تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     02-12-2021

سعودی قرض کے پاکستانی معیشت پر اثرات

سعودی عرب سے قرض مل رہا ہے۔ یہ مثبت خبر ہے لیکن یہ طے کرنا باقی ہے کہ جن شرائط پر قرض مل رہا ہے ان کا ملکی معیشت پر کیا اثر ہو گا۔ سعودی ڈویلپمنٹ بینک نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے جوڈیل سائن کی ہے‘ وہ عوام کی توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ 2018ء میں سعودی عرب سے کی گئی چھ ارب ڈالر کی ڈیل موجودہ معاہدے سے کئی گنا بہتر تھی۔ سٹیٹ بینک میں تین ارب ڈالر رکھنے کے لیے شرحِ سود 4 فیصد رکھی گئی جو پچھلے معاہدے میں تقریباًسوا تین فیصد تھی حالانکہ شوکت ترین صاحب نے پریس کانفرنس میں یہی فرمایا تھا کہ شرحِ سود پچھلے معاہدے والی ہو گی۔ اس کے علاوہ سعودی حکومت 72 گھنٹوں کے نوٹس پر یہ رقم واپس لے جانے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ پچھلے معاہدے میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔ اس سال ملنے والا قرض ایک سال کے لیے ہے۔ 12 ماہ مکمل ہونے کے بعد توسیع نہیں ہو سکے گی جبکہ پچھلے معاہدے میں توسیع کی گنجائش موجود تھی۔ سود کی ادائیگی وقت پر نہ کرنے کی صورت میں معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ اس معاہدے کو آئی ایم ایف سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اگر پاکستان آئی ایم ایف پروگرام سے نکلتا ہے تو سعودی قرض بھی فوراً واپس کرنا ہو گا۔ کسی اختلاف کی صورت میں سعودی قانون لاگو ہو گا۔
حالیہ معاہدے نے پاکستان کے معاشی مستقبل کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ رائے عام ہو رہی ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل زیادہ روشن نہیں ہے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ رہا ہے‘ اخراجات پر قابو نہیں پایا جا رہا اور آمدن کے ذرائع بڑھنے کے بجائے محدود ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں قرض کی ادائیگی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر مزید قرض لے کر ہی پچھلے قرض ادا کیے جائیں گے۔ اگر کسی ملک یا ادارے نے مزید قرض دینے سے انکار کر دیا یا حالات اس نہج پر آتے ہوئے دکھائی دیے تو سعودی عرب 72 گھنٹوں کے نوٹس پر تین ارب ڈالرز کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے جس سے پاکستان میں ڈالر کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔ پچھلی مرتبہ جب ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی تو پاکستان نے چین سے قرض لے کر سعودی عرب کو ادائیگی کر دی تھی۔ ابھی تک وہ رقم چین کو واپس نہیں کی گئی۔ ایسی صورتحال میں اگر سعودی عرب نے قرض واپس مانگ لیا تو چین سے مزید قرض لینا دشوار ہو سکتا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چین پچھلے قرضوں کی واپسی کے لیے سٹریٹیجک سطح پر دبائو ڈال رہا ہے۔
پچھلے تین ماہ میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں تقریباً چار ارب ڈالرز کی کمی واقع ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے پچھلے تین ماہ میں سکوک بانڈز کی ادائیگی کی ہے جو زرمبادلہ میں کمی کا باعث بنی ہے۔ یہ سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں۔ پاکستان کو تقریباً سالانہ 20 بلین ڈالرز کے قرض ادا کرنا ہیں۔ موجودہ مالی سال کے شروع میں وزیراعظم نے ای سی سی اور وزارتِ خزانہ کا ہنگامی اجلاس بلایا تھا جس کا ایجنڈا واجب الادا قرضوں کا شیڈول جاننا اور ادائیگی کے لیے منصوبہ بندی کرنا تھا۔ شاید حکومت آمدن کے ذرائع تلاش نہیں کر سکی اور قرضوں پر انحصار کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایک طرف آمدن نہیں ہو رہی اور دوسری طرف درآمدات پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ان حالات میں سعودی عرب سے ڈالرز کی آمد وقتی طور پر معاشی ٹھہرائو لانے میں مدد دے سکتی ہے لیکن یہ عمل دیر پا نہیں ہے۔ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً بائیس ارب ڈالرز ہیں جو سعودی عرب سے قرض ملنے کے بعد تقریباً پچیس ارب ڈالرز تک پہنچ سکتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تین ارب ڈالرز آخر کب تک معاشی سہارا دے سکیں گے؟ جن راستوں پر پاکستانی معیشت چلائی جا رہی ہے‘ وہ اس منزل کی طرف نہیں جا رہے جن کے خواب تحریک انصاف نے دکھائے تھے۔
اس کے علاوہ ایک شرط یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان کسی وجہ سے قرض ادا نہ کر سکا تو سعودی حکومت پاکستان کے کسی بھی اثاثے کو بیچ کر رقم وصول کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے کسی مخصوص اثاثے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے کہ سعودی حکومت ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے اور معاملات بہتر انداز میں حل ہوں لیکن ان شرائط پر ڈیل کرنے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان پر اعتمادکو ٹھیس پہنچی ہے اور بھارت کو ایک مرتبہ پھر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2018ء میں ملنے والے قرض کی مدت میں توسیع نہ ہونے کی وجہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب کی خاموشی پر ہونے والی اعلیٰ سطحی تنقید تھی۔ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ساڑھے تین ارب ڈالر تجارت کے بدلے بھارت کے ساتھ27 ارب ڈالر کی تجارت خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔اُس وقت بھی کمزور معیشت کی قیمت پاکستان نے چکائی تھی اور آج بھی چکا رہا ہے۔
تنازعات کی صورت میں سعودی قوانین کا اطلاق ہونے کی شرط نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان کے انصاف کے نظام پر بھروسہ نہیں ہے۔ ماضی میں بین الاقومی مالیاتی ادارے اور قرض دینے والے ممالک اپنے معاہدوں میں اس طرح کی شرائط کا ذکر کرتے رہے ہیں جن پر پاکستان تحفظات کا اظہار کرتا آیاہے۔ اب سعودی عرب کی جانب سے ان تحفظات کے اظہار نے مغربی ممالک کی رائے کو تقویت دی ہے۔ میں اس حوالے سے ماضی میں اپنے کالموں میں ذکر کرتا رہا ہوں کہ مضبوط معاشی نظام کے لیے مؤثر انصاف کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔
سعودی قرض کی شرائط کمرشل اصولوں کے عین مطابق معلوم ہوتی ہیں حالانکہ آج سے پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کمرشل بنیادوں کے بجائے دوستی کے اصولوں کے تحت قائم ہیں۔ سعودی عرب کے کرائون پرنس نے پاکستان کے دورے پر فرمایا تھا کہ آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں لیکن عملی میدان میں حالات مختلف دکھائی دے رہے ہیں‘ جہاں ریلیف دینے کے بجائے چاروں اطراف سے راستے تنگ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے سعودی عرب کے گزشتہ دورے کے اختتام پر فرمایا تھا کہ سعودی عرب کا دفاعی تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ ذرائع کے مطابق‘ مالی شرائط کے علاوہ دفاعی معاملات بھی طے کیے گئے ہیں۔ جنہیں منظرِ عام پر لانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے سعودی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ یمن جنگ میں سفارتی اور دفاعی سطح پر ان کا ساتھ دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں بھی یمن جنگ میں شمولیت کی شرط پر ڈیڑھ ارب ڈالر عنایت کیے گئے تھے اور پہلے پاکستان نے ہامی بھر لی لیکن بعدازاں فرقہ وارانہ بدامنی کے پیش نظر اس جنگ میں شمولیت سے انکار کر دیا جس کے باعث شریف فیملی کے شاہی خاندان کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے جو آج تک بہتر نہیں ہو سکے۔موجودہ حکومت اس حوالے سے کیا حکمت عملی طے کرے گی‘ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔
حکومت شادیانے بجا رہی ہے اور اسے سفارتی کامیابی سے جوڑ رہی ہے۔ وزرا ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو اس قرض سے فائدہ ہو گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ قرض کا معاہدہ ہونے کے باوجود بھی مارکیٹ پُر امید کیوں دکھائی نہیں دے رہی؟ جس تیزی کی توقع کی جارہی تھی اس حوالے سے کوئی مثبت خبر موصول نہیں ہو رہی۔ ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے‘ سٹاک مارکیٹ اتار چڑھائو کا شکار ہے‘ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی قوتِ خرید کم سے کم تر ہو رہی ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی ہیں اور سرمایہ کار خطرے کو بھانپ چکے ہیں۔ سرکار سے گزارش ہے کہ وہ معاملات کی حساسیت کا ادراک کرے اور ملکی سلامتی پر سوال اٹھانے والی شرائط کے خاتمے کا مطالبہ کرے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved