تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     17-02-2022

روس ضروری‘ امریکا مجبوری

دو ڈھائی عشروں کے دوران علاقائی اور عالمی سطح پر جو کچھ ہوا‘ اُس نے کسی اور کیلئے شاید اُتنی مشکلات اور الجھنیں پیدا نہ کی ہوں جتنی بھارتی قیادت کیلئے پیدا کی ہیں۔ بھارتی سیاست ڈھائی عشروں غیر معمولی تغیرات سے دوچار رہی ہے۔ اقتدار کانگریس جیسی سیکولر جماعت سے انتہا پسند ہندوؤں کو منتقل ہوچکا ہے۔ انتہا پسند جمہوری اقدار سے کہیں بڑھ کر خوف کی فضا پیدا کرنے اور طاقت کے اندھے مظاہرے کرکے اقتدار سے چمٹے رہنے کے قائل ہیں۔ طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے؟ اقلیتوں کو دھمکانا‘ اور بس۔ اس کے نتیجے میں ملک کا معاشرتی ڈھانچا کمزور ہوتا جارہا ہے۔ پہلے مسلمانوں کو نشانے پر لیا گیا اور پھر مسیحیوں کی باری آئی۔ اِن دونوں کی مشکلات دیکھ کر دیگر اقلیتوں نے بھی انتہا پسند ہندوؤں کے حوالے سے خوش فہمی کے دائرے میں گھومنا ترک کردیا اور اب تمام اقلیتیں بہت حد تک ایک پلیٹ فارم پر آتی جارہی ہیں۔ مودی سرکار نے بھارت کو بند گلی میں پہنچا دیا ہے۔ معاشرتی معاملات انتہائی پیچیدگی کا شکار ہیں۔ کم و بیش پانچ عشروں کے دوران بھارت کے قائدین نے علوم و فنون اور روایات و ثقافت کے میدان میں جو کچھ جمع اور حاصل کیا تھا‘ وہ اب داؤ پر لگ چکا ہے۔ پوری دنیا میں بھارت کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو جدید علوم و فنون میں مہارت کا حامل ہونے کے باوجود فکری اور ثقافتی سطح پر بے مثال پستی کا شکار ہے۔ سَنگھ پریوار نے بھارت کو علم و ثقافت کے حوالے سے جوہڑ میں تبدیل کردیا ہے۔ تمام معاملات کو گھما پھراکر مسلم دشمنی کے چوراہے پر پہنچادیا گیا ہے۔ مودی سرکار نے ملک کی چھاپ ہی بدل ڈالی ہے۔ اب بھارت کا نام سنتے ہی دنیا بھر میں ایک ایسے ملک کا تصور ابھرتا ہے جہاں اقلیتیں محفوظ نہیں اور بالخصوص مسلمانوں سے انتہائی نامناسب سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
بھارت ہمیشہ کئی کشتیوں میں سوار رہا ہے۔ تعلیم و تربیت کی مضبوط بنیاد اور بڑی مارکیٹ ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اُس نے خطے کے دیگر ممالک کو کمزور رکھنے اور اپنے مفادات کو ہر حال میں محفوظ بنائے رکھنے پر توجہ دی ہے۔ ایک دور تھا کہ جب وہ سوویت بلاک میں تھا۔ روس سے دوستی نمایاں تھی۔ دونوں ممالک کے مابین غیر معمولی نوعیت کے تجارتی، ثقافتی اور علمی روابط تھے مگر تب بھی بھارت کے لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو یہی راگ الاپتے تھے کہ بھارت غیر جانبدار ہے۔ اُنہوں نے ''غیر وابستہ تحریک‘‘ بھی شروع کی تھی جس کے ذریعے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ تاثر یہ دیا گیا کہ بھارت کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں مگر در حقیقت وہ ہر طرف سے مال بٹورنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ ایک طرف وہ سوویت یونین کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا اور دوسری طرف امریکا اور یورپ کو بھی نالج ورکرز اور دیگر ہنر مند فراہم کرنے پر متوجہ رہتا تھا۔ امریکا اور یورپ میں لاکھوں بھارتی باشندے مختلف شعبوں میں کام کرکے ملک کوخطیر زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں۔ یہ کوئی بُری بات نہیں مگر وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا یقینا بُری بات ہے۔ بھارتی قیادت نے ہر دور میں اپنے تجارتی اورمعاشی مفادات کو ترجیح دی ہے اور اِس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ چین سے سرحدی کشیدگی اپنی جگہ‘ مگر دونوں ممالک کے مابین تجارت 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی ہے! بھارتی قیادت معاشی مفادات کے معاملے میں تمام اختلافات کو بے شرمی کی حد تک بھول جاتی ہے۔ وہ صرف اتنا یاد رکھتی ہے کہ اُسے ہر حال میں زیادہ سے زیادہ معاشی مفادات کو یقینی اور محفوظ بنانا ہے۔ بھارتی میڈیا نے چین سے تجارت کے معاملے کو اچھال کر مودی سرکار کو مطعون بھی کیا مگر اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ معاشی مفادات کی چوکھٹ پر قومی غیرت کو قربان کرنا ہر دور میں بھارتی قیادت کا وتیرہ رہا ہے۔
بھارت کیلئے حقیقی مشکلات اُس وقت پیدا ہوئیں جب سوویت یونین شکست و ریخت سے دوچار ہوا۔ تب بھارت کے لیے کھل کر سامنے آنا لازم ہو گیا۔ امریکا اور یورپ کو بھارت کے دوغلے پن سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی کیونکہ بھارت اُن کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کے حصول کا اہم ذریعہ تھا۔ بھارت سے امریکا اور یورپ‘ دونوں کے معاشی مفادات جڑے تھے اِس لیے وہ ایشیا میں دوسروں کو تو ناراض کرتے رہے مگر بھارت کے معاملے میں محتاط رہے۔ پھر معاملہ کچھ یوں بھی ہے کہ بھارت سے امریکا اور یورپ کو مذہب یا اعتقاد کے نام پر کبھی کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ اول تو اہلِ مغرب کو مذہب سے کچھ خاص سروکار نہیں اور پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بھارت کے لوگ کسی بھی ماحول میں بخوشی رنگ جانے کو تیار رہتے ہیں۔ مغرب کو جس نوعیت کے فرمانبردار قسم کے تارکینِ وطن درکار ہیں‘ وہ اُنہیں بھارت سے خوب ملتے ہیں۔ اب مشکل یہ ہے کہ ایک طرف روس اور چین ہیں‘ اور دوسری طرف امریکا۔ روس ضروری ہے اور امریکا مجبوری۔ روس سے بھارت کے تعلقات پانچ عشروں تک بہت اچھے رہے۔ اس دوران روس نے بھارت کو بہت کچھ دیا۔ سرد جنگ کے خاتمے سے گو کافی فرق پڑا مگر بھارت پھر بھی کچھ نہ کچھ بٹورنے کی کوشش میں لگا رہا۔ روسی قیادت اب بھارت کو سرِ فہرست نہیں رکھتی‘ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ بھارتی قیادت صرف اپنے مفادات کی چوکھٹ پر سجدہ ریز رہنے کی عادی ہے۔
یوکرائن کا بحران بھارت کیلئے ایک بڑی آزمائش ہے۔ اگر روس نے یوکرائن پر یلغار کی تو دنیا یہ دیکھنے کیلئے بے تاب ہو گی کہ بھارت اس حملے کی مذمت اور مخالفت میں کس حد تک جاتا ہے‘ نیز یہ کہ جاتا بھی ہے یا نہیں! روس چاہے گا کہ بھارت اس معاملے میں غیر جانبدار رہے۔ روس کے ساتھ چین بھی ہے۔ اگر بھارت نے یوکرائن بحران پر روس کا ساتھ دیا تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ چین کی بھی اطاعت قبول کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی اور یورپی قیادت بھی بھارتی ردِعمل دیکھنے کیلئے بے قرار ہو گی۔ ان دونوں خطوں میں بھارتی باشندے بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ بھارتی قیادت اگر امریکا اور یورپ میں اپنے باشندوں کے مفادات کو دیکھتے ہوئے مغرب کی طرف لڑھکی تو ایک طرف روس ناراض ہوگا اور دوسری طرف چین بھی سرحد پر دباؤ بڑھاسکتا ہے۔ یہ بحران بھارت کے معاشی مفادات کے حوالے سے بھی دو راہا ثابت ہوسکتا ہے۔
اس وقت بھارت اندرونی سطح پر شدید معاشرتی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی خرابیاں عروج پر ہیں۔ پانچ بڑی ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں جن کے نتائج سے ملے جلے رجحانات سامنے آرہے ہیں۔ نریندر مودی اس وقت کوئی بہت بڑا تجربہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ملک بھر میں اقلیتیں متحد ہوتی جارہی ہیں۔ پنجاب، ہریانہ، ہماچل اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سکھ کسانوں نے کامیاب تحریک چلاکر مودی سرکار کو آئینہ ہی نہیں دکھایا بلکہ مطالبات کے آگے جھکنے پر مجبور بھی کیا۔ کسانوں کی کامیابی نے اقلیتوں کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ اب نچلی ذات کے ہندو بھی کمر کس رہے ہیں۔ انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف ملک بھر میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ اعتدال پسند ہندو چاہتے ہیں کہ مودی اور اُن کے ٹولے کا مقابلہ کرنے والے میدان میں آئیں۔ کانگریس بھی اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے مودی کے طرفداروں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ ایسے میں مودی اور اُن کے ٹولے کے لیے بیرونی محاذ پر کوئی بڑا کھیل کھیلنا ممکن نہ ہوگا۔ ؎
جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلب
سر پہ سورج بھی نہیں‘ راہ میں سایا بھی نہیں
مہا راج الجھن میں ہیں۔ کچھ نہ کچھ ایسا طے کرنا ہے کہ بات دونوں طرف نبھ جائے مگر عالمی سیاست میں ایسا نہیں ہوتا۔ سمجھوتے کی صورت میں صرف بھارتی قیادت نہیں بلکہ امریکا اور یورپ بھی کئی خطوں سمیت مسلم دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یوکرائن بحران اور اُس کے بعد کی صورتِ حال میں بھارتی قیادت کس طور متوازن رہ پاتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved