تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-07-2013

سرخیاں‘ متن اور ٹوٹا

صدارت کے لیے ممنون حسین بہترین انتخاب ہیں …نواز شریف وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ’’عہدہ ٔ صدارت کے لیے ممنون حسین بہترین انتخاب ہیں‘‘ اور یہ بھی انہوں نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ مجھے ان کے گھر کی دودھ ربڑی بہت پسند ہے؛ البتہ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے جو کچھ کہا ہے اگر ان کا اشارہ صاحب موصوف ہی کی طرف ہے اور اگر یہ بات درست ہے ،تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مجھے دودھ ربڑی پر ہی ٹرخاتے رہے ہیں اور دودھ جلیبی کو ہواتک نہیں لگنے دی جوکہ سراسر زیادتی ہے لیکن اب چونکہ ان کی نامزدگی کا اعلان ہوچکا ہے اس لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا، تاہم تلافیٔ مافات کے طورپر، امید ہے کہ ایوان صدر سے یہ ہردو مقویات باقاعدگی سے بہم پہنچتی رہیں گی۔ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ’’ممنون حسین کی نامزدگی چھوٹے صوبوں کے لیے بہت بہتر ہوگی‘‘ اور وہ صوبوں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھیں گے‘ جیسا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے وہ ریٹرننگ افسر کی جگہ الیکشن کمیشن پہنچ گئے تھے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ صدارتی انتخاب کی تاریخ پر تحفظات ہیں…گیلانی سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ’’صدارتی انتخاب کی تاریخ پر تحفظات ہیں ‘‘ اگرچہ یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ میں تو رکن پارلیمنٹ بھی نہیں ہوں، اس لیے میرے تحفظات آخر کیا معنی رکھتے ہیں‘ جبکہ خاکسار کے اصل تحفظات تو نیب کے رویے پر ہیں جو پکڑنے کا نام ہی نہیں لیتی اور محض فون کرنے میں مصروف ہے، تاہم، انہوں نے جوپوچھا ہے کہ میں اپنی پسند کی جگہ بتادوں جہاں مجھے رکھا جائے تو میرے غریب خانے کے علاوہ بہتر جگہ اور کونسی ہوسکتی ہے جس کی دیواروں کو بم پروف بنانے پر حکومتی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’توقیر صادق کی تقرری درست تھی، لیکن اگر کوئی بعد میں بددیانت ہوجائے تو میرا کیا قصور ؟‘‘جبکہ وہ میری پیروی کرتے ہوئے دیانتداری کا ریکارڈ قائم کرسکتے تھے؛ حالانکہ خاکسار کے سارے کام کھلی کتاب کی طرح تھے جس سے ہرکوئی استفادہ کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گا‘‘ البتہ اگر نیب والے میرے سامنے پیش ہوجائیں تو میں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کو تیار ہوں۔ آپ اگلے روز ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کررہے تھے۔ صدارتی انتخاب 30جولائی کو کرانے کی حمایت کرتے ہیں…فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ’’30جولائی کو صدارتی انتخاب کروانے کی حمایت کرتے ہیں‘‘ اس لیے کہ ہمارا تو کوئی امیدوار ہی نہیں ہے، اس لیے ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تاہم انتہائے ستم ظریفی یہ ہے کہ میرے معاملے پر کوئی اتفاق نہیں کررہا جبکہ نفاق کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور میں اس عدم اتفاق پر حکومت کو مسلسل آگاہ بلکہ انتباہ کرتا رہا ہوں لیکن اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور، اگر رینگتی بھی ہے تو اسے اس کا احساس ہی نہیں ہوتا اور جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس کے دل ودماغ کی طرح اس کے کان بھی بے حس ہوچکے ہیں، اس لیے دل ودماغ نہ سہی اسے کم ازکم اپنے کانوں کو تو اصلی حالت میں لانے کا کوئی جتن کرنا چاہیے جسے میرے علاوہ کسی اور کی بھی کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ’’نواز لیگ کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے ‘‘ اور کاش کہ میرے بارے میں بھی اسے کوئی خوش آئند فیصلہ کرنے کی توفیق ہوتی۔ آپ اگلے روز اپنے ترجمان جان اچکزئی کے ذریعے ایک بیان جاری کررہے تھے۔ ن لیگ رضاربانی کے حق میں اپنا امیدوار بٹھالے …منظوروٹو پیپلزپارٹی پنجاب کے تادم تحریر صدر میاں منظور وٹو نے کہا ہے کہ ’’ن لیگ رضا ربانی کے حق میں اپنا امیدوار بٹھالے ‘‘ اگرچہ وہ زاہد خشک قسم کے آدمی ہیں اور ہماری صحبت صالح سے انہوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، اس لیے ان کی اہلیت کے بارے میں کچھ زیادہ خوش گمانی سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ اور ایسے لوگ دراصل معاشرے پر بوجھ ہوتے ہیں حالانکہ خود معاشرے کو ان کا بوجھ اٹھائے رکھنا چاہیے اور، اگرچہ پنجاب میں انتخابی شکست کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خاکسار کو صدارت سے فارغ کیا جارہا ہے تاہم، جاتے جاتے اگر میری یہ بات ہی مان لی جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے رضاربانی سے بہتر کوئی امیدوار نہیں ہے، جبکہ آئین کی بالادستی کے لیے ہم اپنا ایک وزیراعظم بھی نااہل کرواچکے ہیں جبکہ قانون کی حکمرانی کے لیے ہم سب مل جل کر ہی دونوں ہاتھوں سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ مفید اور مفت مشورے آج کل ہمسایہ ملک بھارت میں اداکاروں پر خاصا برا وقت آیا ہوا ہے۔ ایک تو یہ کہ اگلے روز سنجے دت کی طرف سے اپنی 5سالہ سزایابی ختم کرنے کی درخواست وہاں کی سپریم کورٹ نے مسترد کردی ہے اور دوسرے سلمان خان عرف دبنگ خاں کے خلاف ایک مقدمہ ٔ قتل میں فردجرم عائد کردی گئی ہے جن پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے 2002ء میں سڑک پر سوئے ہوئے ایک شخص کو گاڑی کی ٹکرمارکر ہلاک کردیا تھا۔ چنانچہ سلمان خاں پر غیرارادی قتل کا مقدمہ چلے گا اور اگر ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں دس برس کی سزاہوسکتی ہے۔ سلمان خاں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ بھارت میں آئے دن اداکاروں پر کوئی نہ کوئی عذاب آیا رہتا ہے۔ ابھی پچھلے ہی دنوں کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے متعدد اداکاروں اور اداکارائوں کو پولیس نے دھر لیا اور بعض ابھی تک جیل کی ہوا کھارہے ہیں، ہماری مانیں تو یہ لوگ اس ظالم ملک کو چھوڑ کر پاکستان آجائیں جہاں اگر کوئی جرم کسی اداکار یا اداکارہ سے سرزد ہوبھی جائے تو ایک فون کال پر اس کی جان چھوٹ سکتی ہے ! آج کا مطلع بچھاتا کیا کوئی اس کو، بچھونا ہی کچھ ایسا تھا نہ ہونے کے برابر اپنا ہونا ہی کچھ ایسا تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved