تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     13-10-2021

عبدالقدیر خان: ایک دیو مالائی کردار

اُس رو ز اسلام آباد میں لگاتار بارش ہو رہی تھی لیکن بارش سے بے پروا لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو اس ایمبولینس کے ہمراہ دوڑ رہا تھاجس میں پاکستان کے ایٹمی سائنسدان عبدالقدیر خان کا پاکستان کے سبز پرچم میں لپٹا ہوابے حس و حرکت جسم رکھا تھا۔ وہی پرچم جس کی سر بلندی کیلئے انہوں نے اپنی زندگی کا آسائش و آرام وقف کر دیا تھا۔ عبدالقدیر خان کے چاہنے والے انہیں محسنِ پاکستان کے لقب سے پکارتے تھے یہ عزت ‘یہ تکریم یہ ‘محبت قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک بے قرا ر روح کے مالک تھے۔ وہ خواب دیکھتے تھے اور پھر اس کی تعبیر حاصل کرنے کا جنون انہیں ہر دم بے چین رکھتا تھا۔
ہماری نوجوان نسل کو شاید پتا نہ ہو کہ عبدالقدیر خان کا پاکستان کو ناقابلِ تسخیر قوت بنانے میں کیا کردار ہے۔ اس کیلئے ہمیں تاریخ میں واپس جانا ہو گا۔ یہ 1971ء کا سال ہے جب پاکستان کا مشرقی حصہ ہم سے جدا ہو گیا تھا۔ اس جنگ میں بھارت نے مکتی باہنی کی کھل کر مدد کی تھی۔ ہندوستان کی اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔ اس سانحے سے ہر پاکستانی اداس تھا‘ بے چین تھا۔بے بسی کا عالم تھا۔ تب پاکستان کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کے پاس آئی۔ دن گزرتے گئے اور پھر مئی 1974ء کا دن آ گیا جب بھارت نے چار ایٹمی دھماکے کئے‘ یہ دنیا کیلئے بالعموم اور پاکستان کیلئے بالخصوص واضح پیغام تھا کہ اس خطے میں بھارت سب سے بڑی طاقت ہے اور خطے کے باقی ممالک کو اس کا مطیع بن کر رہنا ہو گا۔ ہر پاکستانی اس تشو یش میں مبتلا تھا کہ بھارت کا آئندہ اقدام کیا ہو گا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کی خبر عبدالقدیر خان نے بھی سنی۔ اُس وقت وہ ہالینڈ کی ایک لیبارٹری میں کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے دل و دماغ میں 1971ء کا المیہ تازہ تھا۔ ہر پاکستانی کی طرح عبدالقدیر خان کی بے چینی دیدنی تھی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اس کڑے وقت میں اپنے پاکستان کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ اسی سوچ بچار میں تین مہینے گزر گئے۔ عبدالقدیر ہالینڈ میں اپنی بیوی ہینی خان کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے‘ لیکن بھارت کے دھماکوں کی خبر نے عبدالقدیر خان کی زندگی میں ہلچل مچا رکھی تھی۔ آخر انہیں ایک خیال سوجھا اور انہوں نے اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا از حد ضروری ہے اور اگر آپ چاہیں تو میں یہ کام کر سکتا ہوں۔ بھٹو کیلئے یہ خط ایک غیر متوقع خوشخبری تھی۔بھٹو نے انہیں فوراً پاکستان آنے کو کہا۔ 1975ء میں عبدالقدیر پاکستان آ گئے اور کہوٹہ میں ریسرچ لیبارٹری کی بنیاد رکھی گئی۔ حکومت کی طرف سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو مکمل اختیارات دیے گئے۔ انہوں نے ایک جذبے اور جنون کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔ سب سے زیادہ مشکل کام یہ تھا کہ سینٹری فیوجز کی تیاری کیلئے پرزے مختلف کمپنیوں سے کیسے منگوائے جائیں کہ انہیں شک بھی نہ ہو۔ یہ کام کیسے ہوا ‘کون کون سے رابطے اس میں کام آئے اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
یہ 1986ء کی بات ہے ‘اُن دنوں میں مانچسٹر یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ اسی سال برطانیہ میں ایک نیا اخبار شائع ہونا شروع ہوا جس کا نام The Independant تھا۔یہ باقی اخبارات سے مختلف تھا‘اس کا layout اور خبروں کا انداز دوسرے اخبارات سے بہتر تھا۔ ایک روز میں ہاسٹل کے کمرے سے نکل کر کامن روم میں آیا تو میز پر The Independant رکھا تھا جس پر جلی حروف میں پاکستان کے ایٹم بم بنانے کی خبر تھی۔ خبر کا ذریعہ کلدیپ نائر تھے جنہوں نے مشاہد حسین کے ساتھ ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کی تھی۔ دراصل یہ خبر جان بوجھ کر لیک کی گئی تھی تاکہ بھارت کی طرف سے سرحدوں پر دبائو کو کم کیا جا سکے۔ بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دراصل ایٹم بم کی تیاری کا عمل 1984ء میں ہی مکمل ہو چکا تھا یعنی بھارت کے ایٹمی دھماکے کے ٹھیک 10 سال بعد پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا تھا۔پھر مئی1998ء کا دن آگیا جب پاکستان نے بھارت کے چار دھماکوں کے مقابلے میں پانچ دھماکے کیے۔ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے خواب کی تکمیل کا دن تھا ‘ یہ وہ خبر تھی جس کا ہر پاکستانی کو انتظار تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر لوگوں کے ہیرو بن گئے تھے۔
ڈاکٹرعبدالقدیر خان کا اگلا خواب پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم کیلئے ایک معیاری ادارے کا قیام تھا۔ اُس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے اس میں بھرپور تعاون کیا۔ یوں 1993ء میں جی آئی کے انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی وجود میں آیا جو انجینئرنگ کے شعبے میں ایک بین الاقوامی معیار کا ادارہ ہے۔ میں نے جب 2000ء میں جی آئی کے انسٹیٹیوٹ میں بطور پروفیسر پڑھانا شروع کیا‘ میں وہاں کا کیمپس اور فیکلٹی‘ سٹاف اور طلبا کیلئے مہیا کردہ سہولتیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ صوابی کے اس چھوٹے سے گائوں ٹوپی میں 400 ایکڑ سے زیادہ زمین بنجر تھی جو انسٹیٹیوٹ کو دی گئی۔ تب ڈاکٹر عبدالقدیر نے گرمیوں کی تپتی ہوئی دوپہروں اور جاڑے کی ٹھٹھرتی صبحوں میں کھڑے ہو کر تعمیراتی کام کی نگرانی کی۔ انسٹیٹیوٹ میں میٹلرجی ‘ کمپیوٹر سائنسز‘ الیکٹریکل‘ مکینیکل انجینئرنگ ‘ ہیومینیٹیز اور مینجمنٹ کی فیکلٹیز تھیں۔ ہر فیکلٹی کی عمارت مختلف تھی جس میں داخل ہوں تو سامنے ڈاکٹر عبدالقدیر کا پورٹریٹ آویزاں تھا۔ تصویر میں ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی جس میں اپنے خواب کی تکمیل کی مسرت تھی۔
پھر 2004ء کا سال آ گیا جب امریکہ کے شدید دبائو کے نتیجے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زبردستی ٹیلی وژن پر قوم کے سامنے معافی مانگنے کو کہا گیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایٹمی راز لیبیا ‘ عراق اور ایران کو فروخت کیے۔ انہیں اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اُن دنوں میں جی آئی کے انسٹیٹیوٹ میں پڑھا رہا تھا۔ ایک روز جب میں صبح صبح فیکلٹی پہنچا تو سامنے دیوار پر ڈاکٹر عبدالقدیر کی مسکراتی ہوئی تصویر نہیں تھی۔میرا دل دھک سے رہ گیا۔پتا چلا کہ راتوں رات ان کی تصاویر ہر فیکلٹی کی عمارت سے ہٹا دی گئی تھیں۔ قومی ہیرو ایک ہی رات میں ناپسندیدہ شخص بن چکا تھا۔ بعد میں ان کی نظر بندی کے دنوں میں ان کے گھر میری ان سے آخری ملاقات ہوئی۔ ان کے گھر تک پہنچنے کیلئے کئی ناکوں اور چوکیوں سے اجازت لینا پڑی۔ وہ ایک یادگار ملاقات تھی۔ چائے کے دوران باتیں ہو تی رہیں۔ انہیں حکمرانوں کی ناقدری کا گلہ تھا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ بھارت میں ایٹم بم کے خا لق ڈاکٹر عبدالکلام کو ملک کا صدر بنا دیا گیا اور پاکستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر کو اس پاداش میں آزادی سے محروم کر دیا گیا۔ اُس دن رخصت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیرنے اپنی لکھی ہوئی کتابیں مجھے تحفے میں دیں۔ ان میں سے ایک کتاب پر انہوں اپنا ایک شعر لکھا اور نیچے اپنے دستخط کیے۔ آج ڈاکٹر عبدالقدیر کے جانے کی خبر سن کر میں نے خاص طور پر اپنی لائبریری سے وہ کتاب نکالی۔ پہلے صفحے پر ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا شعر تھا:
گزر تو خیر گئی ہے تری حیات قدیرؔ
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
شعرپڑھ کر میری آنکھیں نم ہو گئیں اور دل احساسِ ندامت کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved