تحریر : بیرسٹر حمید باشانی تاریخ اشاعت     02-01-2022

جب صدرایوب خان نے امریکہ کو وعدے یاد دلائے

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ سال 1964ء کے خاتمے اور65ء کی ابتدا میں پاک بھارت تعلقات ایک ہنگامہ خیز دورمیں داخل ہو گئے تھے ۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں ممالک کی لیڈرشپ ایک ایسے گھوڑے پر سوار ہو چکی ہے جس کی باگ ان کے ہاتھوں میں نہیں ۔1964ء اور 68ء کے درمیان ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے برصغیر کو ہلا کر رکھ دیا اور مسئلہ کشمیرپیچیدہ تر شکل اختیار کر گیا۔ ان واقعات میں رن آف کچھ کا بحران، آپریشن جبرالٹر، آپریشن گرینڈسلام، 1965ء کی پاک بھارت جنگ، تاشقند کانفرنس، معاہدہ تاشقند، سوویت یونین کی طرف سے پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنے کا فیصلہ، پشاور سے امریکی جاسوسی طیارے اڑانے کی سہولت کا خاتمہ اور دوسرے ایسے واقعات شامل تھے۔ ان میں سے ہر واقعہ اپنی جگہ بہت اہم تھا جس کے مسئلہ کشمیر پرانتہائی گہرے اور دوررس اثرات پڑے ۔ ان میں سے پہلا واقعہ رن آف کچھ کا بحران تھا‘ جس کا احوال اور اس پر پاکستانی موقف کا مکمل اظہار صدر ایوب خان کے ایک خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے گیارہ مئی 1965ء کو امریکی صدر لنڈن جانسن کو لکھا۔
صدر ایوب لکھتے ہیں ''میں آپ کو برصغیر میں حالیہ مہینوں میں بھارت کی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ ان میں دہگرام کے پاکستانی علاقے پربھارت کا زبردستی قبضہ، رن آف کچھ کے متنازع علاقے میں بھارتی فوج کا جارحانہ مارچ اورکچھ دوسرے پاکستانی سرحدی علاقوں پر ہندوستانی مسلح افواج کی طرف سے پوری طاقت کا ارتکازشامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے رن آف کچھ کے متنازع علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش کو جوابی فوجی اقدامات سے ہی ناکام بنایا گیا جو کہ ہم حالات کے پیش نظر کرنے پر مجبور ہوئے اور ہمیں اپنی افواج کو بھارت کے خلاف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کرنا پڑا ہے ۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین تنازعات کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر رہا ہے ۔ جس وقت میں یہ خط لکھ رہا ہوں سری نگر اور بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے دیگر مقامات سے کشمیری رہنماؤں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ان بدقسمت کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی فائرنگ کی خبریں آ رہی ہیں جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ خود کو بھارتی فوجی تسلط سے آزاد کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارت کی طرف سے اپنے رہنما شیخ عبداللہ کو تیسری بار قید کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کو منصفانہ اور باوقار بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت کو بھارت کی طرف سے نظر انداز کرنے کی یہ ایک اورمذموم مثال ہے۔ اسی رویے کا مظاہرہ رن آف کچھ کے تنازع کے حوالے سے بھارتی موقف سے ہوتا ہے ۔ یہاں ایک بار پھر جیسا کہ کشمیر کے معاملے میں ہوا، حکومتِ ہند دعویٰ کرتی ہے کہ متنازع علاقہ ہندوستانی علاقہ ہے۔ درحقیقت اس سرزمین سے متعلق تنازع پہلے بھی کئی مواقع پر دونوں ملکوں کے مابین زیر بحث آچکا ہے ۔ تازہ ترین بات چیت 1960ء میں ہوئی جب دونوں حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس تنازع پر مزید غور کیا جائے گا اور تب تک کوئی فریق' سٹیٹس کو‘کو ڈسٹرب نہیں کرے گا۔ بھارت نے پاکستان پر رن آف کچھ میں جارحیت کا الزام لگایا ہے لیکن حقیقت میں یہ ہندوستان ہی تھا جس نے اس سال جنوری تا اپریل اپنی افواج کو متنازع علاقے میں منتقل کیا، وہاں فوجی چوکیاں قائم کیں اور اس کے آس پاس کے علاقے میں مکمل زمینی، سمندری اور فضائی مشقیں کیں۔ اس طرح اس نے جبری طور پر'سٹیٹس کو‘ کو توڑدیا۔ آٹھ اپریل کو ہندوستانی افواج نے ڈنگ میں ایک پاکستانی چوکی پر حملہ کیا تھا تاکہ اس علاقے پر فوجی قبضہ مکمل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ پاکستانی افواج پہلی بار ایکشن میں آئیں اور ساڑھے تین ماہ تک رن آف کچھ میں ہندوستان کی جارحانہ کارروائیوں کو صبر سے دیکھنے کے بعد 19 اپریل کو پاکستانی افواج پہلی بار متنازع علاقے میں داخل ہوئیں۔متنازع علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم نے کھلے عام پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر ہم نے ہندوستان کی طرف سے طے شدہ حل کو قبول کرنے سے انکار کیا تو ہندوستان اپنی مرضی کے دیگر مقامات سے پاکستان پر حملہ کرے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ متنازع علاقہ بھارت کے قبضے میں رہے گا، جبکہ ہمیں اسے خالی کرنا پڑے گا‘ لیکن ہم سے بندوق کی نوک پر اس طرح کے مطالبے کو قبول کرنے کی توقع کم ہی کی جا سکتی ہے ۔
ہندوستان نے عملی طور پر پوری ہندوستانی فوج اور فضائیہ کو تمام ہتھیاروں سمیت، پاکستان کی سرحدوں پر جارحانہ انداز میں جمع کر دیا ہے ۔ پاکستان کو قدرتی طور پر اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی افواج کو دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کرنا پڑا ہے ۔ ہم نے سلامتی کونسل کو اس خطے میں امن کو لاحق خطرے سے بھی آگاہ کر دیا ہے ۔ اس وقت پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں۔ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین جنگ برصغیر کے کروڑوں لوگوں کو اپنے تمام خوفناک نتائج کے ساتھ لپیٹ میں لے سکتی ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس آخری لمحے میں بھی ہندوستانی لیڈروں کے لیے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ توقف کریں اور غور کریں کہ ہندوستان کے حقیقی مفادات کہاں ہیں اور وہ فوجی قدم اٹھانے سے باز رہیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں جناب ِصدر، ہم نے آپ کی حکومت کو بار بار خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو اس پیمانے پر مسلح کرنا صرف ایسے حالات کا باعث بن سکتا ہے جس سے ہندوستان کو حوصلہ ملے گا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کیا جائے ۔ کچھ عرصے سے بھارت دو فوجیں بنا رہا تھا، ایک مبینہ طور پر چینیوں سے لڑنے کے لیے اور دوسری پاکستان کو کنٹرول کرنے کے لیے ، لیکن جب اسے مناسب موقع ملا تو وہ ان دونوں فوجوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔ آپ کی حکومت یہ کہتی رہی کہ ہندوستان کا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں ہے اور آپ نے ہندوستان کو مسلح کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے آپ کی حکومت کے ترجمانوں نے بار بار ہم پر جارحیت کی صورت میں ہماری مدد کے لیے آنے والی امریکی یقین دہانیوں کی یاد دہانی کرائی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کا جنگ کے دہانے پر ہونا ان خدشات کی تصدیق کرتا ہے جس کا ہم نے بارہا اظہار کیا ہے کہ ایک جارح اور ناقابل بھروسا ہندوستان کو مسلح کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ ہماری سرحدوں پر ہندوستانی فوجوں کے تعیناتی سے پیدا ہونے والی دھماکہ خیز صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے ہم نے آپ کے سفیر کو مشورہ دیا ہے کہ آپ کی حکومت مسٹر شاستری کو پاکستان کے خلاف جارحیت کی صورت میں امریکی یقین دہانیوں کی یاد دلانے پر غور کرے ، اس امید پر کہ ایسی یاد دہانی مسٹر شاستری اور دیگر ہندوستانی رہنماؤں کو برصغیر کو ایسی جنگ میں ڈالنے سے روکنے میں مدد دے گی جو اس خطے میں آزادی اور امن کے مقصد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘‘
صدر ایوب کے اس خط کے جواب میں بھارت نے اپنی سابقہ پوزیشن دہرائی کہ پاکستان نے متنازع علاقوں پر حملہ اور قبضہ کرنے میں پہل کی ہے اور وہ بھارت کے خلاف امریکہ کے دیے ہوئے ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ آگے چل کر حالات سنسنی خیز رخ اختیار کر گئے ، جن کا احوال آئندہ سطور میں پیش کیا جائے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved