تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     06-10-2021

کیا قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں؟

کیا پاکستان میں قبل از وقت قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں؟ بظاہر تو ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ قبل از وقت انتخابات کا امکان تو تب ہوتا ہے جب حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے کوئی خطرہ ہو، حکومت کی اتحادی جماعتیں ساتھ چھوڑ چکی ہوں اور اس کے نتیجے میں وزیر اعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے ہوں یا حکومت کو ایسا کوئی مسئلہ درپیش ہو جس کے حل کے لیے نئے انتخابات لازمی ہو جائیں۔ ان میں سے کوئی بھی صورت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان کی مخلوط حکومت کو ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے اکثریتی ارکان کی بدستور حمایت حاصل ہے بلکہ حکومت ایوان بالا (سینیٹ) میں اپوزیشن ارکان کی اکثریت کے باوجود اپنا بل بآسانی منظور کروانے کی پوزیشن میں ہے۔ اپوزیشن نہ تو تحریک عدم اعتماد اور نہ ایجی ٹیشن کے ذریعے حکومت کے لیے کوئی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ حکومت کے دعوے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی اسے مکمل حمایت حاصل ہے‘ البتہ ملک میں مہنگائی، روپے کی گرتی ہوئی قیمت، بے روزگاری اور قومی معیشت کی مجموعی طور پر خراب صورت حال جیسے مسائل حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہیں‘ مگر ان مسائل کا حل نئے انتخابات میں پنہاں نہیں ہے۔ اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود حکومت کے ارکان پُر اعتماد ہیں۔ ان کی طرف سے نئے انتخابات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا‘ بلکہ وہ برملا دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔
اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ ''انتخابات کسی وقت بھی آ سکتے ہیں‘‘۔ پارٹی ورکرز کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارکنان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کریں۔ بعض مبصرین کی رائے میں مسلم لیگ (ن) نے ڈویژنل سطح پر پارٹی ورکرز کے کنونشنز کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، وہ اس کی آئندہ انتخابی مہم کا ایک حصہ ہے‘ کیونکہ مسلم لیگ (ن) کو یقین ہے کہ قومی معیشت کے تیزی سے نیچے جانے کے ساتھ قومی معاملات پر حکومت کی گرفت جس طرح کمزور ہوتی جا رہی ہے اور افغانستان میں طالبان کی کامیابی نے جو غیر متوقع چیلنج پیدا کر دیا ہے اس کے پیش نظر پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کا اپنی پانچ سالہ مدت کا پورا کرنا محال نظر آ رہا ہے۔
پارٹی ورکرز کے کنونشن سے پارٹی کے صدر شہباز شریف اور دیگر سینئر رہنماؤں کے علاوہ پارٹی کے قائد نواز شریف بھی لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق‘ ان کنونشنز میں پارٹی ورکرز نہ صرف بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں بلکہ پورے جوش و خروش کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔
ان کنونشنز سے پارٹی کے سینئر رہنماؤں بشمول قائد نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے خطابات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ فوکس پارٹی ورکرز میں اتحاد کو فروغ دینے پر ہے۔ اس کے لیے قیادت میں پائے جانے والی کنفیوژن کے تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ورکرز کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ پارٹی میں بیانیے کی کوئی جنگ نہیں بلکہ پارٹی کا ایک ہی بیانیہ ہے اور وہ ہے نواز شریف کا۔ اسی کو ثابت کرنے کے لیے دونوں (مفاہمتی اور مزاحمتی گروپس) کی جانب سے ایسی وضاحتیں پیش کی جا رہیں جن کی روشنی میں بیانیے کا فرق معدوم ہو جائے‘ مثلاً راولپنڈی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا مقصد صاف، شفاف اور بیرونی مداخلت سے پاک انتخابات ہیں۔ یہی مطالبہ اعلیٰ عدلیہ سے بھی ہے اور اداروں سے بھی۔ یہی مطالبہ نواز شریف کا ہے۔
کارکنوں کے ذہنوں میں کسی کنفیوژن یا شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں کہا کہ ''ہماری مرکزی قیادت نواز شریف ہی ہیں۔ ان کے حوالے سے ہی ہماری پارٹی سیاست کرتی ہے۔ اس پر دو آرا نہیں ہیں‘‘۔ پارٹی ورکرز کے کنونشنز سے نواز شریف کے خطابات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اس طرف سے بھی موقف کو نرم اور قابل قبول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مثلاً ساہیوال (27 ستمبر) ڈویژن کے پارٹی ورکرز کے تنظیمی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ''قانون اور آئین کی حکمرانی اگر مفاہمت سے ملے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں‘‘۔ مریم نواز کا بھی دعویٰ ہے کہ ''ن‘‘ لیگ کی قیادت کسی کنفیوژن کا شکار نہیں ہے۔ یہ کنفیوژن صرف ہمارے دشمنوں کا پیدا کردہ ہے‘‘ حالانکہ وہ اسی خطاب میں اعتراف کر چکی ہیں کہ پارٹی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس کی اصل طاقت سے نا واقف ہیں بلکہ ایک دوسرے سے خائف گروپس میں منقسم ہیں‘ لیکن نواز شریف کے بیانیے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب آئین اور قانون کی حکمرانی ہے۔ شاہد خاقان عباسی‘ جو اس سے قبل متعدد مواقع پر ٹروتھ کمیشن (Truth Commission) کے قیام کا مطالبہ کر چکے ہیں‘ اب صاف، شفاف، غیر جانب دار اور بیرونی مداخلت سے پاک انتخابات پر اکتفا کرنے پر راضی نظر آتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کا شروع سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ عمران خان نے وزیر اعظم کی کرسی دھاندلی کے ذریعے حاصل کی ہے‘ اگر انتخابات صاف اور شفاف ہوں تو مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں ایک دفعہ پھر اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھر کر مرکزی حکومت بنا سکتی ہے۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے نتائج نے نون لیگ کے اس مؤقف کی تصدیق کر دی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مقتدر حلقوں نے بظاہر ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے مگر حقیقت میں نواز شریف کے بیانیے کو لیگی حلقوں اور عوامی سطح پر مزید پذیرائی حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ''مفاہمتی‘‘ گروپ کو 2023ء میں صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی یقین دہائی کرائی ہے۔ پنجاب کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج اس کا عملی ثبوت ہیں۔ اسی وجہ سے شہباز شریف کی طرف سے فوری اور مڈ ٹرم انتخابات کے مطالبے کے بجائے، ورکرز کو اگلے یعنی 2023ء کے انتخابات کے لیے تیار ہونے کے لیے پر کہا جا رہا ہے۔
حکومت پر بھی مڈ ٹرم انتخابات کے لیے کسی طرف سے بھی کوئی دباؤ نہیں ہے اور برطانیہ کے اخبار ''فنانشل ٹائمز‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔ ان زمینی حقائق کی روشنی میں ملک میں قیادت کی تبدیلی کے لیے قبل از وقت یا مڈ ٹرم انتخابات کا کوئی امکان نہیں اور اپوزیشن کو 2023ء تک انتظار کرنا پڑے گا‘ البتہ پاکستان کے شمال مغرب میں واقع افغانستان اور اس سے ملحقہ خطوں میں حالات جس طرح تیزی سے اور توقع کے برعکس کروٹ لے رہے ہیں‘ ممکن ہے اس کے کچھ اثرات یہاں بھی مرتب ہوں‘ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ تبدیلی مڈ ٹرم انتخابات کے ذریعے رونما ہو‘ اس کے لئے قومی حکومت کے قیام کے حوالے سے شہباز شریف کی تجویز کو بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے نتائج اور برطانیہ کی نیشنل کریمنل ایجنسی کی طرف سے شریف خاندان پر منی لانڈرنگ اور مالی بے قاعدگیوں کے دیگر الزامات پر کلین چٹ کے بعد نون لیگ کے مفاہمتی گروپ کو مزید تقویت ملی ہے۔ بہرحال دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved