تحریر : ڈاکٹر حسن عسکری رضوی تاریخ اشاعت     18-10-2021

متنوع آبادی اور قومی یکجہتی کے تقاضے

ہر شخص کسی ریاست کا شہری ہے۔ کچھ لوگ دو ریاستوں کے بھی شہری ہوتے ہیں۔ دُہری شہریت ترقی پذیر ممالک کے پیسے والے لوگوں کے لیے عام سی بات ہے۔ وہ ترقی یافتہ مغربی ممالک کی شہریت یا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرتے ہیں۔
سنگل یا ڈبل شہریت کا تصور یا کسی دوسرے ملک میں رہنے کی اجازت ریاست اور شہریوں کے درمیان ریلیشن شپ سے جڑی ہوتی ہے۔ چاہے آپ کسی ریاست پر تنقید کریں یا اسے پسند کریں اور اس کی تعریف کریں، ہر کسی کو اس سے مثبت یا منفی انداز میں معاملات کرنا ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ واضح کرتا ہے کہ خود مختار ریاست کا ادارہ کتنا اہم ہوتا ہے‘ لیکن اتنا ہی اہم معاملہ ایک طرف ریاست اور اس کی حکومت اور دوسری طرف شہریوں کے درمیان تعلقات کا سوال بھی ہے؟
ریاست کو 20ویں صدی میں قومی ریاست (نیشن سٹیٹ) کے طور پر بیان کیا جانے لگا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ریاست کی ایک قوم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زیادہ تر آبادی مشترکہ تہذیبی‘ لسانی اور ثقافتی خصوصیات رکھتی ہے اور ریاست کے اداروں اور ترجیحات کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ یورپی بر اعظم نے قومی ریاستوں (نیشن سٹیٹس) کی بہت سی مثالیں فراہم کیں‘ جہاں ریاست اور قوم کی حدیں آپس میں ملتی ہیں‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ کئی یورپی ریاستوں کی ایک غالب نسلی اور لسانی پہچان یا شناخت تھی جو سیاسی طور پر ریاست کے ساتھ شناخت کی گئی تھی۔ دوسرے چھوٹے گروہ، اگر کوئی تھے‘ غالب قومی شناخت کے ساتھ نتھی رہے اور بندھے رہے۔
ایشیائی اور افریقی ممالک‘ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں یورپی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزاد ہو گئے تھے، قومی ریاست کے یورپی ماڈل کی پیروی کرنا چاہتے تھے۔ وہ یورپی ماڈل جس میں ریاست اور قوم ایک دوسرے سے متصل اور باہم مدغم تھے۔ یہ جلد ہی واضح ہو گیا کہ بیشتر ایشیائی اور افریقی ریاستوں میں متعلقہ قومیں نہیں ہیں۔ کئی ریاستوں میں کئی نسلی، قبائلی، لسانی اور ثقافتی گروہ تھے۔ ان شناختوں کے ساتھ ان کی پہچان‘ ریاست کے ساتھ ان کی شناخت سے زیادہ مضبوط تھی۔ بہت سی تہذیبی‘ قبائلی یا علاقائی شناختوں نے انہیں ایک ایسی قوم کے طور پر اجاگر کیا۔ اس سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں ایک ریاست میں کئی خود ساختہ قومیں تھیں۔
ابتدا میں ایشیائی اور افریقی ریاستوں‘ بشمول پاکستان‘ نے ایک ریاست ایک قوم اور ایک زبان کا اصلی یورپی ماڈل اپنایا۔ زور اس بات پہ تھا کہ ساری چھوٹی یا بڑی شناختوں کو ختم کر کے ان کی جگہ ریاست کی صرف ایک قومی شناخت کو ابھارا جائے‘ اجاگر کیا جائے۔ چونکہ قومی یک جہتی پر پوری توجہ مرتکز کرنے کا طریقہ ان ریاستوں میں مسائل پیدا ہونے کا باعث بنا، لہٰذا انہوں نے آہستہ آہستہ اس نقطہ نظر کو تبدیل کر لیا۔
مختلف قوموں کی توجہ مختلف درجوں میں ایک ہم آہنگ نقطہ نظر کی طرف منتقل ہوئی جس نے ریاست کی متنوع نوعیت کو تسلیم کیا اور جس نے قومی فریم ورک میں یک جہتی کا راستہ اختیار کیا۔ دوسرے لفظوں میں، قومی فریم ورک‘ جس کو اپنانے کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا‘ اکثریت پسند تھا اور اس نے قومی شناخت میں تنوع کو شامل کرنے پر زور دیا۔ کسی ملک میں موجود مختلف مقامی ثقافتوں، زبانوں اور تہذیبی نمونوں کی اجتماعیت کے طور پر ایک قومی ثقافت اور شناخت کو تیار کرنے کی بات ہوئی۔ خارج کر دینے کے بجائے تنوع کو قبول اور تسلیم کرنے کو قومی یک جہتی کے لیے امید افزا نقطہ نظر کے طور پر دیکھا گیا۔
اس ساری صورت حال اور ان سارے معاملات نے ریاست کا کردار بدل دیا۔ اسے انسان کے تخلیق کردہ سیاسی انتظام کے طور پر دیکھا جانے لگا‘ جو علاقے، آبادی، حکومت اور خود مختاری پر مشتمل ہے اور جو اپنی آبادی کی فلاح و بہبود اور سلامتی کے لیے مخصوص کام سرانجام دیتا ہے جبکہ مذکورہ چاروں عناصر کے درمیان معاملات کا تعین آئینی‘ قانونی انتظامات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ وہ انتظامات جو وقت کے ساتھ وضع ہوئے۔ ریاست کسی علاقے میں رہنے والے لوگوں کے جذبات کی عکاس اور پیداوار ہے۔ اس کا مقصد ایک آئینی اور قانونی فریم ورک اور ماضی کے سیاسی تجربے پر مبنی قانونی اور سیاسی روایات کے اندر رہ کر مستقبل کے لیے کچھ مشترکہ سیاسی اور معاشی خواہشات کا حصول ہے۔ ریاست کچھ مخصوص کام سرانجام دیتی ہے اور اپنے شہریوں کے لیے کچھ سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں شہری ریاست کی طرف سے عائد کچھ ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔ یوں یہ ایک باہمی تعلق ہے جس میں دونوں کے حقوق بھی ہیں اور فرائض بھی‘ جو دونوں ایک دوسرے کے لیے ادا کرتے ہیں۔ یہ حقوق و فرائض آئین اور قانون کے ذریعے بیان کیے گئے ہیں۔
قومی یک جہتی کا عمل اور ریاست کے حوالے سے لوگوں کی شناخت‘ قابل اعتماد سیاسی شراکت اور سماجی و معاشی انصاف کی یقین دہانی سے زیادہ گہرا تعلق رکھتی ہے۔ معاشرے میں مختلف اور متنوع عناصر کو عوامی نمائندگی کے نظام کے ذریعے سیاسی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کو سماجی و معاشی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگر معاشی ترقی کے نتیجے میں عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے تو ریاست کے ساتھ شناخت کا عمل منفی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح ریاست کو معاشی وسائل کو انسانی ترقی کے لیے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ اسے ریاستی وسائل تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، شہری سہولیات کی فراہمی، با عزت زندگی گزارنے کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور کم مراعات یافتہ و بے روزگار لوگوں کے لیے مناسب زندگی گزارنے کے سماجی تحفظ کی فراہمی پر صرف کرنے کی ضرورت ہے۔
ریاست کے ساتھ وفاداری اور وابستگی ریاست کے اس تصور پر منحصر ہے کہ اس کی پالیسیاں لوگوں کے لیے مددگار ہیں، اور یہ حقیقی طور پر ان کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند رہتی ہے۔ اس طرح کی ریاست کے لیے متنوع آبادی پر مشتمل نسبتاً ہم آہنگ قومی فریم ورک بنانا آسان ہوتا ہے۔ ایک ریاست جو لوگوں کو بنیادی خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہے وہ داخلی طور پر محفوظ ہوتی ہے اور اس صورت میں چھوٹی تہذیبی اور علاقائی شناختیں اور منقسم تہذیبی اور قبائلی و لسانی گروہ قومی دھارے کا حصہ بننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس طرح ریاست حقیقی طور پر ایک قومی ریاست بن جاتی ہے‘ لیکن اس کا انحصار سیاسی اور سماجی ہم آہنگی اور معاشی و معاشرتی انصاف کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر ہوتا ہے۔ اس عمل میں سیاسی شراکت کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی پالیسی کیا ہے‘ اس کا بھی قومی ریاست کے بنانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved