تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     29-12-2021

کرپٹو تماشا

دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جو معاشی لحاظ سے کمزور اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور جہاں کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے روزانہ اپنا خون جلاتے ہیں‘ اس ملک کے حوالے سے اب خبر آئی ہے کہ وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بیس ارب ڈالر سے زائد رقم کرپٹو کرنسی میں انویسٹ کر رکھی ہے۔ جی ہاں! یہ ملک کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان ہے، جہاں تقریباً ہر امیر شخص ٹیکس چوری کرتا ہے‘ زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنے کے لیے بینک سے پیسے نکلوا لیتا ہے اور اگر کوئی غریب ان امرا سے سو روپے بھی مانگ لے تو یہ اسے ایک سو گالیاں اور طعنے دیتے ہیں مگر اپنے لیے سو کروڑ کا بنگلہ خریدنے میں انہیں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔ اپنے مال میں سے یہ غریب کو اس کا 'حق‘ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ پاکستانی قوم دنیا کی نرالی قوم ہے۔ یہ کپڑوں اور جوتوں کے مہنگے برانڈز‘ مہنگی گاڑیوں اور مہنگے ہوٹلوں میں کھانا کھانے کو معاشرے میں عزت کا معیار سمجھتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی ہر ادا‘ ہر فنکشن اور ہر ایکٹیوٹی کی تصویر ڈال کر لائکس لینے کو روشن خیالی خیال کرتی ہے اور مہنگائی اور بیروزگاری بڑھنے کا شور بھی مچاتی رہتی ہے؛ تاہم ان مسائل اور برائیوں کے خاتمے کے لیے کوشش نہیں کرتی بلکہ انہیں بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
ایک دوست کے پاس نئی ایس یو وی گاڑی دیکھ کر میں نے پوچھا: تم نے تو دو سال قبل ہی اچھی خاصی اٹھارہ سو سی سی والی چالیس لاکھ کی نئی سیڈان گاڑی خریدی تھی تو اب اچانک یہ ساٹھ لاکھ کی گاڑی لینے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی۔ وہ بولا: بھائی ساٹھ لاکھ کی گاڑی پر ساڑھے آٹھ لاکھ اون کی رقم دی ہے‘ یوں نمبر لگوا کر یہ گاڑی مجھے ستر لاکھ میں پڑی ہے۔ میں نے کہا: چلو جی یہ بتا دو کہ یہ ستر لاکھ والی گاڑی کیوں خریدی؟ تو وہ ہنستے ہوئے بولا: آج کل نئی کمپنیاں مارکیٹ میں ایس یو وی گاڑیاں لائی ہیں اور میرے دوستوں نے خریدیں تو میں نے سوچا کہ میں بھی لے لوں۔ ویسے بھی اب یہ سٹیٹس سمبل بنتا جا رہا ہے، اگر آپ مارکیٹ میں موجود نئی گاڑی نہ رکھیں تو لوگ آپ کو ٹھیک سے سلام بھی نہیں کرتے۔ ایک میرا دوست ہی نہیں‘ آج کل آپ کو ہر طرف ایسے ایسے لوگ ایس یو وی گاڑیوں میں بیٹھے نظر آئیں گے جو لوگو ں سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکتے‘ جن کی زبانیں گز گز لمبی اور خود وہ سر سے پائوں تک کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوتے ہیں، انہیں بس یہ فکر ستائے رہتی ہے کہ دنیا کے ساتھ چلنا ہے‘ شو بازی یا دکھاوے میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے اور جیب چاہے اجازت دے یا نہ دے‘ ہر صورت خرچہ کرنا ہی کرنا ہے۔
اب ایسے لوگوں کے لیے کرپٹو کرنسی کا نیا کٹا کھل گیا ہے۔ یہ انکشاف کسی اور نے نہیں بلکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے کیا ہے کہ پاکستانیوں کے پاس بیس ارب ڈالرز سے زائد کی ایسی کرپٹو کرنسی ہے جسے وہ پاکستان میں کیش بھی نہیں کروا سکتے۔ یہاں سے اندازہ لگائیں کہ ہمارے شیر خطرہ مول لینے میں دنیا کے بڑے بڑے جغادریوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ انہیں اگر آپ کہیں کہ فلاں گائوں یا تحصیل میں ہسپتال ‘سکول یا ڈسپنسری بنوا دیں تو آپ کو ایسے گھور کر دیکھیں گے جیسے آپ نے ان کے دونوں گردے مانگ لیے ہوں۔
ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا میں اس وقت صرف تجربات ہو رہے ہیں۔ اس میں ایک طرف کچھ لوگ پیسہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف بہت سے لوگ راتوں رات سڑکوں پر بھی آ رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان جو پہلے ہی شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں ان کے لیے یہ انتہائی پرکشش میدان ہے اور اسی لیے کچھ سر پھرے اسے قانونی شکل دلوانے کے لیے حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں۔ درحقیقت یہ صرف اور صرف سٹے بازی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔یہ حقیقی سرمایہ کاری ہے نہ ہی اس میں رسک فیکٹر کو کیلکولیٹ کیا جا سکتا ہے۔ آپ اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں جس کے نشانے پر لگنے کا چانس صفر اعشاریہ صفر ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔اس کے باوجود دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو اپنا سرمایہ چند ہفتوں یا مہینوں میں دوگنا چوگنا کرنے کے لیے ایسے تماشوں کی کھوج میں لگے رہتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی سات فیصد آبادی (لگ بھگ دس کروڑ افراد) نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جن میں نوجوان اور بزرگ‘ سبھی شامل ہیں۔ چونکہ یہ ایک بالکل نئی چیز ہے اس لئے بہت سے فراڈیے بھی میدان میں آ گئے ہیں اور کرپٹو کرنسی سے ملتی جلتی کرنسی اور ناموں کے ساتھ موبائل ایپس اور سروسز مارکیٹ میں لے آئے ہیں۔ یہ لوگوں کو نت نئے طریقوں سے جال میں پھنسا رہے ہیں مثلاً یہ نئے یا چھوٹے سرمایہ کار کو کہتے ہیں کہ اگر آپ ہماری کمپنی کے ذریعے اکائونٹ کھولیں گے تو آپ کو اکائونٹ کھولنے کے لیے کوئی رقم جمع نہیں کروانا پڑے گی بلکہ آپ کو دو‘ تین سو ڈالر کے برابر رقم اکائونٹ کھولتے ہی مل جائے گی جسے آپ آہستہ آہستہ ٹریڈنگ یا مزید سرمایہ کاری کے ذریعے بڑھا سکیں گے۔ اب جو رقم نئے صارف کو ملتی ہے وہ بھی ہوائی یا پھر ورچوئل ہی ہوتی ہے‘ اسے کیش بھی نہیں کرایا جا سکتا ہے لیکن چونکہ صارفین لالچ کی بنیاد پر اس میدان میں آ جاتے ہیں اس لیے وہ خود بھی سرمایہ کاری کرنے لگتے ہیں اور ان کی رقم کسی اور کے پاس جمع ہوتی رہتی ہے اور وہ اس سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جبکہ اصل صارف محض ڈیجیٹل طور پر اپنی سرمایہ کاری کو گھٹتا بڑھتا دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا ہے۔ اگر بالفرض وہ کسی اور ملک میں کوئی تیر تُکے آزما کر رقم نکلوا بھی لیتا ہے تو اسے واپس ملک میں لانے پر اسے بینک کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس پر فی الوقت کسی بھی ملک‘مرکزی بینک یا ادارے کا کنٹرول نہیں ہے۔اسے بارہ سال قبل متعارف کروایا گیا۔ سب سے زیادہ بِٹ کوائن معروف ہوا۔ تب یہ ایک ڈالر کا تھا مگر آج پینسٹھ ہزار ڈالر کا ایک بٹ کوائن فروخت ہو رہا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس میں کرپٹو کرنسی کرنسی میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ بہت سی ممالک عوام کے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس کی خریدو فروخت پر تاحال پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود غیرقانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔سب سے زیادہ دلچسپی نوجوان اور بڑے سرمایہ کار لے رہے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد روزانہ اس حوالے سے فراڈ کا شکار ہو رہی ہے۔
اس وقت دنیا بھرمیں پانچ ہزار سے زائد کرپٹو کرنسیز زیرگردش ہے۔ چونکہ ان کی طلب بڑھ رہی ہے لہٰذا ان کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ لوگ لٹنے کو تیار ہیں‘ راتوں رات سڑک پر آنے کے لیے بھی راضی ہیں لیکن حلال اور جائز طریقے سے حقیقی کاروبار میں سرمایہ کاری اور محنت کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس میں دیر لگ سکتی ہے اور لوگوں کے پاس انتظار کرنے کا وقت نہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ آج کل ہر کوئی مصروف ہے‘ دن رات موبائل فون کے نوٹیفکیشنز‘ نئے یوٹیوب چینلز‘ نئے کھانوں کی ریسیپیز‘ ڈرامہ سیریلیز اور سب سے بڑھ کر روزانہ سیلفیاں لینے کے بعد کوئی وقت بچتا ہی نہیں کہ جسے کسی مثبت کام میں لگایا جا سکے۔ فی الوقت تو ہر طرف ہاہاکار مچی ہے‘ پکڑ لو‘لے لو‘ خرید لو کرپٹو کرنسی وگرنہ پچھتاتے رہ جائو گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved