تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     24-09-2021

جناب تو وہیں کھڑے ہیں

یہ بھی خوب رہی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی حکومت عالمی امن و استحکام اور مشترکہ محفوظ مستقبل یقینی بنانے کے لیے مستعد اور پُرعزم ہے! سپر پاور کے صدر کی یہ بات لطیفے سے کم نہیں۔ ایک دنیا ہے کہ امریکا کے ہاتھوں خرابیوں سے دوچار ہوئی ہے اور ایسی کوئی بھی بات جب سنتی ہے تو سوچتی ہے ع
تو اور خیالِ خاطرِ اہلِ وفا کرے
امید تو نہیں ہے مگر ہاں! خدا کرے
کیا واقعی امریکا عالمی امن و استحکام یقینی بنانے کا خواہاں ہے؟ کوئی کتنی قسمیں کھائے‘ یقین مشکل ہی سے آئے گا۔ یقین آئے بھی تو کیسے؟ ایک آدھ نسل کا معاملہ ہو تو کوئی بات بھی ہے، یہاں تو چار پانچ نسلیں امریکا کے ہاتھوں صرف اور صرف خرابیوں کا بازار گرم ہوتا دیکھتی آئی ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی یقین دہانی، کوئی بھی وعدہ اس قابل معلوم نہیں ہوتا کہ اس پر اعتبار کیا جائے۔ ایک صدی کے دوران امریکا نے یورپ کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا‘ اسے دیکھتے ہوئے اب اس کی کسی یقین دہانی پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
صدر بائیڈن نے عالمی برادری کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ امریکا ایک اور سرد جنگ نہیں چاہتا‘ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ کہنے کو تو یہ بہت اچھی بات ہے اور دنیا ہے کہ ایک زمانے سے یہی چاہتی ہے مگر امریکا نے کب یہ بات مانی ہے۔ وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہوکر اپنی منوانے پر تُلا رہا۔ یورپ نے کم و بیش پون صدی تک امریکا کا ساتھ دیا۔ اس دوران جو کچھ بھی اچھا یا برا ہوا‘ اس میں یورپ برابر کا حصہ دار و ذمہ دار ہے۔
سوویت یونین کی تحلیل اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا نے یہی دیکھا کہ امریکا ہر اُس ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے بے تاب رہتا جو کمزور ہو اور جس کا کوئی بڑا حمایتی منظرِ عام پر نہ ہو۔ اس معاملے میں اُس کی ترجیح مسلم ممالک رہے جن کے خلاف عالمی سطح پر محاذ کھڑا کیا گیا۔ اب بھی ایک طرف مسلم ممالک کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور جب ان ممالک کے لوگ مزاحمت کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے ساتھ ساتھ دین اسلام کو بھی نشانے پر رکھ لیا جاتا ہے۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں امریکا نے یورپ کے ساتھ مل کر یہی گھناؤنا کھیل کھیلا اور اس کے نتیجے میں یہ تمام ممالک تباہی سے دوچار ہوئے۔ لیبیا اچھا خاصا خوش حال ملک تھا مگر وہاں خانہ جنگی کے ذریعے تباہی کی راہ ہموار کی گئی۔
جو بائیڈن ایک طرف تو عالمی امن و استحکام یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں تو دوسری طرف اُن کا کہنا ہے کہ امریکا بہت سوچ سمجھ کر اب صرف ایسی فوجی کارروائیاں کرے گا جن میں مقاصد کا حصول یقینی ہو یعنی جہاں خطرہ محسوس ہوگا وہاں وہ کچھ نہیں کرے گا اور جہاں مزاحمت کی گنجائش نہیں پائی جاتی ہوگی‘ وہاں جی بھرکے طاقت کا مظاہرہ کرے گا، مزید خرابیوں کی راہ ہموار کرے گا۔ افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی افواج کا جو حشر ہوا‘ اسے دیکھتے ہوئے امریکی صدر کو کہنا چاہیے تھا کہ اب کسی بھی ایسی جگہ عسکری مہم جوئی سے گریز کیا جائے گا جہاں ٹھیک ٹھاک کُٹ لگ سکتی ہو! کوئی یہ نہ سمجھے کہ عالمی قائد کے منصب سے محرومی کے لیے امریکا تیار ہے۔ صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ امریکا عالمی قائد کا مقام برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ امریکا جہاں تہاں پیر پسارنے کی پالیسی ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بُری عادت آسانی سے جاتی بھی کہاں ہے؟ پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کی خواہش کسی نہ کسی شکل میں پوری کرنے کی کوشش امریکا نے کبھی ترک نہیں کی۔ جو کچھ ہاتھ نہیں آ پاتا‘ اُسے وہ تباہ کرنے پر تُل جاتا ہے یعنی میرا نہیں تو پھر کسی کا بھی نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے پر بھرپور توجہ دی جاتی رہے گی؛ اتحادی یعنی یورپ۔ دیگر کسی بھی خطے کی امریکا کے لیے کچھ وقعت تھی‘ نہ ہے۔ یورپ سے ہٹ کر کئی ممالک نے کھل کر امریکا کا ساتھ دیا مگر ان کے ہاتھ صرف رسوائی آئی۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے (اوشیانا یا ایشیا پیسفک) میں نئے چیلنجز کا اتحادیوں سے مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ نئے چیلنجز کیا ہوسکتے ہیں؟ چین کی بڑھتی ہوئی قوت‘ اور کیا؟ امریکا کو اس وقت چین سے زیادہ کسی سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ اضافی مشکل یہ ہے کہ چین نے روس کو بھی ساتھ ملا لیا ہے۔ یوریشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں چین اور روس مل کر چل رہے ہیں۔ افریقہ کے معاملات میں چین کے لیے روس کی طرف سے کوئی الجھن ہے نہ خطرہ۔ ایسے میں امریکی قیادت کا پریشان ہونا تو بنتا ہے۔ ایک طرف امریکا بحیرۂ جنوبی چین تک گھس کر چین کے لیے الجھنیں پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور دوسری طرف اُس کی ضد ہے کہ چین دوسرے خطوں میں تو کیا، ایشیا میں بھی زیادہ نہ پھیلے۔ اِسے کہتے ہیں چت بھی میری، پٹ بھی میری!
امریکی صدر نے پالیسی بیان سے ملتے جلتے خطاب میں یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی کہ کمزور ممالک پر غلبہ پانے سے متعلق طاقتور ممالک کی کوششوں کی مخالفت کی جائے گی یعنی چور چوری بھی کر رہا ہے اور چور چور کا شور بھی مچارہا ہے۔ آج تک کمزور ممالک کو دبوچنے کا عمل اگر ہوا ہے تو محض امریکا اور یورپ کی طرف سے ۔ دوسری کوئی طاقت تو ایسا کرنے کا سوچتی بھی نہیں۔ چین نے کسی بھی ملک میں گھس کر تباہی نہیں مچائی۔ روس نے بھی اب تک اپنے خطے سے باہر کچھ ایسا ویسا کرنے سے گریز کیا ہے۔ مغرب دنیا کو نئی تہذیب دینے بلکہ سکھانے کا دعویدار بھی ہے اور انتہائی نوعیت کی بے ضمیری کا مظاہرہ کرنے سے مجتنب بھی نہیں رہتا۔ صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا اُس کا ماحصل یہ ہے کہ پرنالہ وہیں گرتا رہے گا‘ جہاں گرتا آیا ہے، امریکا اپنی پالیسیوں میں کوئی بھی ایسی تبدیلی نہیں لائے گا جو دنیا دیکھنا چاہتی ہے۔ حد یہ ہے کہ اب یورپ بھی اپنی راہیں الگ کرکے امریکا کی لایعنی عسکری مہم جوئی سے خود کو دور رکھنا چاہتا ہے۔
دنیا کو ایک ایسا امریکا درکار ہے جو اب تک کی وارداتوں اور اُن کے منطقی نتائج سے کچھ سبق سیکھے، ضمیر کی خلش محسوس کرتے ہوئے اُن تمام ممالک اور خطوں کی مدد کرے جن کے نصیب میں خود اُس نے بربادی لکھی۔ امریکا نے جو خرابیاں پیدا کی ہیں انہوں نے عالمی امن کو داؤ پر لگایا۔ آج دنیا بھر میں جو پسماندگی اور معاشی ابتری پائی جاتی ہے اُس کی حقیقی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔ امریکا پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے بگاڑ کو دور کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے۔ صدر بائیڈن کے خطاب سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اب تک امریکی پالیسیوں میں حقیقی اور بنیادی تبدیلیوں کی راہ ہموار نہیں ہوئی۔ افغانستان سے بھونڈے انداز کے انخلا پر تنقید کا نشانہ بننے پر بھی امریکا کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ صدر بائیڈن اور اُن کے رفقا امریکا کو عالمی سیاست میں واپس لانے کے نام پر کوئی نیا محاذ کھولنا چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا سے ہٹاکر توجہ اب ایشیا و بحرالکاہل کے خطے پر دی جارہی ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ چین کو ڈرایا جائے تاکہ وہ عالمی سیاست و معیشت میں وسیع تر کردار کے حصول کی اپنی کوشش سے باز آجائے۔ دنیا سمجھ رہی تھی کہ امریکا کو ہوش آچکا ہوگا مگر صدر بائیڈن نے جتادیا کہ جناب تو وہیں کھڑے ہیں اور کچھ سیکھنے، اصلاحِ نفس یقینی بنانے کے لیے تیار نہیں۔ حالات کی چکی میں پسنے والی اقوام سوچ رہی ہیں ع
اب دیکھیے کیا حال ہمارا ہو سحر تک

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved