تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     28-01-2022

سمندر: اِک ذرے کے اندر

اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ''اللطیف‘‘ بھی ہے، اردو میں ترجمہ کرنے والوں نے اس کا ترجمہ ''باریک بین‘‘ کیا ہے۔ عربی گرائمر کے اعتبار سے اس میں مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ عربی ڈکشنری میں اس کا معنی یوں بیان کیا گیا ہے: '' ھُوَیَعْلَمُ دَقَائِقُ الْاُمُورِ وَخَفَایَاھَا وَمَا فِی الضَّمَائِرِ وَالصُّدُوْر‘‘ وہ (اللہ) معاملات و احکام کی باریکیوں کو بھی جانتا ہے اور ان کے رازوں سے بھی آشنا ہے اور جو کچھ مخلوقات کے ضمیروں اور سینوں میں چھپا ہے‘ اسے بھی جانتا ہے۔ ایسی صفات والی ہستی ''اللطیف‘‘ ہے۔
قارئین کرام! ہماری اس زمین پر دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری ''لارج ہیڈرن کولڈر‘‘ ہے یعنی اس میں ذرات کو Smash کیا جاتا ہے‘ ٹکڑے ٹکڑے‘ پاش پاش کیا جاتا ہے اور پھر ذیلی ذرات پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سرحد ''سرن‘‘ پر واقع اس لیبارٹری میں ایک تازہ تجربہ کیا گیا ہے۔ 19 جنوری 2022ء کو ''Scitechdaily.com ‘‘ میں اس کی تفصیل کو شائع کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق‘ لیبارٹری میں دوپرو ٹونز کو باہم ٹکرایا گیا تو اس کے اندر ''کوارکس اور گلونز‘‘ کے ذرات سامنے آئے۔ ان دونوں کے ذیلی ذرات کو سائنسدانوں نے ایک مشترکہ نام Partons دے رکھا ہے۔ یہ جب باہم کردار ادا کرتے ہیں تو یہیں سے ''ہگزبوزون‘‘ نمودار ہوتا ہے‘ اس کو خدائی ذرے (God Particle) کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اسی کے کردار سے مادہ اپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔ پھر اس کی بھی دو اقسام ہیں۔ ایک کو ''ڈبلیو‘‘ اور دوسرے کو ''زیڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے‘ یعنی ہگزبوزون بھی ایک جوڑے سے وجود میں آتا ہے۔ یہ مادے کو وجود دیتے رہتے اور غائب ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کردار اگر ختم ہو جائے تو ساری مادی کائنات کا وجود یکدم ختم ہو کر رہ جائے۔ جی ہاں! پروٹونز میں جو کوارکس ہیں وہ بھی جوڑا جوڑا ہیں۔ ایک ''اَپ‘‘ ہے اور دوسرا ''ڈائون‘‘ ہے۔
پروٹونز کو جب پاش پاش کیا گیا تو اس سے جو انکشاف ہوا وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن یوں ہے کہ سائنسدان پکار اٹھے:
There is also a sea of Quark- antiquark pairs in the proton.
یہاں پروٹون میں تو کوارکس کے جوڑوں کا ایک سمندر موجود ہے۔
سائنسدان مزید کہتے ہیں کہ:
This sea is theoretically made of all types of Quarks, bound together by Gluons.
نظریاتی سائنس کے اعتبار سے یہ جو سمندر ہے‘ یہ کوارکس کی تمام اقسام سے بنایا گیا ہے جنہیں گلونز ذرات نے باہم باندھ رکھا ہے۔
قارئین کرام! غور کیجئے کہ وہ ایٹم یا ایٹمی ذرہ جو انسانی آنکھ کو دکھائی نہیں دیتا‘ اس کا ذیلی ایک ذرہ پروٹان ہے۔ اس کے اندر کوارکس نامی جوڑوں پر مشتمل ذرات کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ اس کی پھر اقسام ہیں۔ اب اس سمندر میں موجود ذرات پر ریسرچ کی جاتی رہے‘ میں سمجھتا ہوں انسان کو مزید اربوں‘ کھربوں سال زندگی دی جائے‘ تب بھی وہ اس سمندر کی حقیقت کو نہ پا سکے تو ہم بے چارے اس سمندر کے خالق کی ''کماحقہٗ‘‘ کیا پہچان کر سکتے ہیں اور کیا قدر کر سکتے ہیں؟ سبحان اللہ! اسی لیے مولا کریم نے فرمایا: نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں جبکہ وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ اس لیے کہ وہی لطیف و خبیر ہے‘‘ (الانعام: 103)۔ یعنی وہ ایسا لطیف ہے کہ لطیف ترین چیزوں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔
مزید آگے بڑھتے ہیں تو یہی ''سرن لیبارٹری‘‘ آگے بڑھ کر 19 جنوری 2022ء کو ایک رزلٹ دیتی ہے۔ اس رزلٹ کو ''جنرل فیزیکل ریویو لیٹر‘‘ نے شائع کیا ہے کہ لیبارٹری میں ''کوارک گلون پلازما‘‘ تیار کیا گیا اور اسے جب Smash کیا گیا تو حیران کن منظر یہ سامنے آیا کہ ہگزبوزون سے آگے پانچ (Elusive) پارٹیکلز یعنی ذرات موجود ہیں۔ ان کا مادے کی موجودگی کے اندر کردار کیا ہے‘ یہ ابھی تحقیق طلب ہے کہ ابھی ہگزبوزون کا پورا کردار سمجھ نہیں آیا اور اب ان پانچ کا کیسے اور کب آئے گا‘ کوئی پتا نہیں۔ جب ان کا پتا کچھ کچھ معلوم ہوگا تو آگے ان کے ذیلی زراعت کا کون سا دریا سامنے آئے گا‘ کچھ معلوم نہیں۔
کیا خوب فرمایا ربِ رحمن نے سورۃ الرحمن میں '' تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرتے جائو گے؟‘‘۔
قارئین کرام! میں کیا کیا عرض کروں کہ سائنس کی دنیا میں حیرتوں کے بے شمار جہان ہیں۔ اسی تجربے میں جس کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں‘ ایسا پارٹیکل بھی سامنے آیا جس کو سائنسدانوں نے (Daughter Particle) کا نام دیا یعنی اس ذرے کو لڑکی یا بیٹی کا نام دیا۔ حقیقت کا اظہار یہ ہے کہ جتنے بھی ذرات ہیں‘ جوڑے جوڑے ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے جنم لے رہے ہیں‘ پیدا ہو رہے ہیں‘ ان کو پیدا کرنے والا ایک خالق ہے۔ اس کی صفت ہے کہ وہ ایک ہے‘ وہ اللہ بے نیاز ہے۔ ''لم یلد‘‘ہے اور ''لم یولد‘‘ ہے اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ حضور رسول کریمﷺ کی مبارک کی زبان سے قل کہہ کر مولا کریم نے اعلان کروایا ہے۔ یہی اعلانِ حق ہے! جو اس اعلان کو نہ مانے گا‘ نامراد رہے گا۔ قرآنِ مجید مزید اعلان کرتا ہے کہ ''پاک ہے وہ جس نے تمام جوڑوں کو پیدا فرمایا ہے‘‘۔
قارئین کرام! بات ہو رہی تھی '' کوارک گلون ذرات کے پلازما‘‘ کی۔ اس پلازما کو جب سرن لیبارٹری میں Smash کیا گیا‘ یعنی پاش پاش کیا گیا تو ''ایکس پارٹیکل‘‘ کا انکشاف ہوا۔ یہ نیا پارٹیکل ہے‘ اس کے اندر کوارکس کی تعداد چار ہے‘ انہیں ٹیٹرا کوارکس بھی کہا گیا ہے ۔ یہ باہم کس طرح بندھے ہوئے ہیں‘ سائنس دان کہتے ہیں اس حقیقت کو ابھی ہم جاننے اور پہچاننے سے قاصر ہیں؛ تاہم اس قدر ضرور معلوم ہوا ہے کہ یہ جو ایکس ذرہ ہے‘ یہ Mysterious Primordial Particle یعنی طلسمانی قسم کا پارٹیکل ہے۔ ابتدائی اور اولین ذرہ ہے۔ لگ بھگ 4ارب سال جب یہ کائنات ایک بڑے دھماکے کے ساتھ وجود میں آئی تو جو پہلا سیکنڈ تھا‘ اس کے اربویں‘ کھربویں حصے میں جونہی Dawn of time یعنی وقت کا چہرہ نمودار ہوا تو ساتھ ہی اس ایکس ذرے نے بھی وجود پکڑا۔ سرن کے سائنسدان مسٹر ''لی‘‘ کہتے ہیں کہ مندرجہ انکشاف کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا؟ اس پر آئندہ سالوں میں ہم مزید آگے بڑھیں گے، یعنی صحیح معنوں میں کائنات کے آغاز کا علم حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید کئی سال درکار ہیں۔
قارئین کرام! سرن کے سائنسدانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سرن لیبارٹری میں تجربات کے لیے اربوں‘ کھربوں ذرات موجود ہیں۔ اللہ‘ اللہ! کہاں تک تجربات ہوں گے۔ انسان بے چارہ بے بس اور کمزور ہے۔ یہی سائنسدان آج سے کئی سو سال پہلے تک کہتے تھے کہ یہ کائنات مستقل ہے‘ ہمیشہ سے ہے‘ ہمیشہ رہے گی۔ یہی بات قریشِ مکہ بھی کہتے تھے۔ حضور کریمﷺ نے جب قیامت کی بات کی اور فرمایا کہ یہ ساری کائنات ایک دن تباہ ہو جائے گی اور نئی کائنات نئے قوانین کے ساتھ وجود میں آئے گی۔ ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا تھا: ''یہ انکاری لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت ہم پر نہیں آئے گی۔ (اے رسولؐ!) انہیں بتا دیجئے۔ کیوں نہیں(آئے گی!) قسم ہے مجھے میرے رب کی کہ یہ تو تمہارے پاس آ کر رہے گی۔ وہی غیبوں کا جاننے والا ہے۔ اس سے ذرے برابر بھی کوئی شئے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ چاہے وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں ہے۔ ذرے سے کوئی شئے چھوٹی ہے یا بڑی‘ سب ایک واضح کتاب میں (درج) ہے‘‘ (سبا: 3)۔
جی ہاں! ذرات کی سائنس کا ایک حد تک علم حاصل کرنے کے بعد اب سائنسدان مان گئے ہیں کہ یہ کائنات عارضی ہے‘ ایک دن تباہ ہونا اس کا مقدر ہے۔ اللہ اللہ! مندرجہ بالا آیت میں قرآنِ مجید نے واضح فرمادیاکہ ذرے سے جو چھوٹی چیز ہے‘ وہ بھی اللہ کے سپر کمپیوٹر یعنی اس کی کتاب میں درج ہے۔ اس کی لیے ''اصغر‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا‘ یعنی اپنی آخری حد تک چھوٹی ترین شئے۔ اس میں تمام سب پارٹیکلز یعنی ایٹم کے ذرات آگئے۔ ان ذرات کی آگے اقسام لاتعداد ہیں۔ صرف ایک ذرے کا بائونڈنگ سسٹم ختم ہو جائے تو ساری کائنات ختم ہو جائے۔ یہ ختم اس لیے نہیں ہو رہی کہ بنانے والا اپنے وقت پر اسے ختم کرے گا۔ فرمایا: ''بھلا وہ (اللہ) نہیں جانتا کہ جس نے پیدا کیا؟ وہ لطیف و خبیر ہے‘‘ (الملک: 14)۔
آئیے! دنیا کی مکاریوں اور فریب کاریوں سے نکل کر اپنے اس خالق مولا کالطف و کرم مانگیں‘ جو ذرے کے اندر ذرات کا سمندر پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی مخلوق اور بندوں کیلئے مہربان بنیں۔ یقین جانیے! اس کے لطف و کرم کا یہی راستہ ہے کہ ایمان کے بعد ہمارا اخلاق لطیفانہ اور کریمانہ بن جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved