تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     16-01-2022

کراچی کی پکار

کراچی کے علاقے کشمیر روڈ پر بدھ کے روز اپنے گھر میں بیٹھا نوجوان شاہ رخ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا کہ باہر گیٹ پر کسی نے بیل دی۔ شاہ رخ نے باہر جا کر جیسے ہی اپنے گھر کا دروازہ کھولا‘ سامنے اپنی والدہ اور بہن سے ایک ڈاکو کو لوٹ مار کرتے ہوئے دیکھا۔ نوجوان شاہ رخ نے جیسے ہی ڈاکو کو آواز دی کہ یہ کیا کر رہے ہو تو اس سفاک ڈاکو نے سیدھی فائرنگ کر کے شاہ رخ کو زخمی کر دیا اور اس کی بہن سے سونے کی چوڑیاں لے کر فرار ہو گیا۔ شاہ رخ کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ اس کے گھر والے اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال لے کر گئے لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ گزشتہ 2 ہفتوں سے شادی کی خوشیوں میں مگن گھرانہ یک دم مقتل میں بدل گیا۔ اپنے دل میں نئی خوشیوں، کئی امنگوں اور ایک خوش گوار ازدواجی زندگی کا خواب لے کر آنے والی نئی نویلی دلہن اپنی شادی کے 4 دن بعد ہی بیوہ ہو گئی۔ محلے میں سب کی آنکھ کا تارا، ہر ایک دوست، ساتھی اور ہمسائے کے دکھ درد میں ان کا ہاتھ بٹانے والا اور ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والا حافظِ قرآن شاہ رخ منٹوں میں ایک سفاک، لالچی اور قاتل ڈاکو کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
شہر قائد میں دن دہاڑے اپنے گھر کے باہر سٹریٹ کرائم کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھونے والے حافظ شاہ رخ کے قتل نے ایک بار پھر کراچی میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ کراچی جیسا ایک بڑا میٹروپولیٹن سٹی جس کو کبھی روشنیوں کا شہر قرار دیا جاتا تھا، جس کو پاکستان کی معاشی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے‘ وہ کراچی جو ایک دن بند ہو جائے تو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ آئے روز بڑھتی وارداتیں اور سر بازار ہونے والے معصوم جانوں کے ضیاع نے کراچی والوں کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔
قانون مکڑی کا جالا ہے‘ اس میں چھوٹے کیڑے مکوڑے ہی پھنستے ہیں۔ یہ مقولہ ایک آفاقی حقیقت ہے۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ با اثر اور با اختیار افراد کے سامنے قانون موم کی طرح ہے‘ جسے وہ جب چاہیں اپنی پسند کے مطابق ڈھال لیں۔ شاہ زیب خان قتل کیس میں سزا یافتہ شاہ رخ جتوئی اس کی ایک واضح مثال ہے؛ تاہم اس ہفتے یہ انکشاف ہوا کہ موصوف کراچی کی سینٹرل جیل کے بجائے گزری میں ایک ہسپتال کی بالائی منزل پر ٹھاٹ باٹ سے رہ رہے تھے۔ چھان پھٹک کی گئی تو معلوم پڑا کہ شاہ رخ جتوئی چند دن سے نہیں بلکہ کئی ماہ سے جیل کے بجائے ہسپتال میں اپنے دن گزار رہا تھا‘ جہاں تمام تر سہولیات میسر تھیں۔ ذرائع کے مطابق ہسپتال کو شاہ رخ جتوئی کے خاندان نے کرائے پر حاصل کر رکھا تھا۔ جیل سے ہسپتال منتقلی کے پیچھے بھی سندھ کی کسی اعلیٰ شخصیت کا ہاتھ تھا جہاں وہ سزا یافتہ مجرم نہیں بلکہ عام انسانوں والی زندگی گزار رہا تھا۔ میڈیا سکرینوں پر لوگوں نے ہسپتال کا وہ کمرہ بھی دیکھا جہاں شاہ رخ جتوئی ٹھہرا ہوا تھا۔ اس معاملے کی مزید چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ کراچی میں ہسپتالوں کا پورا نیٹ ورک ہے جو سزا یافتہ افراد کو ایسی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ شاہ رخ جتوئی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ان جیسے 21 قیدیوں کو مختلف نجی اور سرکاری ہسپتالوں سے واپس جیل پہنچایا گیا۔ کئی پرائیویٹ ہسپتالوں میں ان با اثر قیدیوں کو سہولت کے ساتھ رکھا جاتا تھا۔ سرکاری ہسپتالوں میں این آئی سی وی ڈی، جناح اور سول ہسپتال میں ایسے مجرم قید کاٹ چکے ہیں۔ میڈیا پر واویلا مچنے کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ قیدی جیل کے بجائے ہسپتالوں میں کیا کر رہے تھے۔ آئی جی جیل خانہ جات قاضی نذیر کی رپورٹ کے مطابق 8 سزا یافتہ اور 13 انڈر ٹرائل قیدیوں کو بیماری کی آڑ میں ہسپتالوں میں رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں علاج کے بہانے رکھے جانے والے قیدیوں میں سب سے زیادہ دو سال پانچ مہینے تین دن شاہ زیب قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی نے گزارے۔ اسے چند منٹ کے پروکٹو سکوپی پروسیجر کے لیے ڈھائی سال نجی ہسپتال میں رکھا گیا۔ حکومت سندھ کے لاڈلے شاہ رخ جتوئی کو 2 جون 2019 کو سول ہسپتال پھر بے ویو اینڈ مدر کیئر پھر قمرالاسلام ہسپتال میں رکھا گیا۔ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو جیل کے میڈیکل آفیسر کی سفارش پر ہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کرایا گیا۔ کراچی سینٹرل جیل سے ہسپتال میں داخل کئے جانے والے سزا یافتہ قیدیوں میں جامو جعفر، سید نعیم اختر، نصرت شاد، رونی الیاس، شاہ رخ جتوئی کے نام سامنے آئے۔ دیگر قیدیوں میں خادم حسین، میر محمد اور ایم کیو ایم کے احمد سعیدی عرف سید بھرم شامل ہیں۔ انڈر ٹرائل قیدیوں کی فہرست میں فرمان علی، محمد ریحان، عدنان نسیم، ملک شکیل، مراد، ہارون رشید، مقصود، امیر علی، محمد دلاور، کشور کمار، سائمن ایبرو، محمد یعقوب اور حمید اللہ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ کے دور میں سزا یافتہ اور انڈر ٹرائل قیدیوں کومختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا تھا۔ روشنیوں کا شہر کراچی با اثر افراد کے سامنے کچھ اس طرح سے قانون کی اندھیر نگری بنا ہوا ہے۔ راوی سب چین ہی چین لکھتا ہے؛ تاہم عام آدمی کے لیے حالات کبھی اچھے نہیں رہے۔ اس شہر میں گزشتہ سال جرائم کی شرح پر نظر ڈالیں تو 2021 میں 438 قتل ہوئے۔ جنوری میں 40، فروری میں 32، مارچ میں 34، اپریل میں 45، مئی میں 36، جون میں 56، جولائی میں 45، اگست میں 33، ستمبر میں 36، اکتوبر میں 43، نومبر میں 38 افراد قتل کئے گئے۔ شہر میں اقدام قتل کی 558 وارداتیں ہوئیں۔ دنگا فساد اور ہنگامے 1120 بار ہوئے، سرکاری عملے پر حملوں کے 337 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اغوا کی 2586 اور اغوا برائے تاوان کی 39 وارداتیں ہوئیں۔ بڑی شاہراہوں پر ڈکیتی کی 6 اور لوٹ مار کی 5 وارداتیں ہوئیں، 2 بینک، 2 پٹرول پمپ، 114 گھر، 44 دکانوں میں ڈکیتیاں ہوئیں، 17 پٹرول پمپ، 332گھروں اور 316 دکانوں میں چوری کی وارداتیں ہوئیں۔ کار چوری کے 1202 اور کار چھیننے کے 120واقعات رپورٹ ہوئے۔ موٹر سائیکل چوری کی 25469 اور چھینے جانے کی 3204 وارداتیں ہوئیں۔ پچھلے سال کے یہ اعداد و شمار ماہ نومبر تک کے ہیں اور ان میں بھی وہ واقعات شاید نہیں ہوں گے جو رپورٹ نہیں ہو سکے۔ روشنیوں کے شہر کے با اثر افراد کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے بھی اجالے کی کرن نکل آتی ہے۔ عام آدمی کی زندگی میں امن کی صبح طلوع ہونے میں ابھی نہ جانے اور کتنا وقت لگے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس شہر کے باسیوں کو کب انصاف ملے گا؟ کب ایسا امن اور سکون ملے گا جس میں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ آسودہ زندگی گزار سکیں۔ شاہ رخ کا بہیمانہ قتل اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved