تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     20-12-2021

دُکھی رہنے کا ’’فن‘‘

بہت سے فنون ایسے ہیں جو پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ ہم اگر بدنام ہیں تو بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم کسی بھی فن کو اپنانے میں عجلت پسندی کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ دنیا دیکھتی ہے اور پھر دیکھتی ہی رہ جاتی ہے۔ آج کی دنیا میں انسان اپنے وجود کو چھوڑ کر باقی تمام معاملات میں ایسا الجھا ہوا ہے کہ اب نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ اگر کبھی حالات پلٹا کھائیں اور تھوڑی بہت گنجائش نکل بھی رہی ہو تو ہم اپنے ہاتھوں سے اُس گنجائش کو یوں ختم کرتے ہیں کہ ایک دنیا تماشا دیکھتی ہے اور مزے لینے کے ساتھ ساتھ عبرت بھی پکڑتی ہے۔ ویسے تو خیر دنیا بھر میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے وجود کو بالائے طاق رکھ کر باقی دنیا کے غم میں ڈوبے رہتے ہیں اور یوں اپنی زندگی کو روگ لگا بیٹھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دُکھی ہونے کا فن ہمیں یوں راس آیا ہے کہ اب یہ مرتے دم تک کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ آج کا ہمارا معاشرہ حقیقت پسندی اور عمل نوازی سے ایسا فاصلہ اختیار کیے ہوئے ہے کہ دیکھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ محظوظ ہوا جائے یا شدید کرب محسوس کیا جائے۔ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ اب کسی بھی بحرانی کیفیت سے دُکھ کم پہنچتا ہے اور محظوظ ہونے کی گنجائش زیادہ نکلتی ہے! سب دُکھ سے دور بھاگتے ہیں اور ہم ہر طرح کے اور ہر سطح کے دُکھ کو پوری وسعتِ قلب کے ساتھ اپنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جب کسی بھی پریشانی کو مطلب کا ٹھکانہ نہیں ملتا تو ہماری طرف چلی آتی ہے۔ ناصرؔ کاظمی نے کہا تھا ؎
اِس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں؟
آ اے شبِ فراق! تجھے گھر ہی لے چلیں
وہ ناصرؔ کاظمی تھے جنہیں شبِ فراق سے مخاطب ہونے اور اُسے ساتھ چلنے کی دعوت دینے کا موقع مل گیا تھا۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ شبِ فراق اپنے اندھیروں میں شریک کرنے کے لیے ہمیں ڈھونڈتی پھرتی ہے۔ اور جب یہ ملاپ ہوتا ہے تو وہی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا ع
آ ملے ہیں سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
دُکھی ہونے کا فن بھی خوب ہے۔ جو اس فن میں مہارت حاصل کرنے میں کامیاب رہا‘ اُسے پھر کسی اور کیفیت میں مزا نہیں آتا۔ یہ سُرور کی ایک الگ ہی دنیا ہے۔ جو اِس سمندر میں غوطہ زن ہوا پھر اُسے کوئی اور سمندر نہ بھایا۔ اپنے وجود کو چھوڑ کر باقی دنیا بلکہ کائنات میں گم رہنے کا مزا وہی بیان کر سکتے ہیں جو اِس فن، رجحان اور روش کے عادی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھول جائیے تو پھر مزے ہی مزے رہ جاتے ہیں۔ سارا جھگڑا ہے تو بس اِسی بات کا ہے کہ ہم الجھے ہوئے ہوں، پریشانی سے دوچار ہوں۔ جب اپنے غموں کو بھول گئے تو پھر کون سا غم اور کون سی پریشانی؟ سچ یہ ہے کہ ہر دور کا انسان اپنے وجود سے بہت دور جاکر دوسروں کی زندگی اور اُس سے متعلق معاملات میں دلچسپی لیتا رہا ہے۔ مقصود کچھ اور نہیں، صرف یہ رہا ہے کہ اپنے غموں کے بارے میں سوچنے کی گنجائش نہ رہے۔ جب انسان دوسروں کے جھگڑوں میں پڑتا ہے، اُن کے مسائل حل کرنے پر مائل ہوتا ہے تو اپنا ہر دُکھ بھول جاتا ہے۔ کیسے نہ بھولے؟ دل میں اتنی گنجائش کہاں ہوتی ہے کہ اپنے غم بھی پالے جائیں اور دوسروں کے دُکھڑے بھی سنبھال کر، سینت سینت کر رکھے جائیں۔ نفسی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے وجود کو نظر انداز کرکے دوسروں میں گم رہنا ایک باضابطہ مرض ہے اور اِس کے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ایسے ماہرین کے علاج پر توجہ دی جائے۔ جس بات میں لوگ لذت محسوس کرتے ہوں اور اپنے غم بھول کر زندگی کی ہماہمی سے محظوظ ہوتے ہوں اُس کے بارے میں ایسی بات! واکر پرسی نے اِس موضوع پر خاصی وقیع کتاب بھی لکھی ہے۔ ''Lost in the Cosmos‘‘ نامی اس کتاب میں خاصے فلسفیانہ انداز سے اس نکتے پر بحث کی گئی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بھول کر باقی پوری کائنات میں یوں گم ہے کہ اب اُسے تلاش کرنا ایک بڑا دردِ سر ہے۔ واکر پرسی جیسے مفکرین اور مصنفین دراصل لوگوں کو اُس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں جو اُنہیں رنج و غم سے دور لے جاتی ہے۔ اپنا آپ بھول کر باقی دنیا کے بارے میں سوچتے رہنے کا بلکہ اُس کا روگ پالنے کا کیا مزا ہے، یہ بات وہی لوگ جانتے ہیں جو اِس عارضے میں مبتلا رہتے ہیں۔ سارے شہر کی فکر میں دُبلا ہوتے رہنے کا مزا تو قاضی جی سے پوچھئے۔ اپنے وجود سے متعلق اندیشہ ہائے دور دراز کو تیاگ کر دوسروں کی پریشانیاں کے مایا جال میں پھنسے رہنے سے انسان کو اور کچھ ملے نہ ملے‘ اپنے آپ کو بیشتر معاملات میں بری الذمہ قرار دینے کا جواز ضرور جڑتا ہے۔
دُکھی رہنے کے فن میں جنہوں نے مہارت حاصل کر رکھی ہے اُنہیں آپ ہمیشہ پُرسکون پائیں گے۔ سُکون اُن لوگوں کے لیے ہے ہی نہیں جو ہر وقت فکر مند رہتے ہیں کہ اپنے وجود کو کس طور مستحکم رکھا جائے، کس طرح اپنے معاملات کو اِس طور درست رکھا جائے کہ اپنا بھلا ہو اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچے۔ جب ایک بار اپنے آپ کو بھلاکر باقی دنیا میں گم رہنے کی عادت کو پروان چڑھالیا تو پھر کس پریشانی میں ہمت ہے کہ آپ کو لاحق ہو اور آپ کے سُکون کا تیا پانچا کرے۔ دنیا کا ہر انسان اپنے لیے ایک کمفرٹ زون تخلیق کرتا ہے اور اُسی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ کمفرٹ زون بنائے بغیر زندگی بسر کرنے والوں کو آپ صرف اور صرف پریشان پائیں گے۔ وہ کسی بھی بات سے پریشان ہوسکتے ہیں۔ کوئی معمولی سی بات بھی اُنہیں شدید الجھن سے دوچار کرسکتی ہے۔ کمفرٹ زون میں جینے والوں کو آپ پُرسکون پائیں گے۔ وہ کسی بھی ایسی ویسی بات کا نوٹس نہیں لیتے اور اپنے آپ میں گم رہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ ہیں جو اپنا کمفرٹ زون اپنی ذات سے باہر یا دور ہٹ کر قائم کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سکون پانے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ انسان اپنے سے آگے کسی کو نہ دیکھے، ہمیشہ اپنی ذات میں گم رہے۔ ایسی حالت میں زندگی یوں بسر ہوتی ہے کہ کسی کا کوئی غم نہیں ستاتا۔ سکون سے جینے کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے وجود کو بھول کر دوسروں کے معاملات کے بارے میں سوچنے اور کُڑھنے کو اوڑھنا بچھونا بنالے۔ ایسی حالت میں صرف دوسروں کی فکر لاحق رہتی ہے اور اِسی میں خوشی محسوس کرکے مطمئن رہا جاتا ہے۔
کیا واقعی ایسا ہے کہ اپنے وجود کو بھول کر انسان پُرسکون رہ سکتا ہے؟ یا صرف اپنی ذات تک محدود رہ کر باقی سب کچھ بھلادینے یا نظر انداز کرنے ہی میں عافیت ہے؟ اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ نہ تو اِس بات کی کچھ زیادہ وقعت ہے کہ انسان شدید خود غرض ہو اور نہ ہی یہ بات کسی بھی درجے میں مستحسن ہے کہ اپنے معاملات میں یکسر بے غرض ہوکر رہ جائے۔ ہر دو صورتوں میں صرف انتہا پسندی پنپتی ہے۔ زندگی انتہاؤں کے دھاروں میں بہتے چلے جانے کا نام نہیں۔ خود کو اِن دھاروں کے رحم و کرم پر چھوڑیے گا تو خدا جانے کہاں جا نکلیے گا۔ زندگی توازن کا نام ہے۔ دُکھی رہنے کا فن کسی بھی اعتبار سے کوئی ایسی راہ نہیں جس پر چلتے رہنے سے آپ منزل تک پہنچ سکیں۔ یہ تو اپنے وجود کو بلا وجہ روگ لگانے کا معاملہ ہے۔ جینے کا مزا ہے تو صرف اِس بات میں کہ انسان متوازن رہتے ہوئے، اعتدال کو حرزِ جاں بناتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ جس طرح اپنے وجود کو مرکز بناکر باقی دنیا کو اپنی راہ سے ہٹادینا مناسب نہیں‘ بالکل اُسی طرح اپنے وجود کو یکسر نظر انداز کرکے دوسروں کے غم میں گھلتے رہنا بھی کسی کام کا نہیں۔ ان انتہاؤں کی چکی میں انسان صرف پس کر رہ جاتا ہے۔ جینے کا مزا صرف اِس بات میں ہے کہ انسان متوازن اور معتدل انداز سے جیے اور کسی بھی معاملے میں پچھتاوے کی گنجائش پیدا نہ ہونے دے۔اِس کے لیے فکر و عمل کے محاذ پر اچھی خاصی تگ و دَو کرنا پڑتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved