تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     22-12-2021

وزیر توانائی کے ساتھ ایک نشست… (2)

دنیا کے کسی بھی حصے میں پائے جانے والے تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل اکثر تنازعات کا باعث بنتے آئے ہیں کیونکہ مقامی گروہ ہوں یا ریاستیں‘ سب کی کوشش رہی ہے کہ وہ ان وسائل کو صرف اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ حقِ ملکیت کی کوشش میں آپس کی لڑائیاں اور جھگڑے شروع ہو جا تے ہیں لیکن اگر ان قدرتی وسائل کو باہمی رضامندی سے باہمی استعمال میں لایا جائے تو اس سے قبیلوں یا ریاستوں میں دیر پا اور بہترین تعلقات پرورش پاسکتے ہیں۔ اتفاقِ رائے سے ایک دوسرے کی سہولت اور ترقی کیلئے بچھائی جانے والی پائپ لائن کی دوستی کے ثمرات دونوں ملکوں اور قوموں کی ترقی اور خوش حالی کا باعث بن جاتے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، اورایران جیسے مسلم ممالک اگر اپنے فروعی اختلافات ختم کر دیں تو ان کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پاکستان جیسے توانائی کے ضرورت مند وں کیلئے انتہائی معاون ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری قوموں تک یہ سہولت پہنچانے کیلئے ایسے پروجیکٹس کیلئے اکثر بھاری سرمایے کی فراہمی، سیا سی حالات اور سکیورٹی کے مسائل رکاوٹ بن جاتے ہیں لیکن اگر ان منصوبوں پر خلوص اور سنجیدگی سے عمل پیرا ہوا جائے تو ان رکاوٹوں سے گزرنے کے بعد ان سے حاصل ہونیوالے ثمرات سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔ اس میں دو رائے ہیں ہی نہیں کہ پاکستان جیسے ممالک کیلئے سپلائی کے مقابلے میں گیس سمیت توانائی کے دوسرے ذرائع کی طلب میں ہر دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
توانائی کے حصول کیلئے پائپ لائنوں کی بات کریں تو آج مراکش سے افغانستان تک یہ ہر ملک کی شدید ضرورت بنتی جا رہی ہیں لیکن کیا کریں کہ امریکہ اپنی سیاست اور بادشاہت کو قائم دائم رکھنے کیلئے توانائی کیلئے ترستی ہوئی اقوام کے لیے خون کی رگوں جیسی حیثیت رکھنے والی پائپ لائنوں پر رکھے گئے اپنے بھاری بوٹ ہٹانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ مستقبل میں اگرجنوب مغربی ایشیا میں بچھائی جانے والی گیس پائپ لائنوں کی افادیت جاننا ہو تو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی پائپ لائنوں کے موجودہ روٹس ملاحظہ کرلیں۔ گو کہ آج لیبیا کے حالات وہ نہیں لیکن توانائی کی پائپ لائن نے اٹلی، لیبیا، مراکش اور الجیریا کی دوستی بڑھانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ خلیجی ممالک کے ڈولفن پروجیکٹ کی مثال بھی سب کے سامنے ہے کہ قطر سے متحدہ عرب امارات تک گزرنے والی اس پائپ لائن نے متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر کے علا وہ سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعات کو سلجھانے میں اہم کرادر ادا کیا ہے۔
آج دہشت گردی کے بعد پاکستان کو اگر کسی عفریت کا سامنا ہے تووہ توانائی کے ذرائع کی قلت کا ہے۔ روز مرہ زندگی کا پہیہ رواں رکھنے کیلئے درکار توانائی کا حصول آج سب کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کل تک توانائی کا جو منصوبہ IPI (ایران‘ پاکستان‘ انڈیا) گیس پائپ لائن کے نام سے وجود میں آیا تھا، امریکی حکم سے پہلے IP یعنی ایران پاکستان اور اب صرف ایران تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔ وہ منصوبہ جوTAP یعنی ترکمانستان، افغانستان اور پاکستا ن کے نام سے تشکیل پایا تھا‘ اس میں انڈیا کا اضافہ کرتے ہوئے اسےTAPI کا نام دے دیا گیا لیکن اس کا وجود کہیں بھی نظر نہیں آ رہا۔ہم اس قدر مجبور اور بے بس ہو چکے ہیں کہ اپنی زندگیاں بچانے کیلئے ادویات اپنے ڈاکٹر کی مرضی سے نہیں بلکہ اس ہسپتال کے مالک کی اجا زت سے استعمال کررہے ہیں جس میں ڈاکٹر کا کلینک ہے۔ یہی غلام قوموں کی نشانی اور آزاد نسلوں کی بد قسمتی ہوا کرتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل ترکمانستان میں 7.6 ارب ڈالر لاگت کے تاپی گیس منصوبے کے افتتاح کے وقت بتایا گیا تھا کہ 2019ء میں اس کی تکمیل ہونے پر 2020ء میں یہ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہو جائے اور بھارت کواس منصوبے سے 33 ملین کیوبک میٹر گیس ملے گی۔ اس کیلئے سب سے پہلے افغانستان میں امن قائم کرنا ہو گا، پھر وہاں پر امریکہ کی من پسند حکومت بننے کے بعد پاک‘ بھارت تعلقات کو درست کیا جائے گا تاکہ پاکستان سے بھارت تک تاپی پائپ لائن بچھائی جا سکے‘ اس کے بعد کہیں جا کر ہم اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ تاپی منصوبے کا لالی پاپ دکھا کر ہمیں ایران‘ پاکستان گیس پائپ لائن جیسے کارآمد اور قابلِ عمل منصوبے سے دور بھگا دیا گیا حالانکہ اس کے لیے گزشتہ دو دہائیوں سے تیاریاں کی جاری تھیں اور جس کاخاکہ ٹیکسلا کے ایک پاکستانی انجینئر نے چالیس بر س پہلے دیا تھا جس کی تفصیلات ان شاء اﷲ آئندہ کسی مضمون میں بیان کروں گا۔
2700 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن جو ایران کی گیس فیلڈ پارس سے شروع کی گئی‘ ایران میں گیارہ سو کلومیٹر اور پاکستان میں ایک ہزار کلومیٹر طویل ہونا تھی جبکہ بقیہ چھ سو کلومیٹر گیس پائپ لائن بھارتی علاقے سے گزرنا تھی۔ اگست2008ء میں چین نے بھی جب اس منصوبے کا حصہ بننے کی با قاعدہ خواہش کا اظہار کیا تو امریکہ‘ جس کا خون پہلے ہی گوادر کی وجہ سے کھول رہا تھا‘ مزید سیخ پا ہو گیااور رہی سہی کسر سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے نے نکال دی۔ اب یہ تو ہو ہی نہیں سکتاتھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو روس کے بعد چین جیسے ایک اور عفریت کا اس طریقے سے سامنا کرنا پڑ جائے کہ وہ دنیا کے تین چوتھائی حصے تک باہمی تجارت کو بڑھانے لگے اور یہ سب منہ دیکھتے رہ جائیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وہ تجارت جو چین نے افریقہ تک بڑھانی ہے‘ اس میں وہ علاقے بھی شامل ہو جائیں گے جس پر پہلے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہی ''حق‘‘ تھا۔ ایک جانب ایران پرعائد امریکی پابندیاں کم نہیں تھیں کہ یک دم چین نے بھی اس منصوبے کیلئے امداد دینے کی نہ صرف ہامی بھر لی بلکہ اس کی تکمیل کیلئے سرمایے کی فراہمی میں اپنا وافر حصہ ڈالنے کی پیشکش بھی کر دی۔ چین کی اس پیشکش نے امریکہ کو مزید بھڑکا دیا، جس کے بعد اس کے تیور دیکھنے اور اس کی دھمکیاں سننے کے بعد ہمارے حکمرانوں کا اس سے پیچھے ہٹنا بنتا ہی تھا۔ کاش کہ کوئی اپنی سالمیت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا۔ پاکستان کو اس وقت غیر ملکی انویسٹمنٹ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ مغرب اور امریکہ حتیٰ کہ عرب ممالک بھی اب پاکستان میں کسی قسم کی سرمایہ کاری سے کترارہے ہیں۔ وعدے اور ایم او یوز تو بہت سے سائن ہو چکے ہیں لیکن عملی کام کہیں دکھائی نہیں دے رہا اور سوائے چین کے‘ کوئی دوسرا ملک پاکستان میں سرمایہ کار ی کا سوچ بھی نہیں رہا، ایسی صورتحال میں ہمیں چاہئے کہ دنیا کی ہر چھوٹی‘ بڑی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا گھر سنوارنے اور بچانے کو اولیت دیں۔
وزیر توانائی حماد اظہر کی کوششیں سر آنکھوں پر لیکن روز بروز مہنگی ہوتی بجلی کو اپنے عوام کے وسائل کے برا بر لانا بھی تو حکومت کی اولین کوشش ہونی چاہئے۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک عام مزدور، دکاندار اور نچلے درجے تک کے سرکاری ملازمین کو بجلی کے ماہانہ بل اس مقدار یا حساب سے آنا شروع ہو جائیں کہ اس کے پاس کھانے کو ہی کچھ نہ بچے۔یہ تو کہا نہیں جا سکتا کہ اگر بل ادا کرنے کے پیسے نہیں تو بجلی استعمال ہی کیوں کرتے ہیں۔ یہ تو وہ بنیادی حقوق ہیں جو آئین میں وضع کیے گئے ہیں اور یہ ہر شہری کا حق ہے کہ اسے یہ بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اگر کوئی بھی ریاست اپنے عوام کے مسائل کا احساس نہیں کرتی تو وہ ایک ناکام حکومت کے زمرے میں لکھی اور سمجھی جائے گی کیونکہ روٹی کپڑا اور مکان کے بعد‘ کبھی نظام مصطفی کے خوش کن نعرے لگائے گئے‘ کبھی ترقی و خوشحالی کے سپنے بنے گئے اور کبھی تبدیلی کی کہانیاں سنائی گئیں لیکن عوام‘ جو ان سب کی باتوں اور وعدوں پر یقین کرتے رہے‘ کے پلے میں سوائے غربت، مفلسی اور بے چارگی کے کچھ بھی نہ پڑسکا۔ عوام تو ایک طرف‘ ملک پر قرضوں کی وہ بھاری بوریاں لاد دی گئیں کہ ہر ایک کی‘ سوائے حکمرانوں، ان کے رشتہ داروں، ان کے دوستوں اور پارٹی کے خاص لوگوں کے‘ کمریں ٹوٹ گئی ہیں جنہیں سہلانے کی ناکام کوششوں میں وہ ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ (ختم)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved