضروری تھی۔ اس فرق کی وجہ نظام میں موجود نسل پرستی ہے۔ عام آدمی کے ذہن میں دہشت گردی صرف بم پھینکنے، طیارے اغوا کرنے اور وسیع پیمانے پر عوامی ہلاکتوں کا نام ہے۔ عام لوگ نظریاتی بنیادوں پر چلائی گئی گولیوں کو دہشت گردی نہیں کہتے، چونکہ اس کا شکار کم لوگ ہوتے ہیں۔ اوکلاہوما کا واقعہ داخلی دہشت پسندی کو سامنے لایا تھا، لیکن گیارہ ستمبر کے واقعات نے توجہ کا رخ مخصوص دہشت پسندی پر مرکوز کر دیا۔ افغانستان اور عراق جنگوں کے دوران دائیں بازو کی دہشت پسندی کے زیر اثر سات جان لیوا واقعات ہوئے، جن میں دس لوگوں کی اموات ہوئیں، اور گیارہ زخمی ہوئے۔ ان حملوں کی وجوہات میں گیارہ ستمبر کا بدلہ لینا اور سفید فام نسل پرستی شامل تھے‘ جبکہ مقامی دہشت پسندوں کی طرف دو واقعات ہوئے، جن میں تین اموات ہوئیں اور نو لوگ زخمی ہوئے۔ ان واقعات میں اوبامہ دور میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سفید فام قوم پرستی اور حکومت مخالف دہشت پسندی کے نظریات تھے۔ اسی دور میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے امریکی پولیس کو خبردار کیا تھاکہ امریکہ میں دائیں بازو کی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں معاشی بحران، جنگ سے بڑے پیمانے پر فوجیوں کی واپسی، اور امریکہ میں پہلے سیاہ فام صدر کا انتخاب شامل ہیں۔ اس دور میں اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک حکمت عملی طے ہونے کے باوجود عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے انتہائی دائیں بازو کے مختلف گروہوں کی طرف سے کیے گئے دہشت پسندانہ واقعات میں اضافہ ہوا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved