تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     06-01-2022

نیا سال اور نئی وبا کا چیلنج

دنیا بھر میں کورونا کا نیا ویری اینٹ اومیکرون قیامت ڈھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکا اور یورپ میں لاکھوں نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ حکومتیں پریشان ہیں۔ مختلف النوع اقدامات زیرِ غور ہیں۔ کہیں طاقتور ویکسین تیار کرنے کی بات ہو رہی ہے تو کہیں لاک ڈاؤن کے ذریعے معاملات کو قابو میں رکھنے کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔ بھارت میں بھی اومیکرون کے حوالے سے شور برپا ہے۔ بھارتی اخبارات خاصے غیر منطقی بلکہ مضحکہ خیز انداز سے اومیکرون کے پھیلاؤ کی کوریج کر رہے ہیں۔ چار پانچ کروڑ کی آبادی والی کسی ریاست میں یومیہ محض آٹھ دس کیس سامنے آنے پر بھی اخبارات چیخ پڑتے ہیں اور عوام کو ڈرانے لگتے ہیں۔ اخبارات کے اداریوں میں حکومت پر زور دیا جارہا ہے کہ اومیکرون کے بے قابو ہونے سے پہلے ہی ایسے اقدامات کیے جائیں کہ عوام کا اعتماد مجروح نہ ہو اور وہ حکومتی مشینری کی طرف سے خاطر خواہ اقدامات کے حوالے سے پُرامید رہیں۔ پاکستان میں اومیکرون کے حوالے سے ابھی تک بہت زیادہ واویلا نہیں کیا گیا۔ حکومت اس معاملے میں قدرے محتاط ہے اور بریفنگز کے ذریعے سنسنی پھیلانے سے گریز کر رہی ہے۔ بھارت میں اومیکرون کے حوالے سے شدید پریشانی کا پایا جانا کسی بھی اعتبار سے حیرت انگیز نہیں کیونکہ گزشتہ برس کورونا کے ویری اینٹ ڈیلٹا کے پھیلاؤ نے ملک بھر میں قیامتِ صغریٰ کی سی کیفیت پیدا کردی تھی۔ بھارت کے طول و عرض میں وبا کے پھیلاؤ نے ایسی کیفیت پیدا کردی جو بہت حد تک شرمناک تھی۔ لوگوں نے خواتین اور بزرگوں کا احترام بھی بالائے طاق رکھ دیا۔ ایسے کیس بھی سامنے آئے کہ گھر کے کسی فرد میں کورونا وائرس کی تشخیص پر اُسے محض الگ تھلگ رکھنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ گھر سے نکال ہی دیا گیا!
صد شکر کہ پاکستان میں یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ یہاں بھی لوگ کورونا کی وبا سے خوفزدہ تو دکھائی دیے مگر اِس قدر نہیں کہ حواس باختہ ہو جائیں۔ چند ایک کیس ایسے ضرور سامنے آئے جن میں لوگ حواس سے محروم دکھائی دیے مگر مجموعی طور پر پورے معاشرے میں لوگ ذہنی طور پر متوازن رہے اور کچھ بھی ایسا کرنے سے مجتنب رہے جس سے اخلاقی اقدار داؤ پر لگتی دکھائی دیتی ہوں۔ پورے پاکستان میں کورونا کی وبا نے پاؤں پسارے مگر لوگوں کو حواس باختہ کرنے میں ناکام رہی۔ اومیکرون نے کئی ممالک میں خوب ہاتھ پاؤں نکالے ہیں اور لوگوں کو شدید خوف میں مبتلا کرچکا ہے۔ امریکا اور یورپ ایک بار پھر غیر معمولی تیاری کی حالت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں خطوں کے لوگ چونکہ کورونا کی وبا کو خاصی ہلاکت خیزی کے ساتھ بھگت چکے ہیں اِس لیے ابھی سے غیر معمولی احتیاط دکھائی دے رہی ہے۔ ویکسی نیشن پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ لوگوں کو ایک بار پھر یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے احتیاط نہ برتی، نئے سرے سے ویکسین نہ لگوائی تو بہت بُرا ہوگا۔
پاکستان جیسے معاشروں کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ ان معاشروں میں لوگ صحتِ عامہ کے حوالے سے اُتنے پریشان نہیں جتنے معاشی معاملات کے حوالے سے ہیں۔ ہونا بھی چاہیے۔ دو برس کے دوران معیشت کا جتنا نقصان ہوا ہے اُس کی تلافی اب دس پندرہ برس میں بھی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بیروزگاری پھیلی۔ افلاس کی سطح بلند ہوئی اور رہی سہی کسر افراطِ زر نے پوری کردی۔ پٹرولیم مصنوعات اور یوٹیلٹیز کے نرخوں نے پاکستان سمیت کئی چھوٹے معاشروں کے لیے بقا کا سوال کھڑا کردیا ہے۔ ہمارے یہاں کئی عشروں سے توانائی کا بحران درپیش ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران یہ بحران شدت اختیار کرگیا اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے نے عام آدمی کے لیے ڈھنگ سے جینے کی ساری گنجائش ختم کردی۔ دو برس کے دوران کورونا کی وبا کے ہاتھوں پیدا ہونے والی معاشی خرابیوں نے معاشرتی الجھنوں کو بھی جنم دیا ہے۔ سکولوں کی بندش کے نتیجے میں آن لائن پڑھائی کا آپشن اپنایا گیا جو زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ امتحانات جس انداز سے لیے گئے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ایسے میں والدین پریشان ہیں کہ بچوں میں ذہانت کا فروغ یقینی بنانے کے لیے کیا کریں۔ ٹیوٹرز بھی ایک خاص حد تک جاسکتے ہیں۔ سکولوں کی بندش نے طلبہ کا اعتماد خطرناک حد تک مجروح کیا ہے۔ تعلیمی اداروں کے ماحول میں جس انداز سے تعلیم دی جاتی ہے وہ آن لائن طریقوں سے کسی طور ممکن نہیں۔ ایسے میں بچے پڑھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ اس کے نتیجے میں اُن کی سیکھنے اور ذہن کو بروئے کار لاکر سوچنے کی صلاحیت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک دل خراش حقیقت ہے کہ آن لائن پڑھنے والوں میں بھی وہ جوش و جذبہ نہیں پایا جاتا جو کلاس روم کی شناخت ہوا کرتا ہے۔ یہ تو ہوا تعلیم کا معاملہ۔ معاشی خرابیوں کے نتیجے میں معاشرتی عیوب بھی بڑھ گئے ہیں۔ سوال صرف چوری چکاری اور لُوٹ مار کے بڑھنے کا نہیں ہے۔ اِس سے بھی کئی قدم آگے جاکر ایک بڑا، بنیادی مسئلہ زندگی میں خاطر خواہ دلچسپی لینے سے گریز کا ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران لوگوں میں عمومی سطح پر وہ جوش و خروش دکھائی نہیں دیا جو ہمارے معاشرے کی شناخت ہے۔ ہم یہ حقیقت کیسے نظر انداز کردیں کہ ہم نے ایک قوم کی حیثیت سے ہمیشہ ہر پریشان کن صورتِ حال کا پامردی اور خندہ پیشانی سے سامنا کیا ہے۔
کورونا کی پہلی دو لہروں کے دوران پاکستانی معاشرے کا رسپانس بہت حد تک معقول رہا۔ پھر بھی پوری دنیا کی کاروباری بندش سے جو نقصان پہنچ سکتا تھا وہ تو پہنچ کر ہی رہا۔ ہاں، ہم نے غیر ضروری طور پر بہت زیادہ محتاط اور حواس باختہ ہونے کی کوشش نہیں کی۔ ایسا کچھ ہوا ہوتا تو معاملات انتہائی خرابی کی طرف چل دیتے۔ یہ ایک خوش کن حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں کورونا کے نئے ویری اینٹ نے بھلے ہی شدید بدحواسی کی لہر پیدا کی ہو، پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ لوگ تاحال قابلِ رشک حد تک پُر اعتماد ہیں۔ اومیکرون کے حوالے سے امریکا اور یورپ کے علاوہ ایشیا، اوشیانا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی غیر معمولی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ان کے میڈیا آؤٹ لیٹس اس معاملے کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بہت پریشان کن ہے کیونکہ کورونا کی پہلی دو لہروں کے دوران پیدا ہونے والی معاشی خرابیوں کے شدید منفی اثرات سے کماحقہٗ نمٹنے میں اب تک کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ اگر دنیا بھر میں معیشتیں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی نذر ہوگئیں تو ہمارے پاس بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے سوا چارہ نہ رہے گا۔ اگر لوگ اومیکرون سے خوفزدہ نہ بھی ہوئے تو باقی دنیا میں معاشی عمل کے رک جانے کی صورت میں ہمارے لیے معاشی عمل کو معطل کرنے کے سوا چارہ نہ ہوگا۔ قومی معیشت ایک ڈیڑھ عشرے سے ڈانواں ڈول ہے۔ ایسے میں کورونا کی وبا نے معاملات کو مزید بگاڑا ہے۔ اب ہمارے پاس معیشت کی بحالی پر سب سے زیادہ توجہ دینے کے سوا آپشن نہیں۔ حکومت کے پاس اب پونے دو سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔ ان بیس ماہ کے دوران ایسا بہت کچھ کرنا ہے جس سے تھوڑی بہت مقبولیت رہ جائے۔ حکومت اپنے بیشتر وعدے نبھانے میں ناکام رہی ہے مگر اب اگر وہ تھوڑی سی کوشش کرے تو چند ایک معاملات میں تھوڑی بہت کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ عوام کو تھوڑا سا ریلیف درکار ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کے نرخ اگر تھوڑے سے نیچے لائے جاسکیں تو عام آدمی کے آنسو کسی حد تک پونچھے جا سکیں گے۔
حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اومیکرون سے نمٹنے کے نام پر ملک کے معاشی اور معاشرتی معاملات کو مزید بگڑنے سے روکیں۔ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ چند ایک وعدے ضرور پورے کرسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کو دوسرے بہت سے چیلنجز کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا سے بھی نمٹنا پڑا۔ یہ اُس کے لیے ایک بڑا ڈِس ایڈوانٹیج تھا۔ اس حوالے سے تھوڑے بہت گریس مارکس دیے جاسکتے ہیں۔ بہر کیف! حکومت کو نئے سال میں نئی وبا سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگی۔ اس مرحلے پر دانش کا مظاہرہ انتہائی بنیادی شرط ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved