تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     05-12-2021

یہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

دسمبر سال کا آخری مہینہ ہے، اس کے فوراً بعد جنوری آ جاتا ہے۔ نئے سال کا پہلا مہینہ امیدوں کو پھر زندہ کر دیتا ہے۔ گزشتہ سال کی تلخیاں بھلا کر نئے سال میں خوشیاں تلاش کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے، یا یہ کہیے کہ گزرے ہوئے کل سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی نئی امنگ جنم لینے لگتی ہے کہ مومن ماضی میں پھنس کر نہیں رہ جاتا۔ زندگی پچھتاوے کا نام نہیں ہے، ماضی سے سیکھ کر مستقبل سنوارنے کا نام ہے۔ گزرے ہوئے دِنوں کے بجائے آنے والے دِنوں کی طرف متوجہ رہنا ہی زندہ افراد اور اقوام کا شعار ہے لیکن گزرے ہوئے دِنوں اور ان سے وابستہ یادوں کو بھلایا بھی نہیں جا سکتا۔ ان کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنے کا اپنا لطف ہے۔ یہ قدم قدم ساتھ دیتی رہیں تو غلطیوں کو دہرانے سے بچا جا سکتا ہے۔ بار بار ایک ہی یا ایک جیسی غلطیوں کا ارتکاب کرنے والے آگے بڑھ نہیں پاتے۔ اپنے کھودے ہوئے گڑھوں میں سے ہی کسی نہ کسی میں گر کر کیفر کردار کو پہنچ جاتے ہیں۔ افراد ہوں یا اقوام، سب کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتا ہے کہ قوم افراد کے مجموعے کا نام ہے۔ اگر فرد کی آنکھیں کھلی ہیں، تو سمجھیے قوم کی آنکھیں کھلی ہیں۔ ایک ہزار اندھے مل کر بھی اندھے ہی رہیں گے۔ بینائی ان کی گرفت میں نہیں آئے گی۔
میری نسل کے لوگ‘ جنہوں نے 1971ء، یعنی پچاس سال پہلے کا دسمبر دیکھا ہے، وہ سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے کو بھول نہیں سکتے۔ ان کی نظروں کے سامنے پاکستان دو لخت ہوا، اور مشرقی پاکستان نے اپنا نام بنگلہ دیش رکھ لیا، یا اُسے اس نام کے حوالے کر دیا گیا۔ جب ہم نومبر کے مہینے سے گزر رہے تھے، بلکہ یہ کہیں تو غلط نہ ہو گا کہ دسمبر کے پہلے پندرھواڑے میں سانس لے رہے تھے تو سان گمان میں بھی نہ تھا کہ 16 دسمبر متحدہ پاکستان کا آخری دن ہو گا۔ اس کے بعد مشرقی اور مغربی حصے میں الگ الگ سورج طلوع ہوں گے۔ دونوں کا آسمان ایک رہے گا نہ سورج اور نہ چاند۔ آسمان مختلف ہو گا، سورج کی روشنی اور چاند کی چاندنی بھی الگ الگ ہو جائے گی۔ اُس وقت سوشل میڈیا تو پیدا ہی نہیں ہوا تھا، الیکٹرانک، بلکہ پرنٹ میڈیا بھی آج جیسا نہیں تھا۔ موبائل فون تھے، نہ انٹرنیٹ، ٹی وی چینل بھی ایک تھا، پی ٹی وی، سرکار کی ملکیت۔ سرکار جو دکھاتی تھی، وہ دیکھ لیا جاتا، جو سنانا چاہتی وہ سن لیا جاتا۔ اخبارات میں سے بہت کم ایسے تھے، جنہیں آزاد کہا جا سکتا تھا۔ خبریں رک رک کر اور چھن چھن کر آتی تھیں۔ مشرقی پاکستان میں جو قیامت گزر رہی تھی، مغربی پاکستان اس سے یکسر نہیں تو بہت بڑی حد تک بے خبر تھا۔ وہاں جاری فوجی کارروائی پر اطمینان کا سانس لینے والے لاکھوں تو کیا کروڑوں میں تھے۔ مغربی حصے کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو اس کے ذریعے پاکستان کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتے تھے، اور یہی یقین اپنے حامیوں کو دِلا رہے تھے۔ جماعت اسلامی کے نوجوان افواجِ پاکستان کے دست و بازو بنے ہوئے تھے، ایئر مارشل اصغر خان کی کوئی سننے پر تیار نہ تھا۔ انہی جیسی آوازیں چھوٹے صوبوں سے بھی سنائی دے جاتی تھیں، لیکن ان کو نظر انداز کرنا ہی حب الوطنی کی دلیل تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی پر تو باقاعدہ پابندی لگائی جا چکی تھی۔ یہاں تک کہ جب سرنڈر کر دیا گیا تو نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات میں، یہ خبر چھپوائی گئی کہ... بھارتی فوجیں ایک معاہدے کے تحت ڈھاکہ میں داخل ہو گئیں... جیسے ایک ملک کی کرکٹ ٹیم دوسرے ملک میں دوستانہ میچ کھیلنے پہنچ گئی ہو۔ صدرِ پاکستان بن جانے والے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان قوم کو یہ مژدہ سنا رہے تھے کہ جنگ ابھی جاری ہے۔ کسی ایک مورچے سے پیچھے ہٹنے کا یہ مطلب نہیں کہ جنگ ہار دی گئی ہے (یا ختم ہو گئی ہے)۔ فوجی حکومت کی طرف سے نئے آئین کا مسودہ بھی جاری کر دیا گیا تھا، یعنی ملک کی قیادت کا جو بوجھ سر پر اٹھایا گیا تھا، اُسے ''اتار پھینکنے‘‘ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن قوم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی، جب خبر پھیلنا شروع ہوئی کہ ہتھیار ڈالنے کو جنگ بندی کا نام دیا جا رہا ہے، سورج مشرق میں غروب ہو گیا ہے۔ طوفان اٹھ کھڑا ہوا، فوجی جوان بھی بپھر گئے تو جنرل یحییٰ اور ان کے حواریوں کو پتہ چلا کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انہیں دن میں تارے نظر آ گئے تھے، ان پر زمین تنگ ہو گئی تھی۔
مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا، نہ ہوتا اگر انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والوں کو کسی نہ کسی طور شریک اقتدار کر لیا جاتا۔ سرنڈر کے بعد آئین بنائے بغیر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو جس طرح چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا کر اقتدار منتقل کیا گیا، اگر سرنڈر سے پہلے (یا بعد) یہی سلوک شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ کر لیا جاتا تو تاریخ کا رخ مختلف ہو سکتا تھا۔ شیخ صاحب کو جب گرفتار کر کے مغربی پاکستان لایا، اور ان پر مقدمہ چلایا گیا، تو بھی ہوش کے ناخن لیے جا سکتے تھے۔ ان سے مذاکرات کیے جاتے تو وہ کچھ نہ ہو پاتا جو بعد ازاں دیکھنا پڑا۔ اس طرح کے سوالات اور خیالات دِل میں اٹھتے رہتے ہیں، دسمبر کا مہینہ آتے ہی ان میں شدت پیدا ہو جاتی ہے ؎
ناکامِ تمنا دِل اس سوچ میں رہتا ہے
یہ ہوتا تو کیا ہوتا، یہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آیا کرتا۔ جو ہو چکا، سو ہو چکا، اس کے بعد ارد گرد نظر پڑتی ہے تو یہ سوال سامنے آن کھڑا ہوتا ہے کہ آج جو کرنا چاہیے وہ کیا جا رہا ہے؟ ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے حصے کا کام کرنے میں لگا ہوا ہے یا پھر ہم ایک دوسرے کے چھابے میں ہاتھ ڈالنے ہی کو ''جوانمردی‘‘ قرار دے رہے ہیں؟ ایک دوسرے ہی کو دشمن بنا رہے ہیں یا دشمن سمجھ کر وارد کرنے کو جہاد سمجھ رہے ہیں؟ سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کی جلی ہوئی لاش چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہے کہ تم اپنی آستین میں اپنے ہی ہم وطنوں کو ڈسوانے کے لیے جو سانپ پالتے رہے ہو، یہ اب مرضی کے مالک ہو رہے ہیں، آخر تم آستین جھاڑ کیوں نہیں دیتے، پالتو سانپ کچل کیوں نہیں دیتے، اپنی ہی تاریخ سے سبق کیوں حاصل نہیں کرتے؟ کہا تو یہی جاتا ہے، اور اس پر زور بھی دیا جاتا ہے کہ طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری ہونی چاہیے۔ اُسے ہی یہ حق حاصل ہے کہ اپنی بات اپنے شہریوں سے منوائے، اور اپنا حکم ان پر چلائے، طاقت کو قانون بنانے والوں کو ایسی پٹخنی دے کہ تا حیات ان کا سر چکراتا رہے، لیکن دیکھنے کو مختلف مناظر ملتے ہیں۔ جتھے منظم ہوتے، اپنے آپ کو خود سر بناتے، اپنے آپ کو خون کی ہولی کھیلنے کے لیے ورغلاتے، اور اپنے آپ کو جنت کی چابیاں تھماتے چلے جاتے ہیں۔ مصلحتوں اور ضرورتوں کے تحت ان سے استفادہ کرنے والے بھی نظر نہ آنے کے باوجود نظر سے بچ نہیں پاتے۔ اپنے اپنے الوئوں کو ان الوئوں کے ذریعے سیدھا کیا جاتا ہے، یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ الوئوں کو بستیاں نہیں ویرانے بھاتے ہیں، وہ بستیوں کو ویرانے بنانے ہی کو اپنا ''قومی فریضہ‘‘ سمجھتے ہیں۔
(یہ کالم روزنامہ ''دُنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved