تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     09-12-2021

منزل ابھی دور ہے!

آئیڈیل کیا ہے؟
ایک ایسا معاشرہ جس میں انسانی جان اور آبرو کی حرمت قائم ہو۔ ایک ایسی ریاست جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ قانون آئین کی کھوکھ سے جنم لیتا ہے۔ جہاں مذہب، غیرت اور قومی مفاد جیسے پاکیزہ تصورات کو جان لینے اور بے آبرو کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، اسے مثالی معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔ مثالی تو دور کی بات اسے معاشرہ کہنا ہی غلط ہے۔
جہاں آئین شکنی کو ٹھنڈے پیٹوں قبول کیا جائے اور نظامِ عدل اس کی توثیق کرے، اسے ریاست قرار دینا مشکل ہے۔ ریاست ایک سماجی معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے جسے آئین کہتے ہیں۔ ریاستی ادارے اگر آئین کی پاسداری نہ کریں تو قانون کے احترام کا کلچر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پھر صرف وعظ کیا جا سکتا ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر پابندی ہے مگر چاروں طرف سے وعظ سنائی دے رہے ہیں۔ اب تو کان پک گئے اور سماعتیں بے حس ہو گئیں۔
نوشتۂ دیوارہے کہ اب رفو سے کام چلنے والا نہیں کہ لباسِ زیست پر پیوند کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ تارتار ہوچکا۔ لباس تو محض دھوکہ ہے ورنہ جسدِ وطن کا کون سا عضو ہے کہ برہنہ نہیں ہے۔ معیشت پہ نزع کا عالم ہے۔ سیاست بے توقیر ہے۔ انصاف کا سر ننگا ہے۔ نظمِ اجتماعی مفلوج ہے۔ لے دے کر کچھ سماجی اقدار باقی تھیں۔ اب ان کا بھرم بھی ختم ہوا۔ تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجا کجا نِہَم؟ مثالی تو دور کی بات، اب ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم کوئی معاشرہ ہیں۔ یہاں کوئی ریاست بھی ہے۔
یہ تشکیلِ نو کا کام ہے۔ نئی تعمیر، نیا جنم۔ سماج مگر سنگ و خشت کی عمارت کی طرح نہیں ہوتا کہ ایک دن گرا دی جائے اور دوسرے دن نئی دیوار اٹھا دی جائے۔ سماج کی تعمیر تدریج سے ہوتی ہے۔ دیوار گرانے سے پہلے کوئی عارضی ستون کھڑا کیا جاتا ہے کہ چھت کو سہارا ملا رہے۔ مکینوں کے سروں پر اچانک نہ گر پڑے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ سب لوگوں کوایک دن گھروں سے نکال کر چٹیل میدان میں لاکھڑا کیاجائے۔
انقلاب کا تصور ایک دھوکہ ہے۔ معاشرے دن رات میں نہیں بدلتے۔ جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ سماج کو نہیں جانتے یا جانتے بوجھتے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ قطرے کو گہر ہونے تک ایک عمر چاہیے۔ یہ ایک صبرآزما کام ہے۔ انقلاب انتقام کا ایک ذریعہ یا جذبات کی عارضی تسکین ہے۔ زندگی کی حقیقتیں بہت جلد سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ انقلاب پھران کا سامنا نہیں کرسکتا۔ یہی سبب ہے کہ اللہ کا کوئی پیغمبر کبھی انقلابی نہیں ہوتا۔ حضرت نوحؑ کی طرح، ساڑھے نو سو سال تک بھی انتظار کرتا ہے اگر اللہ مہلتِ عمر دے۔ صرف دعوت دیتا ہے کہ سوچ اور دل بدل جائیں‘ ورنہ کیا مشکل تھی کہ جتھا بناکر اقتدار پر قبضہ کرلیا جاتا۔ پیغمبر جانتے ہیں کہ ان کی منزل اقتدار نہیں، فکری تبدیلی ہے جو سیاست و اقتدار سے نہیں آتی۔
یہی معامہ ریاست کا بھی ہے۔ ایک سماج میں اگر آئین شکنی کو قبولیتِ عام حاصل ہوجائے۔ یہاں تک کہ عوام کے ساتھ اہلِ دانش بھی آئین کیلئے حساسیت کھو بیٹھیں۔ اہلِ سیاست آئین شکنوں سے شراکتِ اقتدار کو کامیاب سیاست قرار دیں۔ سیاسی جماعتوں کا داخلی نظم جمہوری روایات سے ہم آہنگ نہ ہو۔ عوام لاکھوں کی کرپشن کوآئین شکنی سے بڑا جرم سمجھیں توریاست دنوں میں مثالی نہیں بن سکتی۔ پھر محض رفوگری سے کام نہیں چلتا۔
تعمیرِ معاشرہ اور اصلاحِ ریاست دونوں صبرآزما کام ہیں۔ یہ تدریج کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کبھی ایک محاذپر کچھ کامیابی، کبھی دوسرے محاذ پر؛ تاہم اس کام کی ایک ترتیب ہے۔ مصلحین کی زندگیوں سے سیکھا جاسکتا ہے کہ کامیاب اختتام کیلئے آغاز کہاں سے کیا جائے۔ یہ ارتقا ہے۔ ارتقا کا تعلق سوچ اور ذہنی تبدیلی سے ہے۔ انقلاب کا تعلق جذبات سے ہے۔ ارتقا سوچ کوپختہ کرتا ہے۔ انقلاب کا تصور ہیجان پیداکرتا ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ فردکی شخصیت کا ایک سانچہ ہوتا ہے۔ وہ جب کسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے تواس کا اظہار ہرشعبۂ زندگی میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاست میں تویہ ہیجان خیز ہواور مذہب میں منطقی۔ جولوگ سیاست میں ہیجان کوفروغ دیتے اور مذہب میں اعتدال کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں اس تضاد پرغور کرنا چاہیے۔ سیاست میں آپ آگ لگانے کی ترغیب دیں اور مذہب میں پانی ڈالنے کی تویہ ممکن نہیں۔ لوگ سیاسی معاملات پرقلم اٹھاتے ہیں توکہرام برپا کردینا چاہتے ہیں۔ مگر اگلے کالم میں اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ مذہبی معاملات میں عوام کہرام کیوں برپا کرتے ہیں۔
پاکستان کو مثالی معاشرہ اور ریاست بننے سے پہلے، سماج اور ریاست کے بنیادی مطالبات کو پورا کرنا ہے۔ آئیڈیل کی منزل ابھی دور ہے۔ سیالکوٹ کے حادثے نے ہمیں جھنجھوڑا ہے۔ یہ ردِ عمل اس بات کا قطعی اظہار نہیں کہ ہم بدل گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذمت کے شور میں، میں نے کہیں نہیں دیکھا کہ کسی نے اس حادثے کے حقیقی اسباب کوتلاش کرنے کی شعوری کوشش کی ہو۔ یہ ایک ایسا ہی ردِعمل ہے کہ 'اسلام میں دہشتگردی کیلئے کوئی جگہ نہیں۔
اسی لیے، میں ابھی حقیقی تبدیلی کے امکانات نہیں دیکھ رہا۔ نہ سماج کے معاملے میں نہ ریاست کے۔ سیالکوٹ کے حادثے پر ہمارا ردِ عمل ان نقصانات کے خوف سے ہے جو اس کے نتیجے میں ہمیں اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔ جیسے عالمی برادری کا غصہ اور اس کا امکانی اقتصادی نقصان۔ اسی طرح کا ردِ عمل ہم جہادی گروہوں کے معاملے میں دکھا چکے جب فیٹف کا چیلنج در پیش ہوا۔ اُس معاملے میں کہیں حقیقی تبدیلی کے آثار ہیں نہ اِس معاملے میں کوئی امکان ہے۔
مروجہ تعبیرِ مذہب پر نظرثانی اورآئینی بالادستی کے بغیر، سماجی اصلاح یا ریاستی اداروں کی تشکیلِ نو کا کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پہلے کام کے بغیر سماج نہیں بدل سکتا اوردوسرے کے بغیر ریاست۔ سماج اور ریاست کواس پرآمادہ کرنا آسان نہیں۔ یہ ایک صبرآزما کام ہے۔ اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے، یہ میں نہیں جانتا؛ تاہم یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کام چند برسوں میں ہونے سے تورہا۔ ابھی تک تم ہم یہ جان ہی نہیں سکے کہ خرابی کہاں ہے؟
مجھے آج کے اور 1970ء کے حالات میں مماثلت نظر آتی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ نتائج میں بھی مماثلت ہو۔ اچھا نتیجہ تو یہ ہے کہ سماج اور ریاست کے ذمہ داران اس مماثلت کو محسوس کرتے ہوئے سماجی اصلاح کی ضرورت کو مان لیں اورآئین کی حکمرانی کو قبول کرلیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ملک میں کوئی ایسی جماعت موجود نہیں تھی جودونوں صوبوں کے عوا م میں مقبول ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک تقسیم سے بچ سکتا تھا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مقبول قومی جماعتوں کو کمزور نہیں کرنا چاہیے کہ بحرانوں میں وہی ملک کو متحد رکھ سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عملاً کیا ہورہا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کریں تو مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت تو دعا کی جا سکتی ہے یا اپنے حصے کا کام۔ ایک لکھے والے کا کام یہی ہے کہ وہ سماج اور ریاست کو درپیش مسائل کی تشخیص کرتا اور اپنی سمجھ کے مطابق حل تجویز کرتا رہے؛ تاہم یہ جان لینا چاہیے کہ یہ ایک صبر آزما کام ہے۔ مثالی تو دور کی بات، ہمیں پہلے معاشرہ بننا ہے اور ریاست بھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved