تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     13-11-2021

مہمان روح کی فریاد

مہمان کی عزت اور خدمت ہمارے دینی فرض کے علاوہ معاشرتی اقدار بھی ہے۔ مہمان چاہے امیر ہو یا غریب‘ دور کا ہو یا نزدیک سے آ رہا ہو‘ اُن لوگوں کیلئے ہمیشہ سے قابلِ احترام ہوتا ہے جنہیںدین اور مذہب کا پڑھا ہوا سبق یاد رہتا ہے۔ اسی طرح کی ایک مہمان روح‘ جواس دنیا میں آنے والی تھی‘ 16 جون 2013ء کو اپنی ماں کے ساتھ ہی‘ اس دنیا میں آنے سے پہلے‘ دفنا دی گئی۔ لاہور کے ماڈل ٹائون میں سرکاری اہلکاروں کی بربریت کا نشانہ بننے والی تنزیلہ کی معصوم اور مظلوم بیٹی بسمہ‘ آٹھ برس بعد‘ ایک بار پھر سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی پبلک سکول کے شہید بچوںکے والدین کے درد کو محسوس کرتے ہوئے لئے جانے والے از خود نوٹس سے حوصلہ پا کر لاہور کی سڑکوں پر چیخ و پکار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
وہ منظر کس نے نہیں دیکھا ہو گا کہ 8 سال قبل جب اس کی ماں اور پھوپھو کے کفن میں لپٹے جنازوں کو گھر سے اٹھایا جا رہا تھا تو وہ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر انتہائی بلند آواز میں چیختے ہوئے یہ پوچھے جارہی تھی ''میری مما کو کیوں مارا؟ میری ماں کا کیا قصور تھا؟ میری پھوپھو کو کیوں مارا؟ ان کا کیا قصور تھا؟‘‘ جس جس نے بھی ان چیخوں کو سنا‘ وہ ساکت ہو کر رہ گیا۔ آج بھی جب یہ منظر ٹی وی چینلز وغیرہ پر دیکھنے کو ملتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بطورِ مسلم‘ ہمارا یہ فرض ہے کہ ''سچ کا کھل کر اظہار کرو‘ بھلے یہ لوگوں کو تلخ لگے اور ان کی ناراضی کا سبب بنے‘‘۔ میں آج دست بستہ آپ سے پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ کیا ماڈل ٹائون میں جیتے جاگتے چودہ معصوم افراد کو قتل نہیں کیا گیا تھا ؟
پوری دنیا میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کبھی برطانیہ جیسے ملک میں ٹیوب سٹیشن کا واقعہ پیش آتا ہے تو کبھی امریکا میں نائن الیون کا طوفان امڈآتا ہے، کبھی ماسکو جیسے شہر میں خون کی ندیاں بہہ جاتی ہیں تو کبھی سعودی عرب، عراق اور ایران کو بم دھماکوں اور قتل عام جیسے زخم تڑپانے لگتے ہیں۔ ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ دنیا کا کون سا خطہ ہے جو دہشت گردی سے مکمل محفوظ رہا ہے؟ آج دہشت گردی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ پہلے القاعدہ اور اب داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں دنیا کے کئی براعظموں میں اپنا وجود منوا چکی ہیں۔ مگر دہشت گردی صرف یہی نہیں ہے‘ نہتے افراد پر گولیاں چلانا، گولیاں چلانے کا حکم دینا، اس سارے آپریشن کی نگرانی کرنا‘ یہ سب کچھ بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ افسوس تب ہوتا ہے جب ایسے شناسا و دیدہ ہاتھوں اور چہروں کو قانونی گرفت میں نہیں لایا جاتا، جب انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے مظلوموں کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، جب انصاف کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیا جاتا ہے اور جو انصاف مانگ رہے ہوں‘ انہیں دھتکارا جاتا ہے۔
لاہور میں مرکز منہاج القرآن کے مرکزی دروازے کے آگے شازیہ اپنی حاملہ بھابھی تنزیلہ کے ساتھ خالی ہاتھ کھڑی تھی جب قوم کی ان نہتی بیٹیوں کو گولیوں کی بارش برسا کر شہید کیا گیا۔ اس سے قبل پولیس افسران سمیت سرکاری ہرکارے ان خواتین سے کئی منٹ تک تکرار کرتے ہوئے انہیں دیکھ رہے تھے‘ اور تنزیلہ بی بی کی حالت بھی سب کے سامنے تھی۔ یہ بندوق بردارکسی دوسری دنیا سے تو نہیں آئے تھے کہ انہیں یہ اندازہ ہی نہ ہو کہ مرکز کے مرکزی دروازے کے سامنے کھڑی عورت‘ جس پر یہ گولیوں کا برسٹ برسانے لگے ہیں‘ ایک نہتی، مظلوم اور بیمار عورت ہے‘ جس کے جسم میں ایک روح پرورش پا رہی ہے۔کرنے والوں نے جو کیا‘ سو کیا، کیا کسی ذمہ دار نے تنزیلہ اور شازیہ کے گولیوں سے چھلنی جسم نہیں دیکھے؟ آرمی چیف کی مداخلت پر درج ہونے والی ایف آئی آر آج تک سرد خانے میں کیوں پڑی ہے؟ آج تک اس کیس کا فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا؟ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ آٹھ برسوں سے تنزیلہ بی بی کی ننھی بیٹی بسمہ کی لاہور کی سڑکوں اور عدل کے ایوانوں کے در و دیوار سے ٹکراتی چیخیں اور فریادیں صدا بصحرا رہیں گی ؟ کیا کبھی ننھی روح سمیت پندرہ شہدا کا کیس منصفوں کی توجہ حاصل کر سکے گا؟
کیا ہم سب‘ جو اس قتلِ عام کے چشم دید گواہ ہیں‘ سے روزِ محشر ان مقتولوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہو گی؟ ہم سب نے بھی ٹی وی سکرینوں پر یہ مناظر لائیو دیکھے تھے‘ ہم سب بھی اس کے گواہ ہیںاور اگر یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے اسے دبانے یا چھپانے کی کوشش کر یں گے‘ اس سے نظریں چرائیں گے‘ معمولی انسانوں کا قتل سمجھ کر اس کیس کو بھول جائیںگے تو پھریقین کیجئے کہ ہم سب اﷲ کے ہاں ان قتل ہونے والی روحوں کی فریاد کے مقابل برابر کے مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ نہتے افراد کو گولیوں سے بھون ڈالنے والوں کے خلاف اس ملک کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ جب سانحہ ماڈل ٹائون پیش آیا تو کس کی حکومت تھی؟ پنجاب کی زمامِ کار کس کے ہاتھ میں تھی؟ انسپکٹر جنرل پولیس کون تھا؟ یہ آپریشن کس نے لیڈ کیا؟ گولیاں کس کے حکم پر چلائی گئیں؟ یہ سب باتیں تو اب پوشیدہ یا مخفی نہیں ہیں‘ سب کچھ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے‘ اس کے باوجود کیس پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود انصاف کے لیے اٹھنے والی یہ آوازیں تب تک بلند ہوتی رہیں گی جب تک انصاف ہوتا نظر نہیں آ جاتا۔
کچھ آوازیں سرگوشیاںکرتی ہیں کہ ماڈل ٹائون کے ان چودہ شہدا کے خون کا تصفیہ کر لیا گیا ہے۔ اگر ایسی کوئی دستا ویز ہے تو اسے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا تاکہ ہمارے جیسے لاکھوں بے خبر لوگ یہ دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھ جائیں۔ ہمیںکسی تنزیلہ‘ شازیہ یا مہمان روح کا قتل پریشان نہ کرتا رہے‘ ہماری آنکھوں کے سامنے سو کے قریب زخمیوں کے گولیوں سے چھلنی اور عمر بھر کے لیے معذور ہو جانے والے افراد کے چہرے نہ گھومتے رہیں، لیکن اگر ایسا نہیںہوا تو پھر وارثان سمیت قانون اور عدل کے ایوان اس زخم کو‘ اس نا سور کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔ یہ درد تواس وقت تک ہوتا رہے گاجب تک اس پر مرہم نہ رکھ دی جائے‘ جب تک یہ زخم مندمل نہ ہو جائیں‘ جب تک ہم انصاف کے ترازو کو مظلوموں کے حق میں جھکتا ہوا نہ دیکھ لیں۔
پاکستان عوامی تحریک کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے‘ ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کی جماعت کے لوگ اپنے شہدا سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتے‘ وہ زندگی بھر کیلئے اپاہج ہونے والے اپنے جا نثار ساتھیوں کے ضائع ہو جانے والے اعضا کی سوداگری نہیں کریں گے، اور بالفرض محال اگر وہ ایسا کرنا بھی چاہیں تو بھی ہمارا ملکی قانون اس کی ا جا زت نہیں دیتا۔ یہ مثال سب کے سامنے ہے کہ سپریم کورٹ نے گجرات سے رکن قومی اسمبلی عابد رضا کے خلاف دہشت گردی کی عدالت سے سیکشن سات کے تحت سنائی جانے والی سزا کے خلاف راضی نامہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے صاف کہہ رکھا ہے کہ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ مقدمہ واپس لاہور ہائیکورٹ بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ اس کیلئے ایک لارجر بینچ تشکیل دیتے ہوئے تین ماہ کے اندر اس کیس کی سماعت کی جائے۔ اب اس کیس کا کیا بنا‘ یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے‘ لیکن اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ بالفرض محال ڈاکٹر طاہر القادری اگر ماڈل ٹائون سانحے کے ملزمان سے کوئی صلح نامہ یا کوئی لین دین کرنا بھی چاہیں تو قانون‘ مذکورہ کیس میں عدالتی حکم کی رو سے‘ اسے تسلیم نہیں کرتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved