تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     07-10-2021

ویوک سنہا گروپ

سی پیک کے سفر کو بڑھاتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین نے گوادر بندرگاہ کے قریب ایک ایسے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا منصوبہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے حوالے کیا ہے جہاں ٹیکنیکل اور فنی ماہرین تیار کرنے کے بہترین ذرائع اور مواقع میسر آئیں گے۔ اس ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں ایک وقت میں360نوجوانوں کا داخلہ کیا جا سکے گا اور سال میں کم ازکم ایک ہزار لوگ جدید فنی تربیت سے آراستہ ہوا کریں گے۔ یہاں فنی تعلیم کے ہر شعبے میں مقامی نوجوانوں کو وہ تربیت اور تعلیم فراہم کی جائے گی جو دنیا کے کسی بھی شعبے میں ترقی اور مہارت کے لیے درکا رہو گی۔ اس سے روزگارکے بے پناہ مواقع ملنے کے علا وہ فنی مہارت کے بل بوتے پربیرونِ ممالک جانے میں بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ 2020ء میں شروع کیا جانے والا یہ پروجیکٹ چینی ماہرین نے یکم اکتوبر2021ء کو مکمل کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کیا۔ اس پروجیکٹ کی تعمیر سے ایک ہزار مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔
ملکی سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیں تو اپوزیشن رہنما بالخصوص مسلم لیگ نواز کے لیڈران نجانے کتنی مرتبہ موجودہ حکومت پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت سی پیک کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ پارٹی ترجمان مریم اورنگ زیب صاحبہ اور سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سمیت ساری لیڈر شپ کے بیانات کی فائلیں نکالی جائیں تو ان کی تکرارشکوک و شبہات بڑھانے لگتی ہے کہ شاید واقعی پی ٹی آئی حکومت سی پیک سے فرار اختیار کرنے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے منصوبے پر کارفرما ہے۔ اپوزیشن رہنمائوں کے بیانات سن کر سننے والے سوچنے لگتے ہیں کہ اتنے سارے رہنما اگر ایک ہی الزام لگا رہے ہیں تو سچ ہی کہہ رہے ہوں گے۔ یہی گوئبلز سائنس ہے‘ یہی اس کے نظریے کی بنیاد ہے کہ جھوٹ اس قدر تواتر سے بولتے رہو کہ خود بھی اسے سچ سمجھنا شروع کرد و۔ یہ تو اب رازنہیں رہا کہ امریکا اور اس کے تمام اتحادی سی پیک کو ناکام کرنے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور اس وقت تک ان کی سازشیں جاری رہیں گی جب تک نیو کلیئر پروگرام کی طرح ہمیں اس کام میں کوئی واضح کامیابی نہیں مل جاتی۔
بھارت کی مختلف ایجنسیوں اور اداروں نے سی پیک کو نشانہ بنانے اور اس سے متعلق پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے کیلئے باقاعدہ ایک سیل بنا رکھا ہے جس کی سربراہی ہندوستان ٹائمز کے سابق روح رواں ویوک سنہا کے سپرد کی گئی ہے اوراس کے لیے اردو اور انگریزی مضامین اور خبروں کیلئے علیحدہ علیحدہ سیل قائم کیے گئے ہیں جن میں ایسے نام نہاد قوم پرستوں کو شامل کیاگیا ہے جنہیں دنیا کے مختلف ممالک میں سیا سی پناہ دلوا کر ان سے ریاست کے خلاف مضامین لکھوائے جاتے ہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ ان افراد کے نام سے مضامین لکھ کر خود ہی ویب سائٹس پرلگا دیے جاتے ہیں۔ اس وقت سی پیک کے خلاف ویوک سنہا کا جو گروپ کام کر رہا ہے‘ میری اطلاعات کے مطابق‘ اس میں سول افراد کے ساتھ بعض حاضر سروس فوجی بھی کام کر رہے ہیں اوران سب کو علیحدہ علیحدہ ڈیسک الاٹ کرتے ہوئے سی پیک کو مذہبی، ثقافتی، تجارتی اور علاقائی حوالوں سے ٹارگٹ کرنے کا مشن سونپا گیا ہے۔ ان میں ہیومن رائٹس، اندرونی صورتحال، اکانومی، صحت، ڈیفنس اور سکیورٹی کے علاوہ ڈپلومیٹک میدان سر فہرست ہیں۔
اس سے پہلے ''ای یو ڈِس انفو لیب‘‘ میں ایک فیک بھارتی نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی تھی، باخبر ذرائع کے مطابق‘ کابل میں اشرف غنی کے صدارتی محل میں موجود سینکڑوں جعلی اکائونٹس پر مشتمل سوشل میڈیا سیل سے بھی پاکستان کے خلاف دن رات پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا۔مشہوراور قابلِ اعتماد پروفیسرز اور ایسے افراد‘ جنہیں دنیا سے رخصت ہوئے کئی کئی برس گزر چکے تھے‘ کے نا موں سے پاکستان اور اس کی سکیورٹی فورسز کے خلاف ا یسے ایسے مضامین لکھوائے جاتے رہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جعلی خبروں اور خود ساختہ واقعات کی بنیاد پر وہ طوفان اٹھایا جاتا کہ پوری دنیا حقیقت کو چھوڑ کر ان جھوٹی خبروں کے پیچھے نکل پڑتی۔ ان کے جھوٹے مضامین پڑھ کر ایسے لگتا تھا کہ ہمارے یہاں قانون اور انسانی حقوق نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی،ہر طاقتور کمزور پر‘ ریاست صوبوں پر اور بڑے صوبے چھوٹے صوبوں پر ظلم کر رہے ہیں، ہر کوئی دوسرے کا حق غصب کر رہا ہے‘ لیکن سچ سامنے آ کر رہتا ہے۔ یہ سارا بھانڈا اُس وقت پھوٹا جب ساڑھے سا ت سو سے زائد جعلی ویب سائٹس، مردہ پروفیسرز، جعلی انسانی حقوق کی تنظیموں، فیک نیوز ایجنسیز اور نام نہاد سوشل ورکرز پر مشتمل اس گروپ کی شناخت جعلی اور گھوسٹ ثابت کر دی گئی‘ وہ بھی یورپ کے تحقیقی ادارے کی جانب سے۔
اب یہی کچھ سی پیک کے حوالے سے ہو رہا ہے۔ سی پیک کو اندرونی سطح پر اور بیرونی دنیا میں نشانہ بنانے کیلئے ویوک سنہا کی سربراہی میں قائم خصوصی سیل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی براہِ راست نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ اس میڈیا ٹیم میں ویوک سنہا کے علا وہ ڈاکٹر، شنتانو گہا رے، منیش سنگھ کنور، سکاٹ ڈگلس اور ڈاکٹر Terri Murray جیسے لکھنے والے بھی شامل ہیں۔ اردو اور انگریزی میں دو ویب سائٹس2017ء سے سی پیک کے خلاف باقاعدہ طور پر فعال ہیں۔ بھارت میں یہ گروپ وزارت کارپوریٹ افیئرز میں ایکٹو ہے۔ بھارتی قانون کے مطا بق ٹیکس کی ادائیگی اور دیگر قانونی مراحل پورے کرنے کے لیے ایسے کسی بھی گروپ، تنظیم یا جماعت کی رجسٹریشن لازمی ہے مگر یہ گروپ بغیر کسی رجسٹریشن کے پوری طرح فعال ہے، یعنی کاغذوں میں یہ ایک گھوسٹ گروپ ہے۔ افسوس ناک امر ہے یہ ہے کہ ویوک نندانٹرنیشنل فائونڈیشن، سوادیش جگران منچ، ہندو سویم سیوک سنگھ، انڈیا فائونڈیشن، نیوز انٹر وینشن ڈاٹ کام، نیوز بھارتی ڈاٹ کام، آرگنائزر ڈاٹ آرگنائزیشن اور ان کے اوپر بیٹھے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے پالیسی ساز ان بیانات کی بھی باقاعدہ نگرانی کر رہے ہیں جو ایک دوسرے کی سیاسی مخالفت میں ملک کے اندر سے داغے جاتے ہیں۔ مذکورہ ویب سائٹس اور تنظیموں کے کنسورشیم پر اجیت دوول کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جسے آر ایس ایس کی مرکزی کمیٹی میں شامل لوگ مانیٹر کرتے ہیں اور یہ سب کچھ نریندرمودی کی منظوری کے بعد ہی کیا جا رہا ہے۔
سی پیک اور گوادر لازم و ملزوم ہیں۔ اس سے قبل جب گوادر پورٹ منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو بلوچستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے کے لیے ڈاکٹر شازیہ کیس کو سہارا بنایا گیا تھا۔ سی پیک کی راہ روکنے کیلئے بھارت نے کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر بیت ﷲ محسود گروپ کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جس نے پندرہ برس قبل کے پی اور بلوچستان سمیت داسو‘ بھاشا ڈیم پرکام کرنے والے چینی انجینئروں کو قتل کرنا شروع کیا تھاتاکہ چینی حکومت ان منصوبوں سے ہاتھ کھینچ لے۔ امریکا کے علاوہ ہمارا روایتی حریف‘ جو ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی طاقت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے‘ پاکستان کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کرنے والے اس منصوبے کو کیسے برداشت کر سکتاہے؟سی پیک سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور اس کیلئے دانستہ و نا دانستہ کام کرنے والے افراد کی راہیں مسدود کرنے کے لیے ہماری نوجوان نسل او ر سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو مل کر کام کرنا ہو گا کیونکہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے جو محض حکومت اور فوج ہی نہیں بلکہ عوام سمیت سب ایک ساتھ مل کر لڑتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved