تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     17-09-2021

According to the Book

وزیراعظم کا ایک اور ہنگامی دورہ حکومت کی '' اصلاحاتی ‘‘ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کئی اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی صدارت کی اور انتظامی ڈھانچے کا ایک بار پھر جائزہ لیا گیا۔یہ اور بات ہے کہ انتظامی ڈھانچہ پے درپے ریکارڈتبدیلیوں کے بعد ''ڈھانچہ‘‘ہی بنتا چلا جارہا ہے۔ انتظامی مشینری میں غیر یقینی صورتحال کی لہر وں میں ہچکولے کھانے والے افسران تو رہے ایک طرف کابینہ کے ارکان کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات بھی تاحال جواب سے محروم ہیں۔وزرا کی کارکردگی سے لے کردیگر انتظامی معاملات تک کہیں پوشیدہ ہیں تو کہیں منہ چھپائے پھرتے ہیں۔کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات نے وزیروں اور مشیروں سے لے کرپورے انتظامی ڈھانچے کی بھی قلعی کھول دی ہے۔ بریفنگ اور ڈی بریفنگ کی بنیاد پر چلنے والی یہ سرکارتین برسوں میں ریفارمز کے بجائے ڈیفارمز کا پہاڑ دکھائی دیتی ہے۔
کنٹونمنٹ بورڈ کے ووٹرز نے کھلا پیغام دے ڈالا ہے کہ سرکار کا انتظامی ڈھانچہ عوام کو ہر سو ''ڈھانچہ‘‘ہی دکھائی دیتا ہے۔ ان انتخابات میں حکومت کے لیے مایوس کن اور فکر مندی کے باعث نتائج پر دانشوری بھگارنے والے ہوں یا اس کی توجیہات اور جواز پیش کرنے والے‘ سبھی کو خبر ہونی چاہئے کہ حکومت کے دھرنوں اور شعلہ بیانیوں سے متاثر ہوکر مائل ہونے والے ووٹرز اس طرزِ حکمرانی کی تاب نہ لاتے ہوئے نئے پاکستان سے مایوس ہو کر پرانے پاکستان کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ نون لیگ کی شاندار کامیابی اور کارکردگی پر شادیانے بجانے والوں کو بھی خبر ہو کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابی معرکے میں نون لیگ کا کوئی خاص کمال نہیں بلکہ ان کے آدھے سے زیادہ کام تو تحریک انصاف کا طرزِ حکمرانی اور انتظامی ڈھانچہ ہی کرگیا ہے۔ گویاحکومتی پالیسیاں اور کارکردگی دونوں نون لیگ کیلئے غنیمت ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ جس مینڈیٹ نے 2018ء کے انتخابات میں ووٹ کا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالا تھا وہ وزن مینڈیٹ دینے والے عوام پر ایسا بھاری پڑا ہے کہ سبھی اوندھے منہ پڑے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ نون لیگ کا ووٹ تحریک انصاف کے پلڑے سے جس تیزی سے سرک رہا ہے اس کے واضح اشارے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابی نتائج میں حکومتی بیانیوں اور دعووں کا منہ چڑا رہے ہیں۔
دور کی کوڑی لانے والے تو کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا حالیہ دورہ لاہور بھی پہلے جیسا ہی تھا۔ اس بار بھی وہ خطرے کا نیا نشان لگا کر چلے گئے۔ گویا عوام کو اسی گورننس پر گزارہ کرنا پڑے گا۔ گورننس سے یاد آیا کہ ایک برس قبل وزیر اعلیٰ نے صوبے میں مثالی گورننس قائم کرنے کیلئے ''گڈ گورننس کونسل‘‘ تشکیل دے کر خود کو اُس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ یہ اقدام باعثِ تعجب اس لیے تھا کہ انہیں گورننس کونسل کی تشکیل کی ضرورت کیوں آن پڑی جبکہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو نہ صرف انتظامی سربراہ ہوتا ہے بلکہ گورننس کی براہ راست ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ سال بھر میں اس کونسل نے گڈ گورننس کو ایسے چار چاند لگائے ہیں کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔
امن و امان سے لے کر مہنگائی کے جن کی دھمال تک ‘شرمسار گورننس سے لے کر تارتار میرٹ تک‘سماجی انصاف سے لے کر قوانین اور ضابطوں تک‘اخلاقی قدروں سے لے کر احساس ِذمہ داری تک ‘زبان و بیان کی بے حرمتی سے لے کرقول و فعل کے تضاد تک‘ قوت ِخرید کوحالتِ نزع سے دوچار کرنے سے لے کر جھوٹی تسلیوں اورجھانسوں تک کس کس کا رونا روئیں۔ عوام کو ان حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بعد ہمارے حکمران کس قدر اطمینان سے ان زمینی حقائق کو جھٹلانے کے لیے کیسی کیسی توجیہات اور منطقیں گھڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ الفاظ کا گورکھ دھندا کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتے کہ عوام کی حالتِ زار اور ان کے بیانیے تضادات سے کس قدر اَٹے پڑے ہیں۔ خدا جانے کس بوتے پر اور کن اعدادو شمار پر عوام کو بہلائے چلے جارہے ہیں۔پہلے سے قیمتوں کی آگ میں جھلستے ہوئے عوام پر پٹرول بم گرا کر بھی کس قدر نازاں اور شاداں ہیں۔بدترین حالات سے دوچار عوام اور حکمرانوں کی طمانیت دیکھتے ہوئے صورتحال کی عکاسی کیلئے بطور استعارہ ایک لطیفہ پیش خدمت ہے کہ بیرون ملک گئے ہوئے کرم داد نامی ایک صاحب نے اپنے ہمسائے کو فون کرکے اپنے گھر کے حالات دریافت کیے۔ہمسایہ بولا:سب خیریت ہے بس آپ کا کتا مرگیا ہے۔ کرم داد بولا: مگرکیسے؟ ہمسایے نے جواب دیا : آپ کے مرے ہوئے گھوڑے کا گوشت کھاکر وہ آخر کتنے دن زندہ رہ سکتا تھا؟ کرم داد نے پوچھا: گھوڑا کیسے مرا؟ ہمسایہ: بھوک سے مرگیا جناب۔ کرم داد: مگر میں نے چند دن پہلے پیسے بھجوائے تو تھے۔ ہمسایہ: وہ تو آپ کی والدہ کے کفن دفن پر کرچ ہو گئے۔ کرم داد انتہائی دکھ سے بولا: تو کیا والدہ کا انتقال ہو گیا؟ ہمسایہ:جی ہاں! وہ پوتے کا غم برداشت نہ کرسکیں۔ کرم داد: اُف! خدایا‘ تو کیا میرا بچہ بھی مرگیا؟ ہمسایہ:جی ہاں! وہ ماں کے بغیر بھلا کیسے زندہ رہ سکتا تھا؟ کرم داد غم سے نڈھال بمشکل بولا: میری بیوی بھی؟ ہمسایہ: جناب گھر کی چھت سے گری تھیں۔ اتنی بلندی سے گر کر کوئی کیسے بچ سکتا ہے‘ باقی سب خیریت ہے۔
کون سے انڈیکس ہیں‘کونسی علامات ہیں‘ کون سے اشاریے ہیں‘کونسے اقدامات ہیں‘کونسی راکٹ سائنس ہے جس کی بنیاد پر تین برسوں سے عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکی جا رہی ہے۔ان کی نیت سے لیکر ارادوں تک ‘دلفریب وعدوں سے لیکر شعلہ بیانیوں تک سبھی کا رنگ اترتا چلاجا رہا ہے۔یادرہے! عوام پر یہ رنگ تحریکِ انصاف کی طویل سیاسی جدوجہد سے لیکر 126دن کے طویل ترین دھرنے کے دوران شعلہ بیانیوں اور ان سنہرے خوابوں نے چڑھایا تھا جو عوام کو دکھائے جاتے رہے۔خواب دیکھنے والی آنکھیں نہ صرف سونا بھول گئی ہیں بلکہ پتھرا گئی ہیں۔ کون جانتا تھا کہ ان خوابوں کی تعبیر اتنی بھیانک اور کربناک ہوگی کہ اکثر عوام کے حالات رات کی بے چینی اور دن کی رسوائی بن چکے ہیں۔حالات کا ماتم اس قدر طویل ہوتا چلاجارہا ہے کہ نہ صرف الفاظ کا قحط پڑتا چلاجارہا ہے بلکہ اکثر الفاظ تو حالات کی سنگینی اور شدت کی ترجمانی سے ہی قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ بات چل رہی تھی انتظامی ڈھانچے کی‘ جہاں تقرریوں و تبادلوں سے مفادات اور ہوسِ زر کی بو آئے وہاں کیسی گورننس اور کہاں کا میرٹ؟ اکثر محسوس ہوتا ہے کہ گورننس ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔بس افسران کی باریاں لگائے چلے جائو۔کارکردگی کا جائزہ لینے والوں کی اپنی کارکردگی کہیں ڈھونڈے نہ ملے تو تبادلوں کے ریکارڈ کیوں بنائے جارہے ہیں؟
چلتے چلتے نئے آئی جی پنجاب رائو سردار کے چند اقدامات کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔ عوام کی عزتِ نفس کے تحفظ کیلئے یہ بڑا اقدام ہے کہ غیر قانونی ناکوں پر پابندی لگا دی گئی۔بلاجواز اور محض کارروائی ڈالنے کیلئے ناکے لگاکر عوام کی عزت اور مال پر جس طرح قانون کے رکھوالے ہاتھ صاف کرتے تھے الامان والحفیظ۔پٹرولنگ پر مامور اہلکارشتربے مہار کی طرح سرکاری گاڑیوں پر نہ صرف پٹرول پھونکا کرتے بلکہ راہ چلتے شہریوں کی بھی خوب درگت بناتے تھے۔سبھی غیر قانونی روایات کو ممنوع قرار دینے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ سبھی ایسے اقدامات ہیں جو قانون اور ضابطوں سے منسوب کتابوں میں درج ہیں گویا نئے آئی جی According to the Bookپولیسنگ کے قائل اور عمل پیرا ہیں۔ خدا باقی شعبوں کے سربراہان کو بھی According to the Bookچلنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ اور بات ہے کہ ہمارے حکمران اور سرکاری بابوئوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ سبھی معاملات According to the Bookہی چلاتے تو ہیں لیکن اکثریت نے انتظام و انصرام کیلئے بک خود لکھی ہوتی ہے اور وہ اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق اس میں تبدیلی بھی کرتے رہتے ہیں اسی لیے وہ قانون اور ضابطوں کی کتاب سے پرہیز ہی کرتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved