تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     07-11-2021

وزیر اعظم کا ریلیف پیکیج

وزیر اعظم عمران خان نے ریڈیو، ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں گھی، آٹا اور دالیں 2 کروڑ مستحق خاندانوں کو سستے داموں مہیا کرنے کے لیے 30 فیصد سبسڈی فراہم کرنے کے ایک پروگرام کا اعلان کیا۔ سبسڈی کے اس پروگرام کو تاریخی کہا‘ اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی لیوی تاریخ میں لوگوں کو اتنی بڑی تعداد کے لیے اتنی بڑی رقم پر مشتمل ریلیف پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تقریر کے باقی حصے میں وزیر اعظم نے وہی پرانی باتیں دہرائی ہیں، جن کا وہ گزشتہ سوا تین برس کے عرصے میں ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں‘ مثلاً پچھلی (ن لیگ) کی حکومت سے ورثے میں حاصل ہونے والی خراب معاشی صورتحال، کورونا وائرس کی وبا اور بین الاقوامی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے دور میں معاشی مسائل‘ خاص طور پر مہنگائی پر قابو پانے میں دشواری۔
اب تک وزیر اعظم مہنگائی اور معاشی مشکلات کی تمام تر ذمہ داری حزب مخالف پر ڈالتے آئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے، اس کا تمام‘ خصوصاً ترقی پذیر ملکوں پر بھی پڑا ہے۔ پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔ اس کے باوجود، وزیر اعظم کے دعوے کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح اور گیس و پٹرول کی قیمتیں دیگر ملکوں سے کم ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو ہمسایہ ممالک‘ بھارت اور بنگلہ دیش میں آٹے، چینی اور پٹرول کی قیمتوں کا پاکستان میں قیمتوں کے ساتھ موازنہ پیش کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح اب بھی ان ممالک سے کم ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہہ دیا کہ آنے والی سردیوں میں گیس کم اور پٹرول مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
اپوزیشن نے وزیر اعظم کی تقریر سے پہلے ہی پیکیج کو ایک ''دھوکہ بازی‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا‘ لیکن اس پیکیج کا‘ جسے تاریخ قرار دیا جا رہا ہے، اگر بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کی بنیاد ایسے مفروضوں پر رکھی گئی ہے جن کی صحت مشکوک ہے اور اس سے ایسی توقعات اور امیدیں وابستہ کی گئی ہیں، جو غیر حقیقت پسندانہ ہیں‘ مثلاً منصوبے پر خرچ کرنے کے لیے 120 ارب روپے کی جس خطر رقم کا ذکر کیا گیا ہے، اگلے چھ ماہ میں اس کا حصول کیسے ممکن ہو گا؟ تقریر میں کہا گیا کہ وفاق اور صوبے مل کر یہ رقم مہیا کریں گے‘ لیکن صوبے تو پہلے ہی شکوہ کناں ہیں کہ ان کے پاس فنڈز کم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنی بڑی رقم کے حصول کا واحد طریقہ مزید ٹیکس اور باقی اشیا مثلاً تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ اس سے سبسڈی سے باہر ملک کی تقریباً آدھی آبادی کو پہلے سے زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس آبادی‘ جو زیادہ تر مڈل اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہو گی، کے لیے حکومت کے پاس کون سا ریلیف پیکیج ہے؟
جہاں تک بھارت، بنگلہ دیش اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کے موازنے کا تعلق ہے، اسے اس کے صحیح سیاق و سباق میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان ممالک میں تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں کو بیان کرتے ہوئے قوم کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے کہ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے بعد ان ممالک کی معیشت کی شرح نمو، پاکستان کی قومی آمدنی میں سالانہ اضافے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس سے ان ممالک کی فی کس سالانہ آمدنی‘ جو پاکستان کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ ہے، میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے‘ اس لئے وہاں اگر روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے تو لوگوں کی قوت خرید بڑھ جاتی ہے۔ اس سے عام لوگوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثر نہیں پڑتا۔ قیمتوں میں اضافے کے باوجود، غربت میں اضافہ نہیں ہوتا، جبکہ پاکستان میں صورتحال اس سے مختلف ہے۔ ایک طرف مختلف عوامل، جن میں بین الاقوامی صورتحال اور حکومت کی اپنی نااہلی بھی شامل ہے، روزمرہ ضرورت کی اشیا خصوصاً خوراک کے نرخوں میں اضافہ ہو رہا ہے اورد وسری طرف جی ڈی پی کی افزائش میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید بتدریج کم ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے تین سال سے زیادہ عرصے کے دوران پاکستان میں غربت کی اوسط شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ملک کے بعض حصوں یعنی شمالی علاقوں اور بلوچستان میں غربت کی شرح اس سے دگنی ہے۔ ''ن لیگ‘‘ کے دور میں غربت کی اوسط شرح میں 24 فیصد کی حد تک کمی آ چکی تھی۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ انتخابات میں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جن دو نعروں کا سہارا لیا تھا‘ ان میں سے ایک بدعنوانی (کرپشن) اور دوسرا غربت کا خاتمہ تھا اور اسی ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے وہ چین کی مثال دیتے تھے مگر ان دونوں مقاصد کو حاصل کرنے میں حکومت کو بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ دونوں بڑے اور پیچیدہ مسائل ہیں‘ اور انہیں حل کرنے کیلئے جس سنجیدگی، مستقل مزاجی، یکسوئی اور توجہ کی ضرورت ہے‘ اس کا موجودہ حکومت نے مظاہرہ نہیں کیا۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے جہاں اپنے تاریخی پیکیج کے خدوخال بیان کیے، وہاں انہوں نے قوم کو یہ بھی بتایا کہ آنے والے دنوں میں عوام کو گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پٹرول کی قیمت میں مزید ناگزیر اضافہ ہو جائے گا۔ گیس کی قلت سے صرف گھریلو صارفین ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ اس سے ہماری صنعت اور بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہو گی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات میں کمی آئے گی اور معیشت مزید سکڑ ے گی۔ اس کا اثر لوگوں کی قوت خرید اور معیار زندگی پر پڑے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک غربت اور مہنگائی پر قابو پانے کے ہدف سے اور بھی دور ہو جائے گا۔
جہاں تک پٹرول کی قیمت میں اضافے کا تعلق ہے، تو یہ حقیقت ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں پر بھی واضح ہے کہ اس سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ لوگ پہلے ہی پرائیویٹ بسوں کے کرایوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان ہیں۔ اب ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کے نتیجے میں نہ صرف اشیا کے نقل و حمل کی لاگت بڑھے گی بلکہ زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس سے ہماری زرعی اجناس جس میں چاول، گندم، گنا، کپاس اور دالیں شامل ہیں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور ملک میں فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ اور بھی سنگین ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں پی ٹی آئی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی معیشت کی شرح نمو میں کمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے اس کیلئے ضروری انفراسٹرکچر مہیا کرنے کے بجائے، ٹیکسوں اور بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف عوام کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے، بلکہ غربت کی سطح بلند ہوئی ہے، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہے تصویر نئے پاکستان اور تبدیلی کی‘ جس کا وعدہ کرکے عمران خان نے 2018ء میں اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کیلئے عوام سے ووٹ مانگے تھے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved