تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     01-01-2022

جمہوریت

قرآنِ کریم نے نظامِ حکومت کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں کی، البتہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بابت فرمایا: ''اور یادکیجیے! جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: (اے اللہ!) تو ایسی مخلوق کو اپنا خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد برپا کرے گی اور خوں ریزی کرے گی، حالانکہ ہم (ہر وقت) تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ نے فرمایا: بے شک میں وہ سب کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے‘‘ (البقرہ: 30)۔ الغرض قرآنِ کریم نے زمین پر نیابتِ الٰہی کو خلافت سے تعبیر فرمایا ہے۔ اسی طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''بنی اسرائیل کے امورِ سیاست (یعنی نظمِ اجتماعی کی تنظیم و تدبیر) انبیاء کرام انجام دیتے تھے، جب ایک نبی وصال فرماتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا تھا، مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، سو اب (اس نبوی فریضے کوانجام دینے کے لیے) خلفا ہوں گے‘‘۔ (بخاری: 3455)
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اجتماعی امور کے لیے باہمی مشاورت کا اصول تعلیم فرمایا ہے: ''اور وہ لوگ جو اپنے رب کے حکم کو قبول کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے کام باہمی مشورے سے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘ (الشوریٰ: 38)، (2) ''یہ اللہ کی رحمت ہی کا فیض ہے کہ (اے رسولِ مکرّم!) آپ اُن کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر آپ درشت خو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے اردگرد سے منتشر ہو جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور درپیش معاملات میں اُن سے مشورہ کرتے رہیں، پس جب آپ کسی بات کا پختہ ارادہ کر لیں تو (اس کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے) اللہ پر بھروسا کریں، بے شک اللہ بھروسا کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘ (آل عمران: 159)۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کو باہمی مشاورت سے طے کرنے کا حکم فرمایا ہے، لیکن مجلسِ مشاورت کن افراد پر مشتمل ہو، اس کی تشکیل کیسے ہو، اس کے قواعد وضوابط کیا ہوں، اسے قرآنِ مجید نے مسلمانوں کی اجتماعی دانش پر چھوڑا ہے، اگر اُس عہد کے حالات کے تناظر میں کوئی خاص طریقۂ کار حتمی طور پر طے کر لیا ہوتا، تو ہو سکتا ہے کہ آنے والے ادوار میں وہ قابلِ عمل نہ رہتا یا ناکافی ہوتا، اس لیے اسلام نے نظمِ اجتماعی کی تدبیر اور ملّی معاملات کو فیصَل کرنے کے لیے انسانی فہم کو استعمال کرنے کی گنجائش رکھی ہے اور یہی لچک اسلام کو ہر دور میں قابلِ عمل بناتی ہے۔ تیس سال تک ''خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوّۃ‘‘ قائم رہی، پھر یہ خلافت خاندانی ملوکیت میں تبدیل ہوئی، لیکن عنوان خلافت ہی رہا، اس میں شکست و ریخت بھی ہوتی رہی، خلافتِ بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار گزرے، پھر خلافتِ عثمانیہ قائم رہی، یہاں تک کہ مختلف تجربات سے گزرنے کے بعد جدید دنیا کا جمہوریت پر اجماعِ اکثری قائم ہو گیا، لیکن اس کی کسی ایک معیّنہ ہیئت پر آج تک سب کا اتفاق نہیں ہے۔
یونانی فلسفی ارسطو نے اشرافیہ کی حکومت کا تصور پیش کیا تھا اور حکمراں اشرافیہ کو قانون سے بالاتر قرار دیا تھا؛ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ''قانون تمام اہل ملک کے لیے یکساں نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مساویانہ انطباق صرف ان افراد پر ہو گا جو نسب اور قابلیت کے لحاظ سے مساوی ہیں، رہا حکمران طبقہ تو ان لوگوں کے لیے قانون نہیں بنایا جاتا، بلکہ یہ لوگ بذاتِ خود قانون ہیں اور یہ کھلا مذاق ہے کہ ان اکابر کو دستور کی پابندی پر مجبور کیا جائے‘‘ (اَلسِّیَاسَہ، ص: 217)۔
دوسرے مقام پر انہوں نے لکھا: ''یہ عدل کے خلاف ہے کہ ایسے سردار کو کسی عامی کے بدلے میں قتل کیا جائے یا اسے جلا وطن کر دیا جائے اور اسے عام لوگوں کی سطح پر اترنے پر مجبور کیا جائے‘‘ (اَلسِّیَاسَہ، ص: 234)۔ ارسطو نے اپنے اس نظریہ کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک حکایت بھی بیان کی ہے: ''خرگوشوں کا ایک جلسہ عام ہوا، اس میں ایک قرارداد منظور کی گئی کہ تمام حیوانات میں مساوات کا قاعدہ جاری ہونا چاہیے، جب شیروں نے یہ قرارداد سنی تو انہوں نے کہا: پہلے ہمارے جیسے طاقت ور پنجے اور تیز دانت لائو، پھر ہمارے ساتھ مساوات کا مطالبہ کرو‘‘۔ الغرض ارسطو کے نزدیک اشرافیہ قانون سے بالاتر تھے اور حکمرانی بھی اسی طبقے کا حق تھا، آج کے دور کی طرح ''ون مین ون ووٹ‘‘ کا نظریہ کارفرما نہیں تھا۔
موجودہ مرحلے تک انسانیت کا سفر کافی انقلابات، تجربات اور ارتقا کے مراحل سے گزر کر پہنچا ہے۔ کسی حد تک یہ کہنا بھی بجا ہے کہ سرِدست جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں ہے، مگر یہ بھی بجا ہے کہ جمہوریت بذاتِ خود ایک فریب ہے۔ آج تک انبیائے کرام کے علاوہ کوئی ایسی انسانی حکومت قائم نہیں ہوئی کہ جسے اُس عہد کے لوگوں یعنی جمہور نے مکمل اتفاقِ رائے سے قبول کیا ہو۔ اس لیے جدید جمہوریت بھی اپنی تمام تر آب وتاب کے باوجود اقلیت کی اکثریت پر حکمرانی کانام ہے، یعنی بیشتر مواقع پر جمہوری طور پر منتخب حاکم یا نمائندہ تمام جمہور کی اکثریت تو درکنار، ووٹ کا حق استعمال کرنے والوں کی اکثریت کا بھی نمائند ہ نہیں ہوتا۔ صرف فرانسیسی اور امریکی صدارتی نظام میں رائے کا حق استعمال کرنے والوں کی اکثریت کا نمائندہ ہوتا ہے، لیکن بڑی تعداد میں جو لوگ رائے کا حق استعمال نہیں کرتے، اُن کی توثیق اُسے حاصل نہیں ہوتی، جبکہ اُسے تمام جمہور پر حکومت کرنیکا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ماضی میں کراچی میں کئی لاکھ رائے دہندگان کے حلقۂ انتخاب میں سے دو ہزار کے لگ بھگ ووٹ لینے والے قومی اسمبلی میں پورے حلقے کی نمائندگی کے منصب پر فائز رہے ہیں، بلوچستان میں تو ایسا بالعموم ہوتا ہے۔
جمہوریت کو جوازعطاکرنے کے لیے یہ اصول مان لیا گیا ہے کہ اجماعی یا اکثری دانش انفرادی یا اقلیتی دانش سے بہتر ہوتی ہے اور یہ کہ عوام کا فیصلہ ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ موجودہ دور کے چند سکالرز اور ماضی میں غلام احمد پرویز کا بھی یہی نظریہ تھا کہ قانون سازی کے لیے قرآن و سنت کی وہی تعبیر معتبر ہو گی جو پارلیمنٹ یا مجلسِ قانون ساز کرے۔ پرویز صاحب تو مقامِ نبوت کو بھی مرکزِ ملت سے تعبیر کرتے تھے جو صرف اُس عہد کے لیے معتبر تھا اور بعد کے ادوار کے لیے یہی حق وہ ہر عہد کے حاکمِ وقت کے لیے تسلیم کرتے تھے، جبکہ اسلام میں بالفرض ساری انسانیت کا بھی اجماع ہو جائے، تو اللہ کے قطعی حکم کو نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے نہ ردّ کیا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال نے تہذیبِ مغرب اور مغربی جمہوریت کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد کہا تھا:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے، کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
نیز انہوں نے کہا:
متاعِ معنیِ بیگانہ از دُوں فطرتاں جَوئی
زِموراں شوخیِ طبعِ سلیمانی نمی آید
گریز از طرزِ جمہوری غلامِ پختہ کاری شو
کہ از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانی نمی آید
ترجمہ: ''تم ایک اچھوتے اور حکیمانہ خیال کی توقع ایسے لوگوں سے کرتے ہو جو جاہل اور پست فطرت ہیں۔ چیونٹیوں سے سلیمان علیہ السلام کی ذہانتِ طبع کی توقع کرنا عبث ہے، جمہوری طرزِ حکومت سے گریز کرو، پختہ کار اور راسخ العقیدہ بن جائو، کیونکہ دو سو گدھوں کے دماغ کو جمع کر لیا جائے تو ایک کامل انسان کی فکر سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ ہو سکتا ہے بعض لوگ کہیں: ''علامہ اقبال نے جمہور کی توہین کی ہے، وہ جمہوریت سے ذہنی مطابقت نہیں رکھتے تھے، اسلامی تہذیب کے غلبے پر یقین رکھتے تھے، ملّت کی سربلندی و سرفرازی چاہتے تھے، کوئی یہ پھبتی بھی کس سکتا ہے کہ وہ حقیقت پسند نہیں تھے، خوابوں کی دنیا کے باسی تھے اور نئی نسل کو آگے کی جانب لے جانے کے بجائے ماضی کے حسین خوابوں میں مگن رکھنا چاہتے تھے، لیکن بہرحال وہ اسلام کو انسانیت کی نَجات کا حتمی اور قطعی ذریعہ سمجھتے تھے۔
جمہوریت اپنی اصل ساخت اور جوہری اعتبار سے لبرل سیکولر ہے، کیونکہ مطلق جمہوریت میں پیش آمدہ امور کی بابت فیصلہ حق و باطل کے معیار پر نہیں، بلکہ کثرتِ رائے پر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مغربی جمہوریت میں ہم جنس پرستی اور بہت سے محرمات مثلاً: شراب، سود اور جوئے وغیرہ کو قانونی جواز دے دیا گیا ہے، زنا بالرضا قانونی اعتبار سے حلال ہے، وغیرہ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگرچہ دستوری اعتبار سے قرآن و سنت کو بالادستی عطا کی گئی ہے اور آئین میں کئی ایسے آرٹیکل اور آئینی ادارے موجود ہیں جو شریعت کے مطابق یا مخالف ہونے کے بارے میں رائے دیتے ہیں، لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی منظوری دینا بھی پارلیمنٹ پر لازم نہیں ہے۔
شاہنواز فاروقی صاحب لکھتے ہیں: ''امریکہ اور یورپ کا نظریہ لبرل ازم ہے، سیکولر ازم ہے اور لبرل ازم کی بنیاد ان اصولوں پر ہے: ''فرد کی آزادی، جمہوریت، مساوات، آزاد مارکیٹ اور لبرل ازم سیکولر ازم کی نظریاتی فوقیت‘‘۔ نیز ساری دنیا جانتی ہے کہ ''اظہارِ رائے کی آزادی کی آڑ میں اہلِ مغرب نے وقتاً فوقتاً توہینِ رسالت کو شعار بنا رکھا ہے، حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے دوٹوک انداز میں کہا ہے: ''یہ آزادیِ اظہار کا ناجائز استعمال ہے‘‘، آزادیِ اظہار کے حق کو اتنا بے لگام نہیں ہونا چاہیے کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جائے، یہ عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، مغرب سے یہ پہلی توانا آواز ہے جو روسی صدر نے بلند کی ہے۔ ستاون ممالک کے مسلم حکمرانوں پر لازم ہے کہ اب اس مسئلے کو عالمی فورموں پر شدت کے ساتھ اٹھائیں اور روسی صدر کی تحسین کریں، شاید امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی اس مسئلے کی شدت کا احساس ہو جائے۔
ہمارے ہاں ستم بالائے ستم یہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کو بھی آئین کے تقاضوں کے مطابق چلایا نہیں جاتا۔ قانون سازی کے لیے جو ضوابطِ کار ہیں، اُن پر بھی لفظاً و معناً یعنی کماحقہٗ عمل نہیں ہوتا، تنقیح کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد قانون سازی کا جو طریقہ آئین میں درج کیا گیا ہے، اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا، ایک دن میں ایک سو ایک آئینی ترامیم منظور کر لی جاتی ہیں اور کبھی ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دن میں تینتیس یا اس سے زائد قوانین منظور کر لیے جاتے ہیں، لہٰذا آئین میں جو کچھ درج ہے، وہ بھی محض زیبِ داستاں اور نمائش و آرائش کے لیے ہی محسوس ہوتا ہے، عمل درآمد کے لیے نہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved